نیند کے دوران جسم پر مہلک دبائو

نیند کے دوران جسم پر مہلک دبائو
تحریر : انجینئر بخت سید یوسفزئی
جاپان کے معروف ماہرِ دردِ عضلات اور ریڑھ کی ہڈی ڈاکٹر ہیروشی تاناکا کی تازہ ترین تحقیق نے صحت کے ماہرین اور عام لوگوں دونوں کو چونکا دیا ہے۔ اس تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ عام تکیہ، جسے لوگ سکون، آرام اور بہتر نیند کی علامت سمجھتے ہیں، درحقیقت خاموشی کے ساتھ انسانی گردن، کندھوں اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ تحقیق ٹوکیو اسپائن انسٹی ٹیوٹ میں کی گئی، جہاں جدید سائنسی آلات کے ذریعے انسانی جسم پر نیند کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹر تاناکا کے مطابق نیند کے دوران گردن کا قدرتی خم برقرار رہنا نہایت ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہی خم ریڑھ کی ہڈی کے توازن کو درست رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے عام تکیے اس قدرتی ساخت کو سہارا دینے کے بجائے اسے بگاڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں گردن ایک غیر فطری زاویے پر آ جاتی ہے اور یہی زاویہ کئی گھنٹوں تک برقرار رہتا ہے۔اس تحقیق میں جدید مسل مانیٹرنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جو پوری رات عضلات کی سرگرمی، تنا اور حرکت کو ریکارڈ کرتی ہے۔ حاصل ہونے والے ڈیٹا نے واضح طور پر دکھایا کہ گردن اور کندھوں کے درمیان موجود نہایت اہم عضلہ، یعنی ٹریپیزیئس مسل، نیند کے دوران بھی مکمل طور پر آرام نہیں کرتا بلکہ مسلسل تنا کی حالت میں رہتا ہے۔عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ نیند جسم کے لیے مرمت اور بحالی کا وقت ہوتی ہے، مگر ڈاکٹر تاناکا کی تحقیق اس تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ ان کے مطابق اگر نیند کے دوران جسم غلط پوزیشن میں رہے تو نیند خود ایک ایسی اذیت بن جاتی ہے جو بظاہر محسوس نہیں ہوتی مگر اندرونی طور پر مسلسل نقصان پہنچاتی رہتی ہے۔
ڈاکٹر تاناکا اس کیفیت کی وضاحت ایک سادہ مثال سے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو دن کے وقت آٹھ گھنٹے تک گردن موڑ کر یا ایک ہی زاویے پر کھڑا رہنے کو کہا جائے تو وہ چند منٹ بھی برداشت نہیں کر پائے گا، مگر یہی عمل ہم روزانہ نیند کے دوران غیر شعوری طور پر کرتے ہیں۔
اس مسلسل دبائو کا پہلا اثر عام طور پر گردن کے درد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ابتدا میں یہ درد ہلکی اکڑن یا معمولی کھچائو محسوس ہوتا ہے، جسے لوگ عام تھکن یا نیند کی کمی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں اور سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہی درد شدت اختیار کر لیتا ہے اور گردن کی حرکت میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔ بعض افراد کو گردن موڑنے، جھکانے یا سیدھا رکھنے میں دشواری ہوتی ہے، جو روزمرہ کاموں، گاڑی چلانے اور حتیٰ کہ آرام سے بیٹھنے میں بھی مسئلہ بن جاتی ہے۔
گردن کے درد کے ساتھ سر درد کی شکایت بھی عام ہو جاتی ہے، جو اکثر کنپٹیوں، آنکھوں کے پیچھے یا سر کے پچھلے حصے میں محسوس ہوتی ہے۔ یہ درد خاص طور پر صبح کے وقت زیادہ ہوتا ہے، جس سے دن کا آغاز ہی بوجھل اور پریشان کن ہو جاتا ہے۔
نیند جو عام حالات میں انسان کو تازگی، توانائی اور ذہنی سکون فراہم کرتی ہے، آہستہ آہستہ غیر موثر محسوس ہونے لگتی ہے۔ انسان پوری رات بستر پر رہنے کے باوجود خود کو تھکا ہوا، بے چین اور غیر مطمئن پاتا ہے، جس کا اثر اس کے مزاج اور کارکردگی دونوں پر پڑتا ہے۔
ایسی صورتحال میں اکثر لوگ مہنگے علاج، درد کش ادویات، مساج تھراپی یا فزیوتھراپی کا سہارا لیتے ہیں۔ اگرچہ ان طریقوں سے وقتی طور پر کچھ آرام مل جاتا ہے، مگر مسئلہ دوبارہ لوٹ آتا ہے کیونکہ بنیادی وجہ بدستور موجود رہتی ہے۔ ڈاکٹر تاناکا کے مطابق اصل مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک نیند کے دوران گردن کی پوزیشن درست نہ کی جائے۔ محض علاج پر انحصار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ٹپکتے نل کے نیچے برتن رکھ دیا جائے مگر نل بند نہ کیا جائے۔ تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل عضلاتی تنائو ریڑھ کی ہڈی کے اوپری حصے پر اضافی دبائو ڈالتا ہے، جو وقت کے ساتھ اعصابی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہاتھوں میں سن ہونا، کندھوں میں جلن یا بازوئوں میں کمزوری جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
جدید طرزِ زندگی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دن بھر موبائل فون، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر استعمال کرنے سے گردن پہلے ہی دبائو کا شکار ہوتی ہے، اور رات کو غلط تکیہ اس دبا کو کم کرنے کے بجائے کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ڈاکٹر تاناکا کی تحقیق کے مطابق غلط زاویے میں سونے سے خون کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ جب عضلات تک مناسب مقدار میں خون نہیں پہنچ پاتا تو ان کی مرمت اور بحالی کا قدرتی عمل سست پڑ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں درد دیرپا شکل اختیار کر لیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے افراد کو اپنی تکلیف کی اصل وجہ کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ درد بڑھتی عمر، ذہنی دبائو یا کام کی زیادتی کا نتیجہ ہے، حالانکہ اصل مسئلہ ان کے بستر میں موجود ہوتا ہے۔
ڈاکٹر تاناکا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسانی جسم ایک متوازن نظام ہے۔ جب ہم نیند جیسے بنیادی عمل میں اس توازن کو خراب کرتے ہیں تو جسم خاموشی سے اس کے نتائج برداشت کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ بیماری کی صورت میں ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف بڑی عمر کے افراد تک محدود نہیں بلکہ نوجوان نسل بھی اس سے تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو گھنٹوں بیٹھ کر کام کرتے ہیں یا مسلسل سکرین کے سامنے رہتے ہیں، ان میں گردن اور کندھوں کے مسائل کم عمری میں ہی سامنے آ رہے ہیں۔
نیند کا مقصد صرف آنکھیں بند کرنا نہیں بلکہ جسم اور دماغ کو مکمل آرام فراہم کرنا ہے۔ اگر نیند کے دوران ہی عضلات تنائو میں رہیں تو نیند کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے اور جسم مسلسل تھکن کا شکار رہتا ہے۔
ڈاکٹر تاناکا کی یہ تحقیق ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ عادتوں پر نظرثانی کریں۔ اکثر ہم چھوٹی چیزوں کو غیر اہم سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی معمولی چیزیں وقت کے ساتھ بڑے مسائل کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ ایک عام سا تکیہ، جو ہر رات ہمارے سر کے نیچے ہوتا ہے، اگر جسمانی ساخت کے مطابق نہ ہو تو وہ خاموشی کے ساتھ صحت کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ اس نقصان کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب درد معمول کی زندگی کو متاثر کرنے لگتا ہے۔
یہ تحقیق دراصل ایک سنجیدہ وارننگ ہے کہ سہولت اور عادت کے نام پر صحت سے سمجھوتہ کرنا دانشمندی نہیں۔ بستر، تکیہ اور سونے کا انداز ایسے عوامل ہیں جن پر توجہ دینا طویل المدت صحت کے لیے ناگزیر ہے۔
آخرکار یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ درد اکثر اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ برسوں کی لاپرواہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک غلط تکیہ بھی وقت کے ساتھ گردن، کندھوں اور اعصابی نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر تاناکا کی دریافت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ صحت کے تحفظ کے لیے شعور، احتیاط اور درست انتخاب ضروری ہیں۔ نیند کو واقعی آرام کا ذریعہ بنانا ہی ایک متوازن، فعال اور صحت مند زندگی کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔





