Column

رمضان المبارک اور مہنگائی کا طوفان

ضیاء الحق سرحدی

رمضان المبارک کی آمد کے باعث اشیاء خورد نوش کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، رمضان کی آمد سے بازاروں میں خریداری میں بھی تیزی آگئی ہے۔وطن عزیز کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے گرانی کے عذاب کو بھگت رہے ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مہنگائی میں مزید شدّت آتی چلی جا رہی ہے۔ویسے تو ہر ماہ ہی گرانی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔یوں عوام کے لیے زیست کو دُشوار بنا دیا گیا ہے۔اُن کے لیے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ ملک بھرمیں مہنگائی نے عوام سے قوت خرید چھین لی ہے، وزیر اعظم کی جانب سے مہنگائی کم کرنے اور قیمتوں میں اضافہ کو نوٹس لینے کی خبر بھی اب اپنی اہمیت کھو رہی ہے بلکہ عوامی سطح پر ایسے کسی بیان کے بعد خوف محسوس کیا جاتا ہے۔کیونکہ حکومت میں ایسے عناصر موجود ہیں جو وزیر اعظم کے بیان کے فوراً بعد مہنگائی کا تازیانہ رسید کرکے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ملک میں رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.31فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ہفتے بھی مہنگائی کی شرح میں1.11فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پچھلے تین ہفتوں سے مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حالیہ ایک ہفتے میں 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 10اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق تین ہفتوں میں مہنگائی کا تسلسل موجودہ حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے جو عوام کو ریلیف دینے کے نہ صرف دعوے کر رہی ہے بلکہ ہنگامی بنیادوں پر رمضان پیکیجز اور سستے رمضان بازاروں کا اہتمام بھی کر رہی ہے۔ ان تمام حکومتی اقدامات کے باوجود مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا جس سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والا مافیا رمضان المبارک میں بھرپور طریقے سے سرگرم ہے جو حکومتی رٹ کو بھی چیلنج کرتا نظر آرہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ادارہ شماریات جن اشیاکے نرخوں میں کمی کی رپورٹ دے رہا ہے عوام کو ان اشیاء پر بھی ریلیف نہیں مل رہا۔ رمضان بازاروں میں جو اشیاء دستیاب ہیں ان کے غیرمعیاری ہونے کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں جبکہ حکومتی سرپرستی میں چلنے والے یوٹیلیٹی سٹورز بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ پاکستان میں گرانی پر آئی ایم ایف بھی سوال اٹھا چکا ہے۔ اسے یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اسکی کڑی شرائط کے نتیجہ میں ہی پاکستانی عوام بدترین مہنگائی بھگت رہے ہیں۔ اب اسکے ساتھ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اگر وہ اپنی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سے ڈومور کا تقاضا کرتا ہے اور حکومت بھی اسے من و عن قبول کر لیتی ہے تو ایک طرف نئی حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی اور دوسری طرف مہنگائی میں ہونے والا مزید اضافہ عوام کو زندہ درگور کر دیگا۔ اس لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں عوامی مسائل کو بہرصورت پیش نظر رکھا جائے اور اسے باور کرایا جائے کہ پاکستان اسکے مزید تقاضوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکیج کا حجم ساڑھے 7سے بڑھا کر 12.5ارب روپے کرنے کے ساتھ اس کا دائرہ کار بڑھانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ مجموعی طور پر رمضان ریلیف پیکیج کے تحت مستحق افراد کو بازار سے 30 فیصد ستی اشیاء دی جائیں گی ، آٹے پر فی کلو 77 جبکہ گھی پر 70 روپے فی کلو سبسڈی دی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے بھی 30ارب روپے کا نگہبان رمضان پیکیج شروع کیا ہے جو صوبے کے 64لاکھ سے زائد خاندانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ سندھ حکومت نے بھی 22.5ارب روپے کے رمضان پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کی 60 فیصد آبادی کو رمضان میں 5ہزار روپے نقد دینے کی منظوری بھی دی تھی جو بی آئی ایس پی کے ڈیٹا کے ذریعے دئیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے احساس پروگرام کے تحت رمضان میں مستحق افراد کو نقد10ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان حکومت کی طرف سے ان سطور کی تحریر تک رمضان پیکیج کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ۔ پورے ملک میں ہزاروں افسران انتظامی عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور انہیں بھرتی ہی اس مقصد کیلئے کیا جاتا ہے کہ وہ نچلے درجے تک گورنس کو بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔اسی کام کیلئے انہیں دوسرے سرکاری ملازموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تنخواہ بھی دی جاتی ہے، گاڑیاں، گھر ،عملہ اور دیگر مراعات و سہولیات اس کے علاوہ ہیں لیکن یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ بیوروکریسی گورننس کو بہتر بنانے کی بجائے ساری توانائی اور وسائل صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنے پر خرچ کرتی ہے اسی لئے ملک آج اس حال کو پہنچ چکا ہے کہ عام آدمی کو ریاست اور جمہوریت پر اعتماد نہیں ہے۔ہم بار بار اس خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگر حکومت نے مہنگائی کو نہ روکاتو ستائے ہوئے عوام سڑکوں پر نکل کر سیاسی عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔حکومت کو اس مہنگائی کا نوٹس لینا چاہیے اور ابھی سے کوئی سد باب کرنا چاہیے۔ دُنیا بھر کے مہذب ممالک میں اُن خصوصی دنوں اور تہواروں کے موقع پر اشیائے ضرور یہ کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہے جب کہ وطن عزیز میں اُلٹی گنگا بہتی ہے اور ہر شے کے دام بڑھ جاتے ہیں،عوام پر مہنگائی کے نشتر اس بے رحمی سے برسائے جاتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ہر سال ہی رمضان المبارک میں گرانی اپنے عروج پر پہنچی ہوتی ہے ۔
آخر یہ مجسٹریسی نظام کس مرض کی دوا ہے کہ مہنگائی تو روز بروز ترقی کر رہی ہے لیکن مجسٹریسی نظام تاحال کارگر ثابت نہیں ہوسکا جبکہ گزشتہ کئی سال سے یوٹیلیٹی سٹورز کے ملازمین سبسڈی والی اشیا صارفین کو فروخت کرنے کے بجائے پچھلے دروازے سے مافیا کے ساتھ ساز باز کرکے کروڑوں روپے کمالیتے ہیں۔یاد رہے ملک کی آبادی 22کروڑ ہے اور ملک بھر میں یوٹیلیٹی سٹورزکی کل تعداد 5491ہے۔اب ذرا تصور کریں کس طرح ملک کے کروڑوں لوگوں کو سبسڈی سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر نا جائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کریںاور منافع خور تاجروں پر جرمانہ عائد کرنے کے بجائے سخت ترین سزائوں کے اقدامات کیے جائیں۔پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی ناقص کارکردگی ہے۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی حکومت کے نمائندوں کو صحیح معنوں میں عوام کا خادم بنایا جائے اور ان سے مہنگائی کے خاتمے کے لئے مرکزی کردار اداکرایا جائے بلکہ رمضان المبارک میں عوام کو گرانی کے عذاب سے بچانے کو موثر بندوبست بھی کیا جائے۔تمام بازاروں کا ذمے داران دورہ کریں اور وہاں سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیاء ضروریہ کی فروخت ممکن بنائیں،گراں فروشوں کے خلاف کڑی کارروائیاں کی جائیں اور سخت سے سخت اقدامات کیے جائیں بصورت دیگر مہنگائی کا سونامی غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دے گا کیونکہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر کے مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرکے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے اپنی غیر قانونی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔لہٰذا حکومت کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ منافع خوروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنی چاہیے جو نرخ نامے مقرر کرنے کے کمزور طریقہ کار کی وجہ سے غریب عوام کو بلا خوف دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button