ہوش کے ناخن

ہوش کے ناخن
محمد مبشر انوار
بحرانوں کی زرخیز سرزمین پاکستان اس وقت ایک اور شدید بحران سے گزر رہی ہے اور توقع تھی کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے مذاکرات کے دوران اس کا کوئی مثبت حل تلاش کر کے، اس بحران کو ٹال لیں گے مگر افسوس کہ مذاکرات کی یہ نشست گفتند، نشستند، برخواستند سے زیادہ نہیں نکلی۔ دو دن جاری رہنے والے مذاکرات حسب توقع ناکامی کا شکار ہو گئے، جس کے متعلق راقم نے اپنی گزشتہ تحریر ’’ مائی وے یا ہائی وے‘‘ میں لکھا تھا کہ حکومت ہر صورت اپوزیشن سے اپنے مطالبات ہر صورت منوانا چاہتی ہے اور اگر اپوزیشن کی جانب سے اتفاق نہ کیا گیا تو انتہائی اقدام بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ مذاکرات ناکامی کی وجوہات منظر عام پر آچکی ہیں جس میں حکومتی اور اپوزیشن موقف حسب توقع ہی رہا لیکن اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو اپوزیشن، جو نسبتا کمزور ہوتی ہے، نے بہرحال اپنے موقف میں لچک دکھائی اور حکومت سے آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے ہی اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی۔ اپوزیشن کے مطالبات درحقیقت وہ حقوق ہی تھے، جس کی ضمانت، کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی قیدی کو آئین و قانون فراہم کرتے ہیں لیکن بدقسمتی دیکھیں کہ حکومت ان آئینی و قانونی حقوق کو بھی یقینی نہ بنا سکی، جس کی وجہ واضح ہے کہ حکومت کے پاس اس کا اختیار ہی نہیں کہ فارم 47کی حکومت کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے اور ہر فیصلہ کرنے سے پہلے، مقتدرہ کی اجازت درکار ہے کہ اس کے بغیر یہ حکومت ایک قدم نہیں چل سکتی وگرنہ یہ ممکن نہ تھا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوتے۔ دوسری اہم وجہ بھی انتہائی واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی سیاسی بلوغت بھی آشکار ہو چکی کہ اگر واقعتا سیاسی ذہن ہوتے تو ایسی صورتحال کو زیادہ بہتر اور سیاسی انداز سے طے کیا جا سکتا تھا مگر حکومت کا موجودہ رویہ بہرطور پس پردہ آمریت کو ظاہر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مذاکرات کی ناکامی میں ایک نکتہ، جس پر اپوزیشن کا وضاحت مانگنا، اس کا حق تھا سے انکار، ناکامی کا سبب بنا کہ صوبے میں کسی بھی فوجی آپریشن یا آئینی اقدام کی وضاحت کہ وفاقی حکومت کس قسم کا آپریشن یا آئینی اقدام کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت اس کی وضاحت نہ دینے پر بضد رہی اور مطالبہ کرتی رہی کہ وفاقی حکومت جو بھی اقدام کرے، صوبائی حکومت غیر مشروط طور پر اس کی تائید و حمایت کرے۔ دوسری طرف صوبائی حکومت، جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر آئی ہے اور اپنے صوبے اور عوام کے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے، وہ نہیں چاہتی کہ صوبے میں ایسا کوئی بھی آپریشن یا اقدام ہو، جو اس کی مشاورت کے بغیر ہو، لہذا معاملات معلق ہو گئے اور سیاسی مذاکرات کاروں کی ایک نہ چلی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور تحریک انصاف کے وفد کی بے بسی دیکھنے لائق تھی کہ ایک طرف حکومتی وفد اور محسن نقوی اپنے قائدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انکی ہدایات لے رہے تھے مگر اپوزیشن کے اس مطالبے پر کسی بھی طور حامی بھرنے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ہی ملاقات کی یقین دہانی کروا رہے تھے، مراد اپنی شرائط زبردستی منوا کر ہی عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی کروا رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر صورت لانگ مارچ منسوخ کرنے کے لئے دبائو ڈالا جارہا تھا، کیا مذاکرات اس طرح غیر مساوی مواقع پر ہوتے ہیں؟۔ حکومت کو اس کا خیال رکھنا چاہئے تھا بشرطیکہ حکومت واقعی ان مذاکرات میں سنجیدہ ہوتی، نیک نیت ہوتی تو اس طرح غیر مساویانہ طرز عمل اختیار نہ کرتی، اڈیالہ جیل کے دروازے اگر نصف شب یا علی الصبح ، اپنی سہولت کے مطابق کھولے جا سکتے ہیں تو ملک و قوم کی خاطر، اپوزیشن وفد سے مذاکرات کے دوران کھلنے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے تھی لیکن آمرانہ ذہنیت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ بلا شبہ تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان 27ستمبر کو کیا گیا تھا مگر پس پردہ روابط کو مد نظر رکھتے ہوئے، سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے موومینٹم کو دائو پر لگاتے ہوئے، اسی ایک ہفتہ تک ملتوی کیا کہ ممکنہ طور پر مذاکرات کے راستے کوئی بہتر نتیجہ نکل آئے مگر یہاں بھی حکومتی بدنیتی کے آثار ہی دکھائی دئیے کہ لانگ مارچ کا موومینٹم توڑنے کے لئے، اس کو موخر کروایا گیا لیکن حقیقی عوامی حمایت بہرحال تحریک انصاف اور سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے اور لانگ مارچ تا دم تحریر پشاور پہنچ رہا ہے اور عوام کی بڑی تعداد اس میں شریک ہے۔ آج شام تک یہ لانگ مارچ، صوابی یا خیر آباد پل تک پہنچے گا جہاں سہیل آفریدی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے البتہ ابھی بھی امیدیں برقرار ہیں کہ عوام جم غفیر کو دیکھتے ہوئے یا حالات کا تقاضہ سمجھتے ہوئے، مذاکرات کا ڈول دوبارہ ڈالا جائے۔
اس امید کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں کشمیر انڈر پاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے ایک مرتبہ اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اگر اپوزیشن لانگ مارچ ’’ منسوخ‘‘ کر دے تو مذاکرات دوبارہ ہو سکتے ہیں۔ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا لانگ مارچ اور دھرنوں کا پہلا نشانہ معیشت بنتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں معاشی حالات پہلے ہی انتہائی دگرگوں ہیں وہاں لانگ مارچ اور دھرنوں کا اثر معیشت پر ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کون سی معیشت اور کہاں کی معیشت؟، کیا پاکستان میں معیشت پہلے ہی زبوں حالی کا شکار نہیں ہے؟، پاکستان تاریخ کی بدترین معاشی بدحالی سے گزر رہا ہے کہ اتنی خراب معیشت کبھی بھی پاکستان نے نہیں دیکھی تھی کہ اس وقت حالت یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی صنعت بند ہورہی ہے اور یہ سرمایہ کار اور صنعتکار پاکستان سے اپنا سرمایہ اور صنعت کو دوسرے ممالک منتقل کر رہے ہیں کہ پاکستان میں ایک طرف امن و امان کی خراب صورتحال ہے، دوسری طرف غیر مستقل کاروباری پالیسیاں ہیں، تیسری طرف مقامی صنعتکاروں کے لئے مہنگی بجلی ( جو دور جدید میں ایک بنیادی ضرورت ہے کوئی آسائش نہیں اور اس کی فراہمی ہی صنعتی ترقی و صنعتی پہیے کے چلنے کی ضامن ہے) ہے جو تسلسل کے ساتھ میسر بھی نہیں اور چوتھی وجہ یہ ہے کہ چین کی مصنوعات مقامی منڈی میں مقامی صنعتکار کی پیداواری لاگت سے بھی کم میسر ہے۔ اس صورتحال میں یہ کیسے ممکن ہے کہ مقامی صنعتکار کس طرح عالمی منڈی کا مقابلہ کر سکتی ہے ؟ یہ عناصر تو مقامی صنعت کو زندہ درگور کر رہی ہے اور مقامی مصنوعات میں عالمی منڈی کا مقابلہ کرنے کی سکت ہی باقی نہیں رہی البتہ اس وقت پاکستان کی واحد پراڈکٹ جو عالمی منڈیوں میں میسر ہے، وہ افرادی قوت ہے، جب کہ وہ بھی متاثر ہونے کے قریب قریب ہے گو کہ حکومت پاکستان کی جانب کچھ اقدامات ایسے لئے گئے ہیں، جن سے افرادی قوت کی مانگ میں کمی نہ ہو سکے۔ بالخصوص مشرق وسطی کے ممالک بھی، جہاں پاکستان کی زیادہ تر افرادی قوت کی مانگ رہی ہے، وہاں اب محنت کشوں کے حوالے سے بھی پالیسیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور فقط جسمانی محنت ہی کافی نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دور جدید کے تقاضوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت درکار ہے، جس کے لئے پاکستان میں تربیت کے مراکز قائم کئے گئے ہیں مگر ان کی تعداد اتنی نہیں کہ وہ طلب کے مطابق بروئے کار آ سکیں۔ بہرکیف اس پس منظر میں شہباز شریف کا یہ کہنا کہ پاکستانی معیشت لانگ مارچ اور دھرنوں کی متحمل نہیں ہو سکتی، کسی حد تک قابل فہم ہے، لیکن ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود اگر یہ خاندان پاکستانی صنعت کو فروغ نہیں دے پایا تو اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ ان کی نظریں فقط اپنے ذاتی کاروبار کی ترقی پر مرکوز رہی ہیں۔ جبکہ پیشہ ور افراد کے بیرون ملک جانے کو فیلڈ مارشل نے ایک وقت میں برین ڈرین کی بجائے برین گین کا نام دیا تھا مگر اس برین گین سے صرف ترسیل زر ہی حاصل ہوتا ہے، جبکہ وہ پیشہ ورانہ مہارت جس کا فائدہ ریاست پاکستان کو اٹھانا ہے، وہ دوسرے ممالک اٹھا رہے ہیں۔
بہرحال سہیل آفریدی نے پہلے جس طرح 27ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کرکے، حکومت کو مذاکرات کا وقت دیا تھا، اب بھی لانگ مارچ کو بتدریج اسلام آباد کی طرف لاتے ہوئے، مسلسل حکومت کو وقت دے رہے ہیں کہ کسی طرح حکومت حالات کا ادراک کرے اور معاملات کو منصفانہ طریقے سے ملک و قوم کی خاطر حل کرنے کا سوچے، جس سے ملک کشیدگی و تصادم سے بچے لیکن صد افسوس کہ حکومت کی جانب سے ابھی بھی لانگ مارچ سے طاقت کے ذریعہ نپٹنے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مسلم لیگ ن کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ اس کی قیادت اور اس کے سپورٹرز ہمیشہ سے اپنے مخالفین کو پاکستان مخالف ہی سمجھتے رہے ہیں اور حب الوطنی کا تمام کریڈٹ اپنی ذات و جماعت تک محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ اس وقت حقیقت اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے کہ پاکستان کی اسی، نوے فیصد عوام کی حمایت تحریک انصاف کے ساتھ ہے، لیکن آج بھی مسلم لیگ ن خود کو اور نجانے کس کس کو یہ باور کروانے میں مصروف ہے کہ تحریک انصاف پاکستان دشمن جماعت ہے، لہذا اس کے لانگ مارچ سے سختی اور طاقت سے نپٹا جائیگا، خدارا اس سوچ سے نکلیں، اور ہوش کے ناخن لیں، وگرنہ بھاگنے کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔





