CM RizwanColumn

جھوٹا، مذہبی ٹچ والا انقلاب

جھوٹا، مذہبی ٹچ والا انقلاب
تحریر : سی ایم رضوان
موت ایک اٹل حقیقت ہے مگر یہ موت جب ہمارے پیاروں کو ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا کر دیتی ہے تو جذبات و احساسات رکھنے والے ہم لوگوں کو غم اور دکھ کا احساس ہونا بھی فطری ہے۔ ہمارے ایک عزیز از جان صحافی دوست شیخ عامر لطیف کی والدہ ماجدہ کا گزشتہ روز انتقال ہوا تو اسی غم کے احساس کے تحت نماز جنازہ میں شامل ہوئے۔ ایک مشترکہ دوست عبد الستار ڈوگر بھی ہمراہ تھے۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد وہیں پر ایک دیگر پیارے دوست اور قومی تاجر اتحاد کے چیئرمین ملک خالد سے بھی ملاقات ہوئی، جن کی والدہ کی برسی کے حوالے سے ان سے بھی دکھ سانجھا ہوا۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس اور لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں کوئی بھی سیاسی انقلاب کسی خاص، واضح اور مثبت تبدیلی کی یقینی منزل کے تعین کے بغیر نہ تو شروع ہوتا ہے اور نہ ہی کامیابی کے ساتھ مکمل ہوتا ہے۔ یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ انقلاب کا یہ بنیادی فلسفہ سمجھے اور فالو کئے بغیر انقلاب کا نعرہ لگانے والا دنیا کا ہر گروہ اور شخص یقینی طور پر ناکام، ذلیل اور رسوا ہی ہوتا ہے مگر کاش کہ اس فلسفے کو پاکستان کی موجودہ دہائی کا جعلی انقلابی پی ٹی آئی فیکٹر بھی سمجھ جائے ورنہ یہ لوگ جھوٹ اور مبالغہ پر مبنی اپنی انتشاری سیاست میں اسی طرح نہ صرف اپنی توانائیاں اور وقت ضائع کرتے رہیں گے بلکہ ملک وقوم کا قیمتی سرمایہ اور وقت بھی برباد کرتے رہیں گے اور بالآخر ناکام و نامراد تو انہوں نے ہونا ہی ہے۔ بہرحال ان کی ناکامی اور جھوٹے موقف کی تصدیق پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکی ہے مگر تازہ تصدیق یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ واضح دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان افغانستان سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور یہ سب افغان حکومت اور تحریکِ طالبان افغانستان کے علم میں ہے اور یہ سب ان کی حمایت سے ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی حکومت کو بھی ان حقائق کا علم ہے۔ سابق وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ واضح رہی کہ گزشتہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے متنازعہ طور پر بار ہا کہا تھا کہ ریاست کو اس دعوے کے حق میں شواہد فراہم کرنے چاہئیں کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم، اب سہیل آفریدی کے پیش رو، پی ٹی آئی کے قائد علی امین گنڈا پور نے ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہے اور افغان طالبان، افغان حکومت بھی ٹی ٹی پی کے مطلوبہ دہشت گردوں کی موجودگی سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں اور افغانستان میں ان کی موجودگی ایک دستاویزی حقیقت ہے۔ گنڈا پور نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پیش آنے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغان شہری ملوث تھے اور ایسے کئی واقعات میں افغان شہریوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والے بعض خود کش حملوں میں ملوث افراد اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد بھی افغان تھے اور بعض کا تعلق ٹی ٹی پی سے تھا اور یہ محض الزامات نہیں بلکہ شواہد اور سرکاری ریکارڈ سے ثابت شدہ حقائق ریکارڈ پر ہیں اور پاکستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت میں دہشت گردی اور افغانستان کے درمیان تعلق حقائق کی بنیاد پر ثابت شدہ ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وفاقی حکومت نے امن کی بحالی کیلئے مذاکرات کی کوششیں کیں۔ اب ان کوششوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم، علی امین گنڈاپور نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو افغانستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنا چاہئیں، لیکن پاکستان کی خود مختاری اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا اسمبلی نے پیر کو تصدیق کی تھی کہ اس کی جانب سے پشاور کے کور کمانڈر کو اسمبلی کی خصوصی سکیورٹی کمیٹی کو صوبے کی سکیورٹی صورت حال پر ان کیمرہ بریفنگ لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ اسمبلی ترجمان کی جانب سے بیان میں بتایا گیا کہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی ہدایت پر صوبائی اسمبلی کی جانب سے ہیڈ کوارٹرز الیون کور پشاور سے ان کیمرا بریفنگ کے انعقاد کے لئے باضابطہ خط جاری کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر دستیاب خط کی کاپی کے مطابق اس پر تاریخ آٹھ جنوری 2026ء درج ہے جبکہ خط بھیجنے کی تصدیق اسمبلی کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔
خط کے مطابق کمیٹی چاہتی ہے کہ پشاور کے الیون کور ہیڈ کوارٹر سے خصوصی طور پر ضم اضلاع میں وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے آپریشن پر بریفنگ لی جا سکے۔ تاہم سکیورٹی ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے وفاق اور پارلیمان کے علاوہ کسی صوبائی حکومت سے آرڈر لینے یا بریفنگ دینے کے پابند نہیں جبکہ کے پی کے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی مسلسل اس آپریشن کی مخالفت کر کے اپنے جھوٹے اور فضول بیانیہ کو پروموٹ کرنے کی لاحاصل کوشش کر رہے ہیں۔
جھوٹے موقف کے ساتھ ساتھ اپنی سیاست کے لئے مذہب کی آڑ لینا اور سیاسی معاملات میں مذہبی ٹچ دینا بھی اس پارٹی کی پرانی روش ہے جس کی تازہ کوشش یہ کی گئی ہے کہ جیسا کہ یہ معمول ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان جو کہ ہر ہفتے اڈیالہ جیل کے قریب چند لوگوں کے ہمراہ جاتی ہیں اور چند گھنٹے وہاں ایک احتجاجی شو کر کے ایک نیا بیان جاری کر کے واپس آ جاتی ہیں۔ پچھلے تین ہفتوں سے انہوں نے یہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ وہ ہمراہیوں کے ساتھ وہاں بیٹھ کر ہاتھ میں قرآنی پارے پکڑ کر سورہ یاسین کی تلاوت کرتی ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں نے چونکہ ان کو ایک مقررہ وقت کے بعد وہاں سے منتشر کرنا ہوتا ہے۔ گزشتہ روز بھی انہوں نے ایسا ہی کیا تو علیمہ خان نے تازہ الزام یہ لگایا ہے کہ یہ لوگ انہیں قرآن پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔ یعنی اس مرتبہ بھی وہ اپنے سیاسی احتجاج کو مذہبی ٹچ دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔
اس جماعت کے جعلی انقلاب کی ایک اور جھلک بھی ملاحظہ ہو کہ ٹوپی، اجرک اور ایئر پورٹ پر والہانہ استقبال سے شروع ہونے والا وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا حالیہ دورہ سندھ بھی تلخی، الزام تراشیوں اور دشنام طرازیوں پر ہی ختم ہوا ہے۔ اپنے صوبہ کے معاملات سے یکسر بے نیاز ہو کر وزیر اعلیٰ کے پی کے نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جو دورہ سندھ پچھلے دنوں شروع کیا تھا اس کے اختتام پر بھی پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ اتوار کو مزارِ قائد پر جلسے کو روکنے کے لئے شیلنگ اور لاٹھی جارج کیا گیا، جبکہ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے شرائط کی خلاف ورزی اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔ جس کی اتنی ضرورت یا منطقی دلیل ہر گز موجود نہ تھی۔ یاد رہے کہ اس دورے کا آغاز جمعے کو قدرے گرم جوشی سے ہوا تھا، سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کراچی ایئر پورٹ پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا استقبال احسن قومی روایت کے ساتھ کیا تھا۔ اس اقدام کو مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا بھی گیا کیونکہ اس سے قبل سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب کے دوران پی ٹی آئی نے رکاوٹیں ڈالنے اور مہمان نوازی کی روایات توڑنے کے الزامات عائد کیے تھے لیکن اتوار کی صبح اُس وقت صورتحال سندھ میں بھی تبدیل ہو گئی جب سہیل آفریدی نے ایکس پر لکھا کہ حیدر آباد سے کراچی واپسی کے دوران اُن کے قافلے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور وہ ایک سنسان راستے سے صبح سویرے کراچی پہنچے۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ جو روایات ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بنائی جا رہی ہیں، یہ مستقبل قریب میں نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ بعدازاں یہ الزام بھی عائد کیا کہ اتوار کی شام کارکنوں کو مزارِ قائد پر تحریکِ انصاف کے جلسے میں آنے سے روکا گیا اور شہر میں کنٹینر لگا کر راستے بند کیے اور کارکنوں کو مزارِ قائد آنے سے روکنے کے لئے پولیس نے شیلنگ بھی کی جبکہ سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ اگر سہیل آفریدی کو اُن کے بقول کوئی شکایت ہے تو اس پر وہ معذرت کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی سے کہا گیا تھا کہ وہ سڑک کے بجائے باغ جناح گرانڈ میں جلسہ کر لیں، لیکن اُن کا اصرار تھا کہ وہ ہر صورت سڑک پر ہی جلسہ کریں گے۔ حیدر آباد سے واپسی پر قافلے کا راستہ تبدیل کرنے کے الزام پر ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی نفری وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ تھی اور اُنہیں محفوظ راستے سے ہی کراچی پہنچایا گیا مگر سہیل آفریدی نے اپنی تقاریر میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت کو نشانہ بنایا، جس سے بدمزگی پیدا ہوئی۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اس دورہ کے موقع پر سکیورٹی ٹھریٹ موجود تھے جن سے دورے کے آغاز پر سہیل آفریدی کو آگاہ بھی کیا گیا تھا مگر انہوں نے تعاون کا وعدہ کر کے بھی نہ صرف اس سے انحراف کیا بلکہ ان کے کارکنوں نے پولیس اور میڈیا پرسنز پر تشدد بھی کیا۔ اس سے قبل سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب کا بھی یہی معاملہ ہے کہ ان کے کارکنوں نے پولیس اور صحافی حضرات پر لاہور میں بھی تشدد کیا تھا۔
حاصل معاملات یہی ہے کہ یہ پارٹی ملک میں محض انتشار اور خلفشار کے لئے ہی ہمیشہ کوشاں رہتی ہے۔ یہ لوگ ملکی معاملات میں بہتری اور سلجھائو لانے کے حوالے سے اپنی قومی ذمہ داریوں سے مسلسل انحراف کر کے نہ جانے کون سا انقلاب لانا چاہتے ہیں۔
سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button