Columnمحمد مبشر انوار

طبل بجنے کو!!  

  1. طبل بجنے کو!!

تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)

مشرق وسطیٰ کے حالات سنبھلتے دکھائی نہیں دے کہ ایک طرف حوثیوں نے اودھم مچا رکھا ہے تو دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ میں ہونے والے انتخابات نے معاملات کو دبیز تہہ میں لپیٹ رکھا ہے، گو کہ تہہ دبیز ہے مگر اب معاملات کھلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکرات کا لبادہ اتار دیا ہے تو دوسری طرف اسرائیلی جنگی طیارے، شام اور عراق کی فضائی حدود سے گزر کر ایرانی سرحدوں تک مشق کر چکے ہیں۔ معاملہ صرف ان جنگی طیاروں کی مشق تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھی اس مشق میں ساتھ موجود رہے ہیں، جس سے ماہرین کچھ اور ہی نتائج اخذ کر رہے ہیں گو کہ امریکہ نے جنگ کا جو منصوبہ بنا رکھا تھا، اس میں امریکہ قطعا کامیاب نہیں ہوا ماسوائے ابتدائی کارروائی میں ایرانیوں کی صف اول کی قیادت کو شہید کرنے کے، امریکہ نے کوئی بھی ٹھوس کامیابی ایران کے خلاف حاصل نہیں کی۔ اس کے برعکس حالات یہ رہے ہیں کہ امریکہ نے جب بھی اور جہاں بھی جارحیت کرنے کی کوشش کی، ایران نے اس کا سود سمیت منہ توڑ جواب دیا ہے ،امریکہ جسے اپنی فضائی برتری کا شدید زعم تھا،ایران جنگ میں اپنے بہترین جنگی جہازوں کو اس قبرستان کی نذر کر چکا ہے کہ جن کو امریکی فضائیہ کا مان سمجھا جاتا تھا ،سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جہاز،تواتر کے ساتھ ایران کی فضا میں تباہ ہوتے رہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ کے وہ ڈرونز،جن پر امریکہ کو بڑا ناز تھا،ان کا قبرستان بھی ایرانی فضائیں بن چکی ہیں،یہ اب تاریخ کا حصہ اور فضائیں اس کی شاہد بن چکی ہیں۔ رہی بات سمندروں کے سینے پر تیرتے وسیع و عریض بحری بیڑے کہ جن کی ہیبت سے امریکہ دنیا بھر کو ڈرا کر رکھتا تھا،جنگ کی ابتداء ہی میں،ان بیڑوں کی حالت خستہ کرکے رکھ دی اور ان بحری بیڑوں اور ان پر موجود جنگی جہازوں کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہو سکیں،البتہ انتہائی بلندی سے کچھ جہازوں نے ایرانی ساحلی علاقوں پر بمباری ضرور کی مگر ایران نے نہ صرف اس کا بھرپور جواب دیا بلکہ ان جنگی جہازوں میں سے بیشتر کو نشانہ بھی بنایا تاہم جنگ میں ہمہ وقت کامیابی ممکن نہیں ہوتی ،جنگی دائو پیچ میں فریقین کا نقصان بھی یقینی ہوتا ہے اور ایسا ہی اس جنگ میں بھی ہوا لیکن دنیا کو یہ علم ضرور ہو گیا کہ امریکہ ناقابل شکست نہیں ہے ۔ ایران جس پر دہائیوں سے امریکی پابندیاں عائد تھی، اس کے باوجود، ایران اپنے دفاع ے کبھی غافل نہیں رہا حالانکہ شہید سپریم لیڈر نے واضح طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف فتویٰ جاری کر رکھا تھا لیکن اس فتوے نے ایران کو اپنے دفاع سے کبھی غافل نہیں رہنے دیا اور کبھی عالمی شطرنج سے نظریں بھی نہیں ہٹائی مبادا اس کی قیمت ایران کو نہ چکانی پڑے کہ امریکی مقاصد سے بخوبی واقف رہے۔ ان حقائق کے باوجود ایران نے کبھی بھی جارحیت میں پہل نہیں کی اور نہ ہی کبھی جنگ کو پہلی ترجیح پر رکھا، یہی وجہ تھی کہ گزشتہ برس بھی امریکہ کے جنگ چھیڑنے کے بعد مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہوئے معاملات کو سمیٹ لیا گیا اور کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا، موجودہ جنگ کی ابتداء بھی امریکہ کی جانب سے دوران مذاکرات ہی کی گئی اور بعد ازاں جنگ بندی کے معاہدے کو توڑنے کی ذمہ داری بھی امریکہ پر ہی رہی حتی کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبو تاژ کرنے کا الزام بھی فریقین ایک دوسرے پر رکھتے ہیں لیکن ابتداء امریکہ کی جانب سے ہی ہوتی رہی ہے۔

اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اس اعصابی جنگ میں بھی شکست کھاتا نظر آرہا ہے اور امریکی صدر اب کھلے عام یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ ایران اپنا رویہ درست نہیں کررہا لہذا اس کے خلاف مزید کارروائیاں کی جا سکتی ہیں،امریکی میڈیا میں بھی یہ رپورٹس تواتر کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں کہ امریکہ درون خانہ ایران کے خلاف نئی منصوبہ بندیاں کر چکا ہے البتہ اس پر عملدرآمد کے متعلق امریکی ذرائع ابلاغ خاموش ہیں۔ بہرحال ان منصوبوں پر عملدرآمد کے وقت کا تعین اب کوئی راکٹ سائنس نہیں رہی کہ اس وقت ستائیس اکتوبر کو اسرائیل میں انتخابات ہونے کو ہیں تو دوسری طرف تین نومبر کو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کا ڈول ڈلنے والا ہے،اور دونوں انتخابات میں قدر مشترک ایران جنگ میں ملوث دونوں رہنماؤں کی تاریخی غیر مقبولیت ہے،اس امر کو سامنے رکھتے ہوئے اور اسرائیلی جنگی طیاروں کی فضائی مشق کو جوڑا جائے تو حقیقت بہرحال کچھ کچھ واضح ہوتی نظر آتی ہے گو کہ حتمی طور پر ابھی بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن آثار و شواہد اس جانب اشارہ کررہے ہیں۔ امریکہ و اسرائیل دونوں مل کر بھی ،ایران جنگ سے کچھ ایسا حاصل نہیں کر پائے کہ عوام میں ان کی مقبولیت بڑھ سکتی اور گو کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن بدقسمتی سے سیاستدانوں کے دل بھی پتھر ہو چکے ہیں اور اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کے سامنے ،انسانی جانوں کی کوئی حیثیت نظر نہیں آتی،اس جنگ میں پس پردہ یہی سب سے زیادہ قوی وجہ دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف ہوس اقتدار و توسیع پسندی و کروسیڈ جنگ کے امکان کو بھی بہرطور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال صورتحال اس وقت ایسی بن چکی ہے کہ امریکہ نہ اس کو اگل پارہا ہے اور نہ ہی نگل پا رہا ہے کہ ٹرمپ ،خواہ جتنا بھی دھڑلے والا صدر ہو، اسرائیل کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا دکھائی دیتا ہے ،جس کی وجہ ایک تو اس کو صیہونی نواز ہونا ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایپسٹین فائلز کا وہ مکروہ موادہے،جس نے ٹرمپ کو چاروں شانے چت کررکھا ہے لہذا وہ اس ٹریپ سے باہر نکلنے میں ناکام دکھائی دیتا ہی اور اسرائیلی خواہشات کی تکمیل میں امریکہ اپنی ساکھ داؤ پر لگا چکا ہے اور بیشتر ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ امریکہ کے ٹوٹنے کے بھرپور امکانات موجود ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح کی سیاست اس وقت ٹرمپ امریکہ میں کررہے ہیں،ایسی سیاست کا رواج امریکہ میں کبھی بھی نہیں رہا اور ممکنہ طور پر اس طرز سیاست سے ریاستوں کا اعتماد ٹوٹنے کا احتمال موجود ہے ،جو ریاستوں کو الگ ہونے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن جب تک عدالتی نظام فعال ہے اور انصاف کی فراہمی یقینی ہے،صرف یہ امر ریاستوں کو الگ کرنے کے لئے کافی نہیں ہوگابہرحال دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے؟۔ صدر ٹرمپ جس طرح کے بیانات اس وقت دے رہے ہیں، ان سے لگتا ہے کہ جیسے وہ بہت زیادہ دبائو کا شکار ہیں ،اپنی بے بسی کا اظہار کررہے ہوں ،معاملات ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہوں وگرنہ وہ کبھی یاسیت کے عالم میں اس امر کا اظہار نہ کرتے کہ سابق صدور کو بہت پہلے ایران کے خلاف یہ کارروائی کردینی چاہئے تھی،یعنی ان کے خیال میں ماضی کی جو پالیسی امریکہ نے ایران کے خلاف اپنا رکھی تھی،اس سے کہیں بہتر تھا کہ ایران کے خلاف سابق صدور جارحیت کر دیتے اور ایران کوی گو شمالی ماضی میں ہی کر دی جاتی تو ٹرمپ کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرناپڑتا۔ بہرحال اب تو ٹرمپ سابق صدور کی پالیسی کے خلاف جا چکے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس وقت ٹرمپ سابق صدور یا امریکہ کی پرانی پالیسی کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسی بھی نافذ کررہے ہیں کہ ایک طرف تو ایران کی خلاف نئی پابندیاں بھی عائد کی جارہی ہیں تو دوسری طرف ایران کے خلاف جارحیت بھی جاری ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکہ نے جنگ میں اترنے سے قبل ایران کی دفاعی صلاحیت و اہلیت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں لگایااور اپنے دشمن کو انتہائی کمزور سمجھ کر اس پر حملہ آور ہوا ہے،جس پر امریکہ کو لینے کے دینے پڑ چکے ہیں ماسوائے ایک کارروائی کہ جس کی طرف صدر ٹرمپ کبھی کرنے کا اشارہ دیتے ہیں تو کبھی اس سے انکار کرتے ہیں جب کہ میری رائے یہی ہے کہ صدر ٹرمپ اس جنگ کو جیتنے کے لئے ہر حد تک جا سکتے ہیں اور انتہائی اقدام اٹھانے کے حوالے سے ایسی متضاد باتوں کا مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ اگر انتہائی قدم اٹھایا جائے تو اس حوالے سے گفتگو ریکارڈ پر ہو،باقی واللہ اعلم۔ دوسری طرف ایران کی جانب سے ان تمام تر دھمکیوں کے جواب میں واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ اس مرتبہ بھی اپنی خواہش پوری کر لیں لیکن اس مرتبہ بھی جواب ماضی سے ہٹ کر نہیں ہو گا بلکہ ایران اس مرتبہ کچھ نیا جواب دے گا ،ایران کے اہداف بھی مختلف اور نئے ہوں گے اور اگر ایران کے بنیادی انفراسٹرکچر،توانائی،ایٹمی سائیٹس یا ایسے اثاثوں کو ہدف بنایا گیا تو جواب میں ایران نہ صرف مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک ،جو ایران کے دشمن کی معاشی لائن ہیں،ان کو نشانہ بنایا جائے گا بلکہ اس مرتبہ ممکنہ طور پر ،امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ زیر سمندر کیبلز،ڈیٹا سینٹرز ،اے آئی سینٹرز وغیرہ بھی ایران کے نشانے پر ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کا ایٹمی پلانٹ دیمونا بھی ایران کا جائز ہدف ہوگا۔ ان تمام حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر یہ سمجھا جائے کہ امریکہ و اسرائیل اپنی داخلی صورتحال سے مجبور ہو کر ایران پر حملہ کریں تو ممکنہ طور پر ستائیس اکتوبر سے قبل جنگ کے اس ’’ طبل کو بج جانا‘‘ چاہئے۔

جواب دیں

Back to top button