نیتن یاہو کا مستقبل

نیتن یاہو کا مستقبل
محمد مبشر انوار
تادم تحریر اسرائیل میں عام انتخابات میں ووٹنگ ہو چکی ہے اور نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے، جو اگلے چند گھنٹوں میں منظر عام پر آ جائیں گے، جبکہ انتخابات کے حوالے سے جو سروے کئے گئے ہیں ان کے مطابق اسرائیل کی 120نشستوں کی تقسیم نیتن یاہو او ر ان کے اتحادیوں کو 50جبکہ ان کے مخالف گاڈی اتحاد کو 53۔54جبکہ عرب جماعتوں کے لئے 17۔18نشستوں کی توقع کی جارہی ہے۔ یوں ان انتخابات کے نتیجہ میں جو اسمبلی وجود میں آتی دکھائی دے رہی ہے، ان میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے سادہ اکثریت ممکن دکھائی نہیں دیتی اور عرب جماعت کی حمایت کے ساتھ ہی ایک اتحادی حکومت بنائی جا سکے گی بشرطیکہ انتخابی نتائج اس سروے کے مطابق سامنے آئے۔ دوسری صورت میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب تک حکومت سازی ممکن نہیں ہوتی، اس وقت تک نیتن یاہو ہی عبوری حکومت کا سربراہ رہے، اور اپنی مرضی کے مطابق ، وہ تمام اقدامات کرے، جو ممکنہ طور پر نئی حکومت کے قیام کے بعد ممکن نہ ہوتے یا کچھ وقت لیتے یا یہ بھی ممکن ہے کہ نیتن یاہو سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ ان اقدامات پر عملدرآمد ہوتا ۔ آخر الذکر کے حوالے سے میری ذاتی رائے، گمان یہی ہے کہ اس وقت صیہونی دنیا میں بالخصوص جو سوچ پائی جاتی ہے اس میں یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ کوئی بھی حکمران منتخب ہو، وہ صیہونی سوچ کے مرکز سے باہر نہیں جا سکتا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس صورت میں نیتن یاہو میں کیا برائی ہے؟، اس بات میں وزن اپنی جگہ مگر اس کو دوسرے زاوئیے سے اگر دیکھا جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے ہے کہ جتنا وقت نیتن یاہو کو ملا ہے، جس طرح کی جارحیت و درندگی کا مظاہرہ نیتن یاہو حکومت نے کیا ہے اس کے باوجود اگر صیہونی عزائم حاصل نہیں ہو سکے تو پھر اس سے زیادہ سخت مزاج کو بھی سامنے لایا جا سکتا ہے۔ اس مفروضی کے بعد پھر سوال اٹھتا ہے کہ اسرائیل کے عوامی سروے بظاہر اس کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں اور عمومی رائے یہی ہے کہ اسرائیلی عوام نیتن یاہو کی جنگی پالیسی سے نالاں اور ناراض ہیں، ان کا ووٹ جنگ کے خلاف ہے، حتی کہ بیرون ملک مقیم 68ہزار اسرائیلی شہریوں کی اسرائیل واپسی اور ووٹ ڈالنے کی مشق بھی اسی حوالے سے دکھائی دیتی ہے کہ وہ نیتن یاہو کی پالیسی کے خلاف ہیں لیکن کیا وہ صرف نیتن یاہو کی جنگی پالیسی کے خلاف ہیں یا واقعتا جنگ کے خلاف ہیں؟، بظاہر عوام کی جانب سے جنگ کے خلاف ووٹ ڈالنے کو تعبیر کریں مگر سیاسی قیادت یا پس پردہ صیہونی سوچ اس کی تعریف مختلف انداز میں بھی کر سکتی ہے اور یہ کہہ سکتی ہے کہ چونکہ نیتن یاہو کی جنگی پالیسی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی، لہذا عوام نے نیتن یاہو کی جنگی پالیسی کو تو مسترد کیا ہے مگر جنگ کو نہیں، اس صورت میں نئی حکومت کے فوری اقدامات ہی اس مفروضے کو صحیح یا باطل ثابت کر سکیں گے کہ آیا اسرائیل کی سوچ کیا ہے؟۔ لہذا اس وقت تک انتظار کرنا ہو گا تا کہ صحیح معنوں میں اسرائیلی ؍ صیہونی سوچ کا اظہار ہو سکے جبکہ میری دانست میں سچ یہی ہے کہ صیہونیوں میں کوئی بھی برسر اقتدار آئے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا کہ صیہونیوں کی فطرت میں مسلم دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور وہ کسی بھی صورت مسلمانوں کا وجود برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔
نیتن یاہو نے اپنے طور پر بہتیرے دائو پیچ آزمائے، ٹرمپ کو ایران جنگ میں دھکیل کر، امریکی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کی، جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوا مگر افسوس کہ امریکہ و اسرائیل دونوں نے ایران کی مزاحمت کے متعلق غلط اندازے لگائے، جس کا خمیازہ انہیں میدان جنگ میں بھگتنا پڑا ہے بلکہ اس وقت مذاکرات کی میز پر بھی بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ نیتن یاہو کے لئے اپنے مقاصد کا حصول کس قدر اہم رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتخابات سے قبل معاملات اس قدر کشیدہ ہو چکے تھے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے انتہائی اقدام اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا جا چکا تھا اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے انہیں بریفنگز میں تمام ممکنہ آپشن سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ تاہم نیتن یاہو کی تمام تر کاوشوں کے باوجود، انتخابات سے دو ؍ تین روز قبل ایک بھرپور حملے کی توقع ؍ خدشے کا اظہار دنیا بھر کے ماہرین کر رہے تھے کہ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر ایران، امریکی شرائط کے مطابق معاہدہ نہیں کرتا تو اس پر شدید حملہ کیا جا سکتا ہے۔ الگ بات کہ ایران نے اپنے اعصاب قابو میں رکھے اور ان دھمکیوں نے ایران پر کوئی اثر نہیں ڈالا بلکہ ایران کی جانب سے سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کے جواب نے امریکہ حملے سے باز رکھا۔ دوسری طرف پس پردہ روابط میں کہیں بھی تعطل نہیں آیا اور فریقین ایک دوسرے کو ثالثوں کے ذریعہ پیغام رسانی کرتے رہے، یوں حالات ابھی تک قابو میں تو رہے البتہ نیتن یاہو کی خواہش ناتمام رہی کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ کیا جاتا تو قرائن یہی تھے کہ اس مرتبہ حملہ اسرائیلی سرزمین سے کیا جاتا کیونکہ امریکہ تمام تر قوت کا مرکز اسرائیل کی سرزمین پر تھا۔ مشرق وسطیٰ کے دیگر فوجی اڈوں کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہو چکی تھی اور امریکہ کے لئے یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ اپنے ان فوجی اڈوں سے ایران پر حملہ کر پاتا، لہذا امریکہ کے محفوظ فوجی اڈوں میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی سرزمین ہی بچی تھی یا پھر امریکہ یورپ یا برطانیہ سے ایران پر حملہ کرتا۔ اس صورت میں یورپ اور برطانیہ بھی غیر محفوظ ہو جاتے جبکہ یورپ کے بیشتر ممالک امریکہ کو ایران پر حملوں کے لئے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار کر چکے تھے جبکہ برطانیہ میں نئے وزیر اعظم بھی صورتحال کے مطابق اپنا ارادہ بدل گئے۔ اس صورتحال میں اگر امریکہ، اسرائیلی سرزمین سے ایران پر حملہ کرتا تو یقینی طور پر ایران کی جوابی کارروائی اسرائیل کے خلاف ہوتی کہ اب تک کی جنگ میں ایران نے ہر اس ملک میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف کارروائی کی، جہاں سے ایران پر حملے ہوئے ۔ یوں اسرائیل میں فوری طور پر حالات بگڑ جاتے اور نیتن یاہو ، جسے اپنے غیر مقبول ہونے کا ادراک تھا، اس جنگی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، انتخابات کو ملتوی بھی کر سکتا تھا بشرطیکہ اسرائیلی قانون اس کی اجازت دیتا۔ بہرحال یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور اسرائیل میں انتخابات مقررہ وقت پر ہو چکے ہیں گو کہ نیتن یاہو کی جانب سے پولنگ مکمل ہونے اور غیر رسمی نتائج پر دھاندلی کا الزام لگایا جا چکا ہے ، جو اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے کہ نیتن یاہو انتخابات میں شکست کھا چکا ہے یا اسے اپنی شکست کا یقین ہو چکا ہے۔ تاہم اس کے باوجود انتخابی سروے کے مطابق جو حالات ہیں، ممکنہ طور پر یاہو عبوری حکومت کی سربراہی کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن کیا و ہ اس عبوری دور میں بعینہ وہ تمام اقدامات کر پائے گا، جو اس کی شدید ترین خواہش ہے؟
اب دیکھتے ہیں کہ بعد از انتخابات نیتن یاہو کی حیثیت کیا ہو گی؟۔ نیتن یاہو پر ایک طرف اسرائیل کے اندر ہی کرپشن کے مقدمات قائم ہیں تو دوسری طرف عالمی عدالت کی جانب سے بھی اسے ایک جنگی مجرم قرار دیا جا چکا ہے اور کئی ایک ممالک اسے گرفتار کرنے کے لئے مچلے جارہے ہیں لیکن چونکہ ابھی تک نیتن یاہو ملک کا وزیر اعظم ہے، اس لئے اس کی گرفتاری میں وہ مشق مفقود دکھائی دیتی ہے جو ایک عام شہری کے حوالے سے کی جا سکتی ہے لیکن انتخابات میں شکست اور حکومت سے باہر ہونے کے بعد، نیتن یاہو کی وہ حیثیت ختم ہو جائیگی اور اسے ایک عام شہری کے طور پر ہی تصور کرتے ہوئے قانون پوری شدت کے ساتھ حرکت میں آنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ قانون کے متحرک ہوتے ہی، نیتن یاہو کی بیک وقت ملکی و عالمی قوانین کا سامنا ہو گا اور ممکنہ طور پر ملکی مقدمات جو ابھی تک سست روی کا شکار تھے، ان کی سماعت میں تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے کہ ملکی مقدمات بنیادی طور پر فوجداری مقدمات ہیں اور اسرائیلی قانون کے مطابق نیتن یاہو ’’ استثنیٰ‘‘ کا مستحق نہیں ہے، لہذا اس پر ایک عام شہری کی طرح ہی قانون نافذ ہو گا۔ ویسے حیرت کی بات ہے کہ غیر مسلم قوموں نے ایک طرف اپنی قیادت منتخب کرنے کے معیار انتہائی سخت رکھے ہیں تو دوسری طرف ان کو بعد از حکومت اپنے بچائو کے لئے ایسا قانون بنانے کی بھی اجازت نہیں کہ کسی جرم میں ملوث ہونے کے بعد ان کو ’’ استثنیٰ‘‘ میسر ہو، جیسے ہی عہدہ و مراعات ختم، ویسے ہی وہ ایک عام شہری ۔ حتی کہ عالمی طاقت کی صدر کی جانب سے اسرائیلی صدر کو درخواست بھی کسی کام نہیں آئی کہ وہ اپنے صدارتی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے نیتن یاہو کو معاف ہی کر دیتا اور نہ صرف عالمی طاقت کے صدر کی لاج رکھ لیتا بلکہ نیتن یاہو کے بچنے کا آسرا بھی بن جاتا، اس پس منظر میں یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد، اپنے جرائم کی سزا بھگتنے کے لئے نیتن یاہو کو بہرحال جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا کہ اس وقت تک یہی نیتن یاہو کا مستقبل دکھائی دے رہا ہے۔







