ColumnRoshan Lal

سٹارٹ اپس کا انکیوبیشن سینٹر

سٹارٹ اپس کا انکیوبیشن سینٹر
تحریر : روشن لعل
ایوب غوری پاکستان کے ایسے کامیاب بزنس مین ہیں جو کاروباری دنیا میں اپنے سفر کا آغاز(Start ups)کرنے والے نوجوانوں کو نیشنل انکیوبیشن سینٹر لاہور (NICT Lahore)میں صرف رہنمائی اور سہولیات ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ ان کے لیے ایسا سازگار ماحول بھی پیدا کرتے ہیں جہاں نئے کاروباری منصوبوں کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ ہو سکیں۔ ایوب غوری نے ایک ملاقات کے دوران نیشنل انکیوبیشن سینٹر لاہور کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ برطانیہ کے دارالحکومت میں 2014ء کے بعد سے ہر سال لندن ٹیک ویک(London Tech Week)کے نام سے ایک بزنس میلہ منعقد کیا جارہا ہے۔ اس بزنس میلے کی خصوصیت یہ ہے کہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے لوگ، دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کار اور بزنس کمیونٹی سے وابستہ معروف شخصیات کاروباری دنیا کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کی گئی حکمت عملیوں اور جدید رجحانات سے آگاہ ہونے کے لیے ہر برس لندن ٹیک ویک میں شرکت کرتے ہیں۔ لندن ٹیک ویک میں پیش کیے گئے ایک ماڈل کے تحت سٹارٹ اپ (Start ups ) کی ترقی کے لیے مختلف کاروباری اداروں سے حاصل کردہ گرانٹ سے ایک فنڈ بنایا گیا تھا۔ہماری انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے لندن ٹیک ویک میں پیش کیے گئے مذکورہ ماڈل سے متاثر ہو کر پاکستان میں سٹارٹ اپس کی ترقی کے لیے بھی فنڈ قائم کرنے اور ایک ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت اگنائیٹ نیشنل ٹیکنالوجی(Ignite National Technology Fund)) کے نام سے ادارہ اور فنڈ قائم گیا۔ اگنائیٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ نے لاہور سمیت پاکستان کے آٹھ بڑے شہروں میں نیشنل انکیوبیشن سینٹر بنائے تاکہ سٹارٹ اپس کے ذریعے کاروباری دنیا میں قدم رکھنے والے نوجوانوں کی کامیابی کو ممکن بنانے کے لیے انہیں ضروری رہنمائی اور سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
گو کہ عام لوگوں کے لیے سٹارٹ اپ ایک نئی اصطلاح ہے لیکن یہ اصطلاح ترقی یافتہ کاروباری دنیا میں 1970 کی دہائی سے استعمال ہورہی ہے۔ سٹارٹ اپ سے مراد ایسی کمپنی کا قیام ہے جسے چلانے کے لیے جدید ترین سائنسی ایجادات اور جدید معاشی رجحانات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے منفرد اختراعی سوچ کے تحت ایسا نیا کاروباری منصوبہ شروع کرنے کا خطرہ مول لیا جائے جو اپنی مثال آپ ہو۔ جہاں تک سٹارٹ اپ انکیوبیشن سینٹر کی بات ہے تو اسے سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ انکیوبیٹر کیا ہوتا ۔ عام خیال یہی ہے کہ انکیوبیٹر ایک ایسا آلہ ہے جسے پرندوں کے انڈوں کو مصنوعی طور پر سینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس آلہ کو بھی انکیوبیٹر کہا جاتا ہے جس میں کسی وجہ سے ناتواں اور کمزور پیدا ہونے والے انسانی بچوں کو اس وقت تک رکھا جاتا ہے جب تک وہ اپنے طور پر عام ماحول میں زندگی گزارنے اور زندہ رہنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ سٹارٹ اپس کے لیے انکیوبیشن سینٹر ، انکیوبیٹر کی طرح کام کرتے ہوئے ایسے غیر روایتی کاروباری رجحانات کو تحفظ اور فروغ دیتے ہیں جو منفرد ہوں اور کچھ عرصہ بعد اپنے طور پر نشوو نما اور ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انکیوبیشن سینٹر، سٹارٹ اپس کے لیے ایک ایسی سہولت ہے جو نئی کمپنیوں کو کام کی جگہ اور فنڈنگ تک رسائی جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے رہنمائی کرنے کے ساتھ اس مقصد کے تحت مزید ہر ممکن تعاون فراہم کرتے ہیںکہ انہیں اپنے منفرد کاروباری منصوبے کو قابل عمل حقیقت بنانے میں مدد مل سکے۔
این آئی سی لاہور اس طرح کام کر رہا ہے کہ یہاں جو سٹارٹ اپس منصوبے منظور کیے جاتے ہیں انہیں رہنمائی اور علاوہ ازیں تعاون فراہم کرنے کا دورانیہ ایک سال کا ہوتا ہے ۔ سٹارٹ اپس منصوبوں کو منظوری کے بعد ایک سال کے دوران اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ گو کہ نیشنل انکیوبیشن سینٹر لاہور منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مالی تعاون سے چلایا جارہا ہے لیکن حکومت اس کے لیے پیشگی فنڈز فراہم نہیں کرتی بلکہ ایک ورک پلان منظور کرانے کے بعد سینٹر کی انتظامیہ کو خود پیشگی اخراجات کرنے پڑتے ہیں جنہیں حکومت کو بل جمع کرانے کے بعد خرچ کردہ رقم وصول کی جاتی ہے۔یہاں بینکوں کے ذریعے کسی سٹارٹ اپ کو قرض کی شکل میں فنڈز تو فراہم نہیں کیے جاتے لیکن جو سٹارٹ اپس بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مناسب ریونیو اکٹھا کرتے ہیں انہیں قرض نہیں بلکہ گرانٹ کی شکل میں فنڈز دیئے جاتے ہیں۔ گرانٹ میں فراہم کیے گئے فنڈ کی رقم تیس سے پچاس ملین روپے تک ہو سکتی ہے۔ نیشنل انکیوبیشن سینٹر لاہور میں ایک سال کے دوران 50نئے سٹارٹ اپس کو رہنمائی اور سہولتیں فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ اس گنجائش کے مطابق ہر چھ ماہ بعد 25نئے سٹارٹ اپس آئیڈیاز کو رہنمائی اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے منتخب کیا جاتا۔ نئے سٹارٹ اپس کے لیے لوگوں کا رجحان کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے بیچ کے لیے 25سٹارٹ اپس کو منتخب کیا جانا تھا جبکہ موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد 550تھی۔ اسی طرح دوسرے بیچ کے لیے 1200درخواستیں وصول ہونے کے بعد تیسرے بیچ کے لیے اب تک 1485درخواستیں وصول ہو چکی ہیں۔ یہاں درخواستوں کو منظور یا نامنظور کرنے کا معیار کسی کی ڈگری ہر گز نہیں ہے۔ یہاں کسی سٹارٹ اپ کے لیے درخواست منظور ہونے کا معیار یہ ہے کہ کسی کی طرف سے سامنے آنے والا بزنس آئیڈیا کیا ہے، اس آئیڈیا کو کس طرح تیار اور پیش کیا گیا ہے ، جو لوگ سٹارٹ اپ کے ایگزیکٹو ہیں ان کا پس منظر اور سابقہ ریکارڈ کیا ہے، ان کے پیش کردہ آئیڈیا کے مطابق سٹارٹ اپ کے لیے جس قدر سرمایہ درکار ہے ، کیا اس سرمائے کا درست تخمینہ لگایا گیا ہے اور جو تخمینہ پیش لگایا گیا ہے انہیں اس کے مطابق سرمایہ دستیاب ہو نے کا امکان کس حد تک ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ سٹارٹ اپ کا آئیڈیا لے کر آئے ہیں وہ اس کے لیے کس حد تک اپنے اور کس حدت تک دوسروں کے سرمائے پر انحصار کر رہے ہیں اور ان پر سرمایہ کاری کے لیے اعتماد کرنے والوں کی اپنی ساکھ کیا ہے۔ ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے سٹارٹ اپ کے لیے کوئی درخواست منظور یا نامنظور کی جاتی ہے ۔ درخواستوں کی منظوری میں کسی کی ڈگری کا رعب ہر گز کارگر ثابت نہیں ہوتا کیونکہ بزنس کی تعلیم میں ڈگریاں رکھنے والے زیادہ تر لوگ خود سٹارٹ اپس کے لیے پیشرفت کرنے کی بجائے ایسا کرنے والوں کے ہاں ملازمت کرنے کو ترجیح دیتے پائے جاتے ہیں۔
گو کہ پروڈکشن کے شعبے میں سٹارٹ اپس کی مثالیں کم ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس شعبے میں دلچسپی یہاں ناپید ہے۔ نیشنل انکیوبیشن سینٹر فار ائیرو سپیس راولپنڈی کے تحت، سٹارٹ اپس ڈرون پروڈکشن کے شعبے میں کامیابی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں جو نوجوان اپنے والدین کی جائیداد ، جمع پونجی کو دائو پر لگا کر یا پھر قرض کے چنگل میں پھنس کر یورپی ممالک میں ڈنکی لگا نے کی غیر قانونی کوششیں کرتے رہتے ہیں انہیں کوئی بزنس آئیڈیا لے کر نیشنل انکیوبیشن سینٹر لاہور (NICT Lahore)میں اس کے مدارلمہام ایوب غوری سے رجوع کرنا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button