نئے عالمی نظام کا دردِ زہ

نئے عالمی نظام کا دردِ زہ
تحریر : قادر خان یوسف زئی
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی تہذیب نے ہمیشہ طاقت کے مراکز کے گرد گھومنا سیکھا ہے۔ کبھی روم اور فارس کی کشمکش تھی تو کبھی برطانیہ عظمیٰ کا سورج جو غروب نہیں ہوتا تھا، اور پھر وہ دور بھی ہم نے دیکھا جب دنیا دو واضح حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک طرف سرخ انقلاب کا علمبردار سوویت یونین اور دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام کا محافظ امریکہ۔ یہ سرد جنگ کا زمانہ تھا، خوفناک ضرور تھا مگر اس میں ایک عجیب قسم کا نظم و ضبط موجود تھا۔ دنیا جانتی تھی کہ ریڈ لائنز کہاں ہیں، دوست کون ہے اور دشمن کون۔ پھر دیوارِ برلن گری، سوویت یونین بکھرا اور دنیا نے ایک قطبی نظام یعنی یونی پولر ورلڈ کا تجربہ کیا جہاں واشنگٹن میں بیٹھے ہوئے چند افراد پوری دنیا کی قسمت کا فیصلہ کرتے تھے۔ لیکن آج، اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے وسط میں، ہم جس دوراہے پر کھڑے ہیں، وہ نہ تو سرد جنگ کا بائی پولر نظام ہے اور نہ ہی امریکی بالادستی کا یک قطبی دور۔ یہ ایک تزویراتی اور جغرافیائی خلا (Strategic Vacuum)کا دور ہے، ایک ایسا عبوری دور جو پرانے نظام کے ٹوٹنے اور نئے نظام کے بننے کے درمیانی وقفے میں جنم لیتا ہے، اور یہی وہ خونی خلا ہے جہاں آج دوسری اور تیسری دنیا کی ریاستیں خود کو بکھرتا ہوا محسوس کر رہی ہیں۔
اس تزویراتی خلا کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اکلوتا عالمی پولیس مین یعنی امریکہ اب تھک چکا ہے یا یوں کہیں کہ اپنی داخلی اور خارجی ترجیحات میں الجھ کر عالمی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی وہ صلاحیت یا خواہش کھو چکا ہے جو کبھی اس کا خاصہ تھی۔ دوسری طرف چین ایک معاشی دیو بن کر ابھرا تو ہے، مگر وہ ابھی تک مکمل طور پر ایک متبادل عالمی سکیورٹی فراہم کنندہ بننے کے لیے تیار نہیں، یا شاید وہ اپنی روایتی محتاط پالیسی کے تحت ابھی اس ذمہ داری سے کتراتا ہے۔ روس، اپنی تمام تر عسکری جارحیت اور یوکرین میں مداخلت کے باوجود، سوویت یونین جیسی عالمی سپر پاور بننے کی معاشی سکت نہیں رکھتا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے نقشے پر وسیع و عریض خطے ایسے گرے زونز (Grey Zones)میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں طاقت کا کوئی ایک مرکز موجود نہیں ہے۔ یہ خلا محض ایک خالی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک شدید کھینچا تانی کا میدان ہے جہاں دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک،جنہیں ہم عرفِ عام میں گلوبل ساتھ کہتے ہیں۔بری طرح پس رہے ہیں۔
سرد جنگ کے دور میں ’’نان الائنڈ موومنٹ‘‘ یا غیر جانبدار تحریک کا ایک رومانوی تصور موجود تھا۔ نہرو، ٹیٹو، ناصر اور دیگر رہنماں نے کوشش کی تھی کہ بڑی طاقتوں کی رسہ کشی سے الگ رہ کر ایک تیسرا راستہ نکالا جائے۔ مگر آج کے اس تزویراتی خلا میں’’غیر جانبداری‘‘ کا تصور عملاً دم توڑ چکا ہے۔ اس کی جگہ ’’کثیر الجہتی صف بندی‘‘ یا سادہ الفاظ میں ’’موقع پرستی‘‘ نے لے لی ہے۔ آج کی کمزور اور درمیانی طاقتیں کسی ایک بلاک میں شامل ہونے کی بجائے بیک وقت کئی کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ خلیجی ممالک، جو کبھی امریکہ کے سکیورٹی حصار کا اٹوٹ انگ سمجھے جاتے تھے، آج بیجنگ کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک معاہدے کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ماسکو کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں۔ بھارت جیسا ملک، جو کواڈ (QUAD) میں امریکہ کا حلیف ہے، اسی وقت برکس (BRICS) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں چین اور روس کے ساتھ بیٹھ کر مغرب کے متبادل نظام کی باتیں کرتا ہے۔ یہ تضادات دراصل اس خوف کی علامت ہیں کہ اگر کل کو امریکہ مکمل طور پر پیچھے ہٹ گیا تو ان کی حفاظت کون کرے گا؟ اور اگر چین عالمی قائد بنا تو اسے کون روکے گا؟ اس خوف نے ریاستوں کو ایک ’’اسٹریٹجک کنفیوژن‘‘ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس خلا کا سب سے بھیانک اثر عالمی اداروں اور بین الاقوامی قوانین کی بے توقیری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، ڈبلیو ٹی او اور انسانی حقوق کے ادارے اب محض بحث مباحثے کے کلب بن کر رہ گئے ہیں۔ جب غزہ میں انسانیت سسک رہی ہو، یوکرین میں شہر ملبے کا ڈھیر بن رہے ہوں، یا سوڈان اور کانگو میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہوں، تو یہ عالمی ادارے بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ یہ بے بسی دراصل اسی تزویراتی خلا کا شاخسانہ ہے۔ جب کوئی ایک طاقت یا طاقتوں کا گروپ اتنا مضبوط نہ ہو کہ وہ اپنی مرضی یا قانون نافذ کر سکے، تو پھر ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا قانون چلتا ہے۔ اس لاقانونیت نے دوسری اور تیسری دنیا کی ریاستوں کو شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مغرب انسانی حقوق اور جمہوریت کے نعرے صرف اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتا ہے، جبکہ اپنے اتحادیوں کے جرائم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اس دوہرے معیار نے ترقی پذیر ممالک کے عوام کے اندر مغرب مخالف جذبات کو ہوا دی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ چین یا روس کا ماڈل بھی انسانی آزادیوں کا ضامن نہیں ہے۔ یوں وہ ایک نظریاتی خلا میں بھی معلق ہو گئے ہیں۔
اس تزویراتی خلا کا ایک اور خطرناک پہلو ’’پراکسی وارز‘‘ یا گماشتہ جنگوں کا فروغ ہے۔ جب بڑی طاقتیں براہ راست ٹکرانے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں یہ خودکشی کے مترادف ہے، تو وہ اپنے تنازعات کو تیسری دنیا کے میدانوں میں منتقل کر دیتی ہیں۔ شام، یمن، لیبیا اور اب افریقہ کا ساحلی خطہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ یہاں مقامی تضادات کو ہوا دے کر انہیں عالمی جنگ کا ایندھن بنایا جاتا ہے۔ مقامی اشرافیہ، جو اکثر بدعنوان اور غیر نمائندہ ہوتی ہے، اپنی بقا کے لیے غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اپنے ملک کی خودمختاری کا سودا کرتے ہیں تاکہ اقتدار پر قابض رہ سکیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ ریاستی ادارے کمزور پڑ جاتے ہیں اور غیر ریاستی عناصر، ملیشیا، اور دہشت گرد تنظیمیں اس خلا کو پُر کرنے لگتی ہیں۔ اس تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خلا ہمیشہ رہے گا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ خلا کبھی مستقل نہیں ہوتا۔ اسے بھرنے کے لیے کوئی نہ کوئی قوت ضرور آگے آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک طویل عرصے تک’’بے یقینی کے دور‘‘ میں رہیں گے۔





