معاشی اصلاحات کا امتحان

معاشی اصلاحات کا امتحان
پاکستان کی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں محض اعداد و شمار کی چمک سے منزل کا تعین نہیں ہو سکتا۔ قومی معیشت کو حقیقی استحکام دینے کے لیے ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو وقتی داد وصول کرنے کے بجائے آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط معاشی بنیاد فراہم کریں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات سے ملاقات میں یہ کہنا کہ مشکل حالات کے باوجود مشاورت سے بنیادی اصلاحات کی گئیں اور انفورسمنٹ کے ذریعے ایک سال میں 800ارب روپے وصول کیے گئے، بلاشبہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حکومت معیشت کو روایتی انداز سے نکال کر ایک نئے راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ خزانے میں کتنی رقم جمع ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ اس عمل سے معیشت کی پیداواری صلاحیت کتنی بڑھی، کاروبار کے لیے ماحول کتنا آسان ہوا، سرمایہ کاری میں کتنا اضافہ ہوا اور عام شہری کی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ ریاست اگر اپنے محصولات بڑھانے کے ساتھ ساتھ صنعت کا پہیہ تیز، تجارت کو آسان اور سرمایہ کار کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے تو یہی اصلاحات حقیقی معاشی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت نے بجٹ سے قبل صنعت کاروں اور تاجر برادری سے متعدد ملاقاتیں کیں اور ان کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا۔ یہ طرزِ عمل خوش آئند ہے، کیونکہ معیشت کسی ایک وزارت، دفتر یا اجلاس کی میز پر تشکیل نہیں پاتی۔ معیشت کارخانوں کی چمنیوں، بازاروں کی رونق، بندرگاہوں کی سرگرمی، کھیتوں کی پیداوار اور کاروباری اعتماد سے جنم لیتی ہے۔ پالیسی بنانے والوں اور پالیسی سے متاثر ہونے والوں کے درمیان جتنا مضبوط رابطہ ہوگا، فیصلے اتنے ہی حقیقت پسندانہ ہوں گے۔ صنعت کار اور تاجر صرف ٹیکس میں رعایت نہیں چاہتے، انہیں بجلی، گیس، خام مال، شرح سود، انفرا اسٹرکچر، برآمدی سہولتوں، قانونی تحفظ اور پالیسیوں کے تسلسل کی بھی ضرورت ہے۔ سرمایہ کار سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ آج بنایا گیا کاروباری منصوبہ کل کی کسی اچانک پالیسی تبدیلی کی نذر تو نہیں ہوجائے گا۔پاکستان کے معاشی سفر کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے درآمدات اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کے بجائے کئی دہائیوں تک آسان راستوں کا انتخاب کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ برآمدات کو محض ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ قومی ترجیح بنایا جائے۔ وزیراعظم کا برآمدات پر مبنی ترقی کو اولین ترجیح قرار دینا اسی سمت میں ایک اہم اشارہ ہے۔ پاکستان کے پاس زرعی پیداوار، ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان، سرجیکل مصنوعات، آئی ٹی، فری لانسنگ، معدنیات، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم ان امکانات کو عالمی منڈی کی ضرورت کے مطابق کس قدر منظم اور مسابقتی انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ دنیا اب صرف خام مال خریدنے والی منڈی نہیں رہی۔ معیار، ٹیکنالوجی، برانڈنگ، بروقت ترسیل اور جدت عالمی تجارت کے بنیادی تقاضے بن چکے ہیں۔ خصوصاً آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا شعبہ پاکستان کے لیے ایک نئی کھڑکی کھول سکتا ہے۔ جاز کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی فیکٹریز پر توجہ کی بات اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آنے والی معیشت صرف روایتی صنعتوں سے نہیں چلے گی۔ پاکستان کی نوجوان آبادی اگر جدید ہنر، ڈیجیٹل تعلیم اور عالمی معیار کی تربیت حاصل کرلے تو ملک بغیر کسی بڑے جغرافیائی انفرا اسٹرکچر کے بھی دنیا کے لیے خدمات برآمد کر سکتا ہے۔ لیکن اس خواب کی تعبیر کے لیے صرف اے آئی کا نام لینا کافی نہیں۔ قابل اعتماد انٹرنیٹ، سستی اور مسلسل توانائی، جدید تعلیمی ادارے، ہنرمند افرادی قوت، سائبر سیکیورٹی اور سرمایہ کاری کے لیے واضح قوانین ناگزیر ہیں۔ دنیا علم کی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس دوڑ میں تماشائی بن کر رہنا چاہتا ہے یا فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ انفورسمنٹ کے ذریعے 800ارب روپے کی وصولی بھی ایک اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے، تاہم یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا یہ وصولی مستقل معاشی اصلاحات کا آغاز ہے یا صرف عارضی مالی سہارا؟ اگر ٹیکس نظام میں شفافیت، دستاویزی معیشت، ٹیکس چوری کی روک تھام اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کی بحالی ساتھ ساتھ نہ ہو تو محض انفورسمنٹ طویل مدت میں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی۔ ریاست کو ایسے نظام کی طرف بڑھنا ہوگا جہاں ایمان دار ٹیکس دہندہ خود کو سزا یافتہ اور ٹیکس چور خود کو محفوظ محسوس نہ کرے۔ اسی طرح ایف بی آر کے دفاتر مختلف شہروں میں کھولنے جیسے اقدامات عوام اور کاروباری طبقی کو سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ ریاست کی موجودگی صرف بڑے شہروں کے مرکزی دفاتر تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ جس تاجر کو ایک معمولی مسئلے کے حل کے لیے دور دراز دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، اس کے لیے کاروباری لاگت صرف روپے میں نہیں بلکہ وقت اور ذہنی اذیت میں بھی بڑھتی ہے۔ حکومت کے لیے اصل امتحان اب یہ ہے کہ اصلاحات کو تسلسل دیا جائے۔ پاکستان کو بار بار معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہیں بلکہ مستقل معاشی نظم درکار ہے۔ ایسی پالیسی جو حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہ ہو، ایسا ٹیکس نظام جو انصاف پر قائم ہو، ایسی صنعت جو توانائی کے بحران سے محفوظ ہو اور ایسی برآمدات جو چند روایتی شعبوں تک محدود نہ رہیں۔ معیشت کا سفر طویل ضرور ہے، مگر سمت درست ہو تو منزل ناممکن نہیں۔ حکومت، صنعت کار، تاجر، بینک، ماہرین اور عام شہری سب اس سفر کے شریک ہیں۔ حکومت اگر مشاورت، اصلاحات اور برآمدی ترقی کے اپنے وعدوں کو عملی تسلسل میں بدل دے تو پاکستان کی معاشی کہانی قرض کے صفحات سے نکل کر پیداوار، تجارت اور خود انحصاری کے باب میں داخل ہوسکتی ہے۔ قوم کو اب ایسے معاشی وعدوں کی نہیں، ایسے نتائج کی ضرورت ہے جو بازار، کارخانے، کھیت اور گھر، سب میں محسوس ہوں۔ پاکستان کے معاشی مستقبل کی کنجی شاید کسی ایک بڑے فیصلے میں نہیں، بلکہ ان چھوٹے مگر مسلسل درست فیصلوں میں پوشیدہ ہے جو آج کی مشکلات کو کل کی طاقت میں بدل دیتے ہیں۔
ڈینگی کا پھیلائو اور غفلت
پاکستان میں ڈینگی اب محض ایک موسمی بیماری نہیں رہی بلکہ خاموشی سے پھیلتا ہوا ایسا صحت عامہ کا بحران بن چکی ہے، جس کے حقیقی حجم کا اندازہ سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کی سربراہی میں ہونے والی نئی تحقیق نے اس تشویش کو اعداد و شمار کی مضبوط بنیاد فراہم کردی ہے۔ تحقیق کے مطابق ملک میں ڈینگی کے کیس 2012ء میں قریباً ایک لاکھ سے بڑھ کر 2022ء میں اندازاً 32لاکھ 80ہزار تک پہنچ گئے۔ یہ اضافہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسے خطرے کی گھنٹی ہے جسے مسلسل نظرانداز کرنا مستقبل میں بھاری قیمت کا سبب بن سکتا ہے۔ اس تحقیق کا سب سے تشویش ناک پہلو سندھ کی صورت حال ہے، جہاں فی ایک ہزار افراد میں 45.63کیسز کی شرح کے ساتھ قریباً 26لاکھ 30ہزار کیسز کا تخمینہ سامنے آیا ہے۔ کراچی ایسٹ کو سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قرار دیا جانا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں ڈینگی کے خلاف روایتی اور وقتی اقدامات کے بجائے مستقل اور سائنسی بنیادوں پر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ڈینگی کے پھیلائو میں گندگی، جمع پانی، ناقص نکاسی آب اور مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے کئی شہروں میں صفائی اور نکاسی آب کا نظام خود بیماریوں کے لیے زمین ہموار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مون سون آتے ہی اسپرے اور فوگنگ کی سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں، مگر بیماری کے بنیادی اسباب ختم کرنے کے لیے مستقل منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈینگی کو صرف محکمہ صحت کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے بلدیاتی، ماحولیاتی اور انتظامی ترجیحات سے جوڑا جائے۔ ہائی رسک اضلاع کی نشان دہی، جدید نگرانی، بروقت تشخیص، موثر علاج اور مچھروں کی افزائش گاہوں کا خاتمہ ایک مربوط منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے۔ طبی عملے کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً وولباچیا جیسے سائنسی طریقوں پر سنجیدہ سرمایہ کاری بھی وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈینگی کے خلاف جنگ اسپتالوں میں نہیں، بیماری کے پیدا ہونے سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ اگر صاف پانی، بہتر نکاسی آب، صفائی اور موثر شہری انتظام کو یقینی بنا لیا جائے تو ہزاروں نہیں، لاکھوں انسانوں کو بیماری سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اب وقت آچکا کہ ڈینگی کے اعداد و شمار کو محض رپورٹ کا حصہ نہیں بلکہ قومی خطرے کا انتباہ سمجھا جائے۔ خاموش مچھر کے خلاف جنگ میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔





