جرنیلی سڑک

جرنیلی سڑک
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
یہ ایک سفرنامہ ہے، رضا علی عابدی صاحب نے یہ سفر بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام کے لیے 1980ء میں پشاور سے کلکتہ تک کیا تھا۔ اور یہ سفرنامہ پہلے تو پندرہ پندرہ منٹ کے ریڈیو پروگرام کی صورت عوام تک پہنچا۔ لیکن بعد میں اسے باقاعدہ کتابی صورت میں چھاپ کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔
پشاور سے کلکتہ تک پھیلی یہ مشہور سڑک تقریباً ساڑھے چار سو سال پہلے افغانی بادشاہ شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی، اس کی لمبائی پندرہ سو میل ہے اور اس کے بنانے کا بنیادی مقصد افغانستان سے انڈیا تک آسان آمدورفت تھی۔ سڑک کو پُر رونق بنانے کے لیے کچھ کچھ فاصلے پر سرائے خانے بنائے گئے تا کہ مسافر قیام کر سکیں، بعد میں انگریزوں نے آکر اس سڑک کی مزید مرمت کروائی۔ اور اب یہ اُسی حالت میں موجود ہے۔
غیر افسانوی ادب میں آپ بیتی کے بعد سفرنامے سب سے زیادہ دلچسپ ہوتے ہیں۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ گھر بیٹے ہی کئی دوسرے ملکوں، شہروں اور علاقوں کی سیر ہو جاتی ہے، دوسرا یہ کہ سفرنامہ نگار کسی ماہر ٹورسٹ گائڈ کی طرح اُن علاقوں کے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کرتا چلا جاتا ہے۔
اکثر شہروں کے ناموں سے متعلق بڑے دلچسپ اور مضحکہ خیز قصے مشہور ہوتے ہیں، اٹک کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ’’ کہتے ہیں کہ اٹک کا یہ نام اکبر بادشاہ نے رکھا تھا، نام رکھنے کا اُسے بڑا شوق تھا، کسی جگہ کا خوبصورت منظر دیکھ کر اُس کے منہ سے بے ساختہ واہ نکلی، اُس مقام کا نام واہ رکھ دیا گیا۔ پھر چلتی چلتے اُس کا قافلہ دریائے سندھ کے کنارے پہنچ کر اٹک گیا، وہ جگہ ’’ اٹک ‘‘ کہلائی۔ پھر قافلہ خیر سے پار اتر گیا، وہ مقام خیر آباد کہلایا ۔ پھر جہلم پہنچ کر وہاں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ جہلم عجیب و غریب علاقہ ہے، پہلے یہ جوگیوں کا علاقہ تھا ، اب یہ فوجیوں کا علاقہ ہے۔ شاید قناعت اور اطاعت کی پرانی رسم تھی جو نہیں بدلی، اس علاقے سے فوجی بھرتی کرنے کی روایت جو شیر شاہ کے وقت میں بھی تھی، آج بھی برقرار ہے۔ کھیوڑے کی کانوں کا نمک شاید ختم ہو جائے، مگر اس سرزمین کی یہ دوسری پیداوار چھائونیوں اور بیرکوں کو بھرتی رہے گی‘‘۔
اس سفرنامے میں پشاور سے لے کر کلکتہ تک جتنے شہر آتے ہیں، سبھی کا ذکر ہے، نہ صرف ذکر ہے۔ بلکہ راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، لاہور، امرتسر، انبالہ، پانی پت، آگرہ، کانپور، بنارس، اور کلکتے جیسے پرانے اور مشہور شہروں کی تاریخ بھی بڑے دلچسپ انداز میں بیان کی گئی ہے۔ پاکستان اور انڈیا دونوں کے شہروں کے متعلق بڑی تفصیل سے باتیں بیان کی گئی ہیں، عابدی صاحب راستے میں جتنے بھی لوگوں سے ملے، اُن سے اُن کے علاقوں کے متعلق گفتگو ہوئی، وہ سب بھی ساتھ لکھی ہے۔ جسے پڑھ کر اِن سب شہروں کے متعلق بہت ساری نئی معلومات ملتی ہیں ۔ لاہور شہر ویسے بھی سب کا پسندیدہ شہر ہے، وہ اِس کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’ اصل لاہور اُن غیر ملکیوں نے دیکھا تھا۔ جو مغلوں کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ لاہور دراصل ایک بہت بڑا باغ ہے۔ جس میں کہیں کہیں آبادی ہے۔ لاہور کی تاریخ میں ستّر سے زیادہ باغوں کا ذکر ملتا ہے، وقت بدلا تو زیادہ تر میں ہل چل گئے‘‘ ۔
یہ صرف ایک سفرنامہ ہی نہیں، بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے۔ جو جرنیلی سڑک سے جُڑے شہروں اور علاقوں کے متعلق بہترین معلومات فراہم کرتی ہے، جوں جوں علاقے بدلتی ہیں، ویسے ویسے لوگوں کے لہجے بھی بدلتے ہیں، اُن لہجوں کو جوں کا توں بیان کر کے اِس کتاب کو اور بھی دلچسپ بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر جرنیلی سڑک میں اتنی دلچسپی تو ضرور پیدا ہوگی کہ کبھی موقع ملے تو اس سڑک پر سفر ضرور کیا جائے، حالات کی نزاکت کے باعث لاہور کراس کر کے انڈیا جانا تو اب شاید ہی ممکن ہو، لیکن کم از کم پشاور سے لاہور تک کا سفر بھی یقیناً شاندار ہوگا۔ سفر بڑی خوبصورت چیز ہے، یہ نئے لوگوں سے ملواتا ہے، نئے تجربات دیتا ہے، نئی معلومات فراہم کرتا ہے اور اگر آدمی اچھا مشاہدہ رکھتا ہو تو پڑھنے والوں کو بھی ساتھ شریک سفر کر لیتا ہے، کتاب کے شروع میں ایک خوبصورت شعر تمام مسافروں کے نام ہے۔
کہ
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہیں





