معراج ہمیں بیت المقدس لے گئی، ہم فلسطین سے منہ موڑ بیٹھے

معراج ہمیں بیت المقدس لے گئی، ہم فلسطین سے منہ موڑ بیٹھے
تحریر : ثناءاللہ مجیدی
ہر سال 27رجب المرجب کی رات امت مسلمہ کے لیے ایک خاص معنویت رکھتی ہے، کیونکہ اسی رات نبی کریم ٔ کو واقعہ معراج کا شرف حاصل ہوا۔ یہ رات صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایمان و فکر کی بیداری کا پیغام ہے۔ اس رات رسول اللہ ٔ کو زمین سے آسمانوں تک لے جایا گیا، جہاں اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے نماز کو فرض کیا اور بندے کی قربت و ذمہ داری کی تعلیم دی۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سختیاں وقتی ہیں، لیکن حق اور ایمان کی فتح ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
واقعہ معراج کو اگر محض ایک روحانی معجزہ سمجھ کر بیان کر دیا جائے تو یہ اس عظیم واقعے کے ساتھ فکری ناانصافی ہوگی۔ معراج دراصل ایک نظریاتی اعلان، ایک فکری بیداری اور ایک ایسا آسمانی پیغام ہے جو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے یہ واقعہ ہمیں صرف آسمانوں کی سیر نہیں کراتا بلکہ زمین پر جینے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے معراج کو عقیدے تک محدود کر لیا اور اس کے فکری و عملی تقاضوں سے آنکھیں چرا لیں۔
یہ وہ وقت تھا جب رسولؐ اللہ انسانی اعتبار سے شدید ترین آزمائشوں سے گزر رہے تھے۔ مکہ میں حق کی دعوت کو مسترد کیا جا چکا تھا، شعبِ ابی طالب کی بھوک اور اذیت تاریخ کا حصہ بن چکی تھیں، حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابو طالب جیسی عظیم ہستیاں دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں، اور طائف میں نبی کریمؐ کو پتھروں سے لہولہان کیا گیا تھا۔ بظاہر زمین پر کوئی سہارا باقی نہ رہا تھا مگر عین اسی لمحے آسمان نے مداخلت کی۔ یہی معراج کا پہلا اور بنیادی پیغام ہے کہ جب زمین حق کے لیے تنگ ہو جائے تو اللہ اپنے بندے کو بلندی عطا کرتا ہے۔
معراج دراصل اس حقیقت کی علامت ہے کہ آزمائش ذلت نہیں بلکہ قربِ الٰہی کا راستہ ہوتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر دور میں حق کو دبانے کی کوشش کی گئی، مگر بالآخر فیصلہ آسمان نے ہی سنایا۔ فرعون کی سلطنت موسیٌٰ کے سامنے ٹھہر نہ سکی، نمرود کی آگ ابراہیمٌ کو جلا نہ سکی، اور صلیب کا انجام بھی حق کی شکست نہ بن سکا۔ معراج اسی تسلسل کی سب سے روشن کڑی ہے، جو یہ اعلان کرتی ہے کہ حق وقتی طور پر دب سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔
آج کا مسلمان بھی کم و بیش اسی کیفیت سے دوچار ہے۔ سیاسی غلامی، فکری یلغار، معاشی جبر اور عالمی دبائو نے امت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ حق بات کہنا جرم، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا بغاوت، اور دین کو مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کرنا انتہاپسندی قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں معراج ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فیصلے اقوامِ متحدہ، عالمی عدالتوں یا طاقتور دارالحکومتوں میں نہیں ہوتے، بلکہ ربِّ کائنات کے حضور ہوتے ہیں۔
معراج کی رات امت کو جو سب سے عظیم تحفہ عطا ہوا، وہ نماز ہے۔ مگر یہ نماز محض چند حرکات و سکنات کا نام نہیں تھی، بلکہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کا عملی اعلان تھی۔ نماز کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان دن میں پانچ مرتبہ یہ عہد کرے کہ وہ اپنی زندگی، اپنے نظام اور اپنے فیصلوں کو اللہ کے حکم کے تابع رکھے گا۔ مگر افسوس کہ آج نماز مسجد کی چار دیواری تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ بازار، عدالت، پارلیمنٹ اور عالمی تعلقات میں اللہ کی حاکمیت ناپید ہے۔ اگر ہماری نماز واقعی قائم ہوتی تو کیا سود کو ریاستی قانون کا درجہ ملتا؟
کیا ظلم کو پالیسی اور ناانصافی کو مصلحت کہا جاتا؟
کیا مظلوم فلسطین صرف اخباری سرخیوں تک محدود رہتا؟
سچ یہ ہے کہ ہم نے نماز کو عبادت تو سمجھا، مزاحمت نہیں؛ تعلق تو بنایا، ذمہ داری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سجدے تو ہیں، مگر غیرت ختم ہو چکی ہے۔
واقعہ معراج میں نبی کریمؐ کا تمام انبیائے کرامٌ کی امامت فرمانا محض ایک روحانی منظر نہیں تھا، بلکہ ایک واضح اعلان تھا کہ اب انسانیت کی قیادت امتِ محمدیہ کے سپرد ہے۔ مگر قیادت نعروں، قراردادوں اور بیانات سے نہیں، کردار، قربانی اور جرأت سے ثابت ہوتی ہے۔ آج امت کا المیہ یہ ہے کہ فیصلے واشنگٹن، لندن اور پیرس میں ہوتے ہیں، اور مسلمان ممالک محض تماشائی بنے رہتے ہیں۔
یہ کیسی قیادت ہے جو مظلوم کے حق میں بولنے سے گھبراتی ہے؟
یہ کیسی امت ہے جو اپنے ہی قبلہ اول پر حملے دیکھ کر رسمی مذمت پر اکتفا کرتی ہے؟
یہاں معراج کا سب سے اہم اور نظر انداز کیا جانے والا پہلو سامنے آتا ہے بیت المقدس۔ نبی کریمؐ کو براہِ راست آسمانوں میں بھی لے جایا جا سکتا تھا، مگر اللہ نے معراج کا آغاز مسجدِ حرام سے اور پہلا پڑائو مسجدِ اقصیٰ کو بنایا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے واضح پیغام تھا کہ بیت المقدس ایمان کا حصہ ہے، سیاست کا سودا نہیں۔
آج جب مسجدِ اقصیٰ صیہونی جارحیت کی زد میں ہے، جب فلسطین کے بچے، عورتیں اور بوڑھے مسلسل ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں، اور جب غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، تو امتِ مسلمہ کی خاموشی سب سے بڑا سوال بن چکی ہے۔ ہم نے فلسطین کو ایک سیاسی مسئلہ بنا کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیا ہے، حالانکہ یہ ایمان کا مسئلہ ہے۔
معراج ہمیں بیت المقدس تک لے گئی تھی، مگر ہم فلسطین سے منہ موڑ بیٹھے۔ ہم نے قبلہ اول کو بیانات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، اور اپنی ترجیحات میں اسے آخری صف میں کھڑا کر دیا۔ یہ محض سیاسی ناکامی نہیں، یہ فکری اور ایمانی بحران ہے۔
معراج عقل اور ایمان کے تعلق کو بھی واضح کرتی ہے۔ یہ واقعہ عقلِ محدود کیلئے حیرت تھا اور ایمان والوں کے لیے یقین۔ صدیقِ اکبرؓ کا تاریخی جملہ’’ اگر نبیؐ نے فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے‘‘ آج بھی ایمان کا معیار ہے۔
آج ہم دین کو مغربی عقل کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں، حالانکہ معراج ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل رہنمائی کرتی ہے، حاکمیت نہیں۔آج کا انسان ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ گیا ہے، مگر روحانیت میں پیچھے رہ گیا ہے۔ ہم خلائوں تک پہنچ گئے، مگر سجدے کی گہرائی کھو بیٹھے۔ معراج ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل بلندی راکٹوں میں نہیں، رب کے حضور جھکنے میں ہے۔معراج کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آسمانوں کی سیر کے بعد بھی زمین کو نہیں چھوڑا جاتا۔ نبی ٔ واپس تشریف لائے، کیونکہ اصل جدوجہد زمین پر تھیظلم کے خلاف، باطل نظاموں کے خلاف، اور انسان کی آزادی کے لیے۔ یہی پیغام آج بھی زندہ ہے۔
اگر ہماری عبادت ہمیں مظلوم کے ساتھ کھڑا نہیں کرتی، اگر ہماری دینداری ہمیں بے حس بنا دیتی ہے، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے معراج کو نہیں سمجھا۔
معراج یہ اعلان ہے کہ مسلمان کا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے اور جو اللہ کے سامنے جھک جائے، وہ کسی فرعون، کسی سامراج اور کسی باطل نظام کے آگے نہیں جھکتا۔
ثناء اللہ مجیدی





