Column

مذاکرات کی میز ہی قومی مفاد کا راستہ

مذاکرات کی میز ہی قومی مفاد کا راستہ
پاکستان اس وقت ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی کشیدگی کی ایک نئی لہر صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے نہیں بڑھائے گی، بلکہ اس کے اثرات براہِ راست عام آدمی کی زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور ملکی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل سڑکوں، دھرنوں اور لانگ مارچ کے بجائے بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ مارچ اور دھرنے ختم کیے جائیں تو حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے یہ موقف سامنے آرہا ہے کہ مذاکرات کی پیشکش محض رسمی ہے اور عملی طور پر اس سمت میں مطلوبہ اقدامات نہیں کیے جاتے۔ اگر دونوں جانب اپنے اپنے تحفظات موجود ہیں تو ان کا جواب بھی مذاکرات ہی میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ایک فریق دوسرے کی نیت پر سوال اٹھاتا رہے اور دوسرا فریق بات چیت کی شرطیں پیش کرتا رہے تو تعطل ختم نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں جانب سے ایک قدم آگے بڑھایا جائے اور قومی مفاد کو سیاسی انا پر مقدم رکھا جائے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت کسی نئی سیاسی محاذ آرائی کے بوجھ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ مہنگائی نے پہلے ہی عام شہری کی قوت خرید محدود کردی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہے، کاروباری طبقہ بے یقینی صورت حال سے دوچار ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ملک کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے ماحول میں اگر احتجاج، لانگ مارچ، دھرنوں اور سیاسی کشیدگی کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، شاہراہیں بند ہوتی ہیں، سپلائی چَین میں رکاوٹ آتی ہے یا برآمدی و صنعتی سرگرمیوں پر دبا بڑھتا ہے تو نقصان بالآخر حکومت یا اپوزیشن کا نہیں، پاکستان کے عام شہری کا ہوگا۔ یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ سیاست میں احتجاج جمہوری حق ہے۔ اختلاف رائے بھی جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے اور اپوزیشن کو حکومت سے سوال کرنے، پالیسی پر تنقید کرنے اور عوام کے سامنے اپنا مقف رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ تاہم جمہوری احتجاج اور ایسا احتجاج جس سے ریاستی نظام، معیشت اور شہری زندگی طویل عرصے تک مفلوج ہونے لگے، دونوں میں فرق رکھنا بھی ضروری ہے۔ سیاسی مطالبات کے لیے آئینی اور جمہوری راستے موجود ہیں، پارلیمان موجود ہے اور مذاکرات کی میز بھی موجود ہے۔ اسی لیے موجودہ صورت حال میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنی اپنی پوزیشن سے کچھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اگر مذاکرات کی پیشکش کر رہی ہے تو اسے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اعتماد سازی کے عملی اقدامات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ دوسری طرف اپوزیشن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بصیرت کی علامت ہے۔ کسی بھی اختلاف کا حتمی حل اسی وقت نکلتا ہے جب فریقین ایک دوسرے کا موقف سننے اور قابلِ عمل راستہ تلاش کرنے پر آمادہ ہوں۔ حکومت کا یہ موقف بھی اپنی جگہ قابلِ غور ہے کہ احتجاجی سیاست کے باعث ملکی ترقی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان نے سیاسی عدم استحکام کے معاشی اثرات دیکھے ہیں۔ جب سرمایہ کار بے یقینی صورت حال محسوس کرتے ہیں تو سرمایہ کاری کے فیصلے موخر ہوسکتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں سُست پڑ سکتی ہیں اور روزگار کے مواقع پر اثر پڑ سکتا ہے۔ برآمدات، صنعت، تجارت اور ٹرانسپورٹ کا پہیہ مسلسل چلتا رہے تو ہی معیشت میں بہتری کی بنیاد مضبوط ہوسکتی ہے۔ اس لیے آج اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ سیاسی طور پر کون جیتا اور کون ہارا۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کیسے جیتے گا؟، اگر مذاکرات کے ذریعے کسی تنازع کا حل ممکن ہے تو پھر سڑکوں پر تصادم کیوں؟ اگر ایک دوسرے کے تحفظات سن کر درمیانی راستہ نکالا جاسکتا ہے تو پھر ایسے اقدامات کیوں کیے جائیں جن سے ملک کی معیشت مزید دبائو میں آئے؟ سیاست کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ضرور ہوسکتا ہے، مگر ریاست کا مقصد عوام کی زندگی بہتر بنانا ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں کی سیاست کا آخری مرکز پاکستان کے عوام ہی ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو محض ایک سیاسی بیان سمجھنے کے بجائے اسے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر اپوزیشن کو خدشات ہیں کہ مذاکرات صرف رسمی کارروائی بنیں گے تو ان خدشات کو مذاکرات کی میز پر ہی سامنے لایا جائے۔ حکومت سے واضح ضمانتیں اور عملی اقدامات طلب کیے جائیں۔ اسی طرح حکومت کو بھی اپوزیشن کے تحفظات کو سنجیدگی سے سننا ہوگا۔ مذاکرات تب ہی کامیاب ہوتے ہیں جب دونوں فریق صرف اپنی بات منوانے کے بجائے دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ ملک اس وقت مزید تقسیم کا نہیں، سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا تقاضا کر رہا ہے۔ عام آدمی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ سیاسی تقریروں میں کون زیادہ بلند آواز میں بولا۔ اسے روزگار چاہیے، مہنگائی میں ریلیف چاہیے، کاروبار کے لیے سازگار ماحول چاہیے، بجلی اور گیس کے مسائل میں بہتری چاہیے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید چاہیے۔ ایسے میں سیاسی قیادت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کے اثرات کو صرف سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ قومی اور عوامی زاویے سے بھی دیکھے۔ احتجاج کا حق اپنی جگہ، اختلاف اپنی جگہ، سیاسی مطالبات اپنی جگہ، لیکن ریاست اور معیشت کو مسلسل کشمکش میں رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ اب وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، ایک دوسرے کے تحفظات سنیں، قابلِ عمل نکات طے کریں اور اختلافات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ حکومت کو بھی اپنی پیشکش کو عملی اعتماد سازی سے مضبوط بنانا ہوگا اور اپوزیشن کو بھی احتجاج کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینی ہوگی۔ پاکستان کو اس وقت ایک اور طویل سیاسی محاذ آرائی نہیں، استحکام کی ضرورت ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر سیاسی قیادت مل بیٹھ کر راستہ نکال سکتی ہے تو یہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ سیاست میں اختلاف رہے، موقف میں سختی رہے، حکومت پر تنقید بھی ہو اور اپوزیشن اپنا حق بھی ادا کرے، مگر پاکستان کی معیشت اور عوامی زندگی کو سیاسی کشمکش کی قیمت نہ بننے دیا جائے۔ آخر میں فیصلہ یہی ہونا چاہیے کہ دھرنے اور تصادم نہیں، مذاکرات اور مفاہمت آگے بڑھیں۔ کیونکہ سیاسی کامیابی وہ نہیں جس میں ایک فریق دوسرے کو شکست دے دے، بلکہ اصل کامیابی وہ ہے جس میں اختلاف ختم ہو، معیشت چلتی رہے اور عام پاکستانی کا مستقبل محفوظ ہو۔
منشیات کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب
بلوچستان کے ضلع کیچ میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی تازہ کارروائی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کو منشیات کے جس منظم نیٹ ورک کا سامنا ہے، وہ محض چند اسمگلروں تک محدود نہیں بلکہ اس کے روابط سرحدوں سے نکل کر بین الاقوامی سطح تک پھیلے ہوئے ہیں۔ خفیہ ٹھکانے پر چھاپے کے دوران 3ہزار 825کلوگرام منشیات کی برآمدگی معمولی کامیابی نہیں۔ برآمد ہونے والی منشیات میں2 ہزار 454کلوگرام چرس، ایک ہزار 363کلوگرام میتھ ایمفیٹامائن اور 8کلوگرام ہیروئن شامل ہے، جن کی مجموعی مالیت 56کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ منشیات افغانستان سے پاکستان منتقل کی گئی تھیں اور مناسب موقع ملنے پر سمندری راستے سے بیرون ملک اسمگل کیے جانے کا منصوبہ تھا۔ اس انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت جہاں تجارت اور علاقائی رابطوں کے لیے ایک بڑی قوت ہے، وہیں منظم جرائم پیشہ عناصر اسی جغرافیہ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اے این ایف کی کارروائی کا اہم پہلو یہ ہے کہ صرف منشیات برآمد کرکے معاملہ ختم نہیں کیا گیا بلکہ اس سے منسلک اسمگلنگ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہی وہ حکمت عملی ہے جس کے ذریعے منشیات کے کاروبار کی اصل جڑ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ قریباً ایک ماہ قبل بھی اے این ایف کی انٹیلی جنس معلومات کے نتیجے میں سری لنکا کی کولمبو بندرگاہ پر 463کلوگرام میتھ ایمفیٹامائن برآمد ہوئی تھی۔ اس کارروائی کے بعد افغان سرغنہ کی گرفتاری نے اس نیٹ ورک کے علاقائی اور بین الاقوامی روابط کو مزید نمایاں کیا۔ موجودہ کارروائی اسی وسیع تر سلسلے کی ایک اور کڑی دکھائی دیتی ہے۔ منشیات صرف ایک غیر قانونی کاروبار نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ایک معاشرہ جس کی نوجوان آبادی نشے کی لپیٹ میں آجائے، وہ اپنی معاشی، سماجی اور تعلیمی ترقی کی رفتار برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے منشیات کے خلاف کارروائی صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ والدین، تعلیمی اداروں، معاشرے اور ریاست سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ سرحدی نگرانی مزید موثر بنائی جائے، سمندری راستوں کی نگرانی جدید ٹیکنالوجی سے مضبوط کی جائے اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ مزید تیز کیا جائے۔ منشیات کے بڑے نیٹ ورک صرف ایک ملک کی کارروائی سے ختم نہیں ہوتے، ان کے لیے علاقائی اور عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ اے این ایف کی حالیہ کامیابی حوصلہ افزا ضرور ہے، مگر یہ جنگ طویل ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب منشیات کے نیٹ ورک کے سرغنوں، سہولت کاروں، مالی معاونین اور ترسیلی نظام تک پہنچ کر پورے ڈھانچے کو توڑا جائے۔ پاکستان کو ’’ منشیات سے پاک‘‘ بنانے کا عزم اسی وقت حقیقت بنے گا جب ہر کارروائی صرف منشیات کی برآمدگی تک محدود نہ رہے بلکہ اسمگلنگ کے پورے نظام کا خاتمہ اس کا مقصد ہو۔

جواب دیں

Back to top button