تازہ ترینخبریںسپورٹسپاکستان

محسن نواز نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو نوجوانوں کیلیے اسپورٹس ڈویلپمنٹ پلیٹ فارم پیش کر دیا

*محسن نواز نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو نوجوانوں کیلیے اسپورٹس ڈویلپمنٹ پلیٹ فارم پیش کر دیا*

لاہور: پاکستان کے صفِ اول کے ایف کلاس شوٹر محسن نواز نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال چوہدری سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے نوجوانوں کے لیے اسپورٹس ڈویلپمنٹ سے متعلق اپنا وژن پیش کیا اور غیر روایتی کھیلوں میں درپیش انفراسٹرکچر کے مسائل کی نشاندہی کی۔

محسن نواز، جو ایف کلاس شوٹنگ میں 10 بین الاقوامی انفرادی تمغوں کے ساتھ کسی بھی پاکستانی شوٹر سے زیادہ اعزازات کے حامل ہیں، نے وزیر کو بتایا کہ وہ آئندہ نسل کے کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں حاصل کردہ مہارت اور تجربہ نوجوانوں تک منتقل کرنا ان کا مقصد ہے، جس کے لیے حکومتی سرپرستی ناگزیر ہے تاکہ نوجوانوں میں صحت مند اسپورٹس سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

ان کی نمایاں کامیابیوں میں 2024 یورپی لانگ رینج شوٹنگ چیمپئن شپ میں سلور اور برانز میڈلز، اور 155ویں این آر اے یو کے امپیریل چیمپئن شپ میں سلور میڈل شامل ہیں۔ وہ برطانیہ اور امریکا کی نیشنل رائفل ایسوسی ایشنز کے لائف ممبر بننے والے پہلے پاکستانی ہیں اور انہیں تمغۂ امتیاز کے لیے نامزد بھی کیا جا چکا ہے، جو ملکی تاریخ میں کسی شوٹر کے لیے پہلی نامزدگی ہے۔

کھیلوں کے ساتھ ساتھ محسن نواز ایک مستند اسپورٹس سائیکالوجسٹ اور ایموشنل ویل بینگ کوچ بھی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کھیلوں کی ترقی کے لیے جسمانی سہولیات کے ساتھ نفسیاتی انفراسٹرکچر بھی ضروری ہے۔ ان کے بقول، “ذہنی مضبوطی ہی اصل ہتھیار ہے”، اور بین الاقوامی مقابلوں میں کھلاڑیوں کو منفی دباؤ سے بچانے کے لیے سپورٹ سسٹمز ناگزیر ہیں۔

ملاقات میں پاکستان میں شوٹنگ کے عملی مسائل پر بھی بات ہوئی، جن میں جدید آلات پر بھاری درآمدی ڈیوٹیز اور مناسب تربیتی سہولیات کی کمی شامل ہے۔ محسن نواز نے تجویز دی کہ بڑے شہروں میں 50 میٹر رینجز قائم کی جائیں اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے آلات کی درآمد کو آسان بنایا جائے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے محسن نواز کی خود ساختہ کامیابی کو نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مثال قرار دیا اور پالیسی آپشنز پر غور کی یقین دہانی کرائی۔ یہ ملاقات کرکٹ اور ہاکی سے ہٹ کر دیگر کھیلوں پر حکومتی توجہ کی ممکنہ سمت کا عندیہ دیتی ہے، تاہم عملی اقدامات کا اعلان تاحال باقی ہے۔

جواب دیں

Back to top button