تھوڑا سا انحراف، اس بار کر لیجیے

تھوڑا سا انحراف، اس بار کر لیجیے!
تحریر : عبد الحنان راجہ
محترم زرداری، نواز شریف و مولانا سے عرض کہ حضور نوشتہ دیوار لکھا جا چکا۔ عوام کو جہالت غربت پس ماندگی اور اندھیروں میں رکھ کر ملک چلے گا یا آپکی سیاست۔ اب نظام کی رخصتی کا وقت ہے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ رخصت ہونے سے بچنے کے لیے اختیارات کی تقسیم اور انتظامی یونٹس بارے عوامی جذبات کا خیال کریں۔
مجھ میں کتنے راز ہیں بتلاوں کیا
بند اک مدت سے ہوں کھل جائوں کیا
عاجزی، منت ، خوشامد، التجا
اور میں کیا کیا کروں، مر جائوں کیا
عام آدمی کے مسائل آپ کی طرح بڑے ہیں اور نہ آپکی چالوں کی طرح پیچیدہ۔ اپنے مفادات کے لیے عورت کی حکمرانی کا جواز بھی آپ کے ہاں ملتا ہے تو کہیں ڈکٹیٹر کی بیعت کا۔ آئینی حدود میں رہتے ہوئے آپ نے اب تک بڑے کمالات کیے۔ اس بارجانے دیجئیے، عوام کی خاطر، در گزر کیجیے۔ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور KPکے دور دراز علاقوں کے رہنے والے مجبور، بے بس اور غریب لوگوں کی خاطر آئین سے زرا سا انحراف کر لیجیے!۔ عام آدمی کی بھی زرا سنیے جب سے معلوم پڑا کہ دارالحکومت ہماری کٹیا کے قریب بننے کو ہے، تو یقین جانیے دل تھامنا مشکل ہو گیا مگر ایک منحوس نے خبر اڑائی کہ بلاول زرداری، مولانا فضل الرحمن کھلے بندوں، نواز شریف کی خاموشی اور PTIکے جنرل سیکرٹری امیدوں کی راہ میں رکاوٹ تو اس روز سے ہمارے گھروں میں صف ماتم۔ حضور میڈیا کی زبانی جب یہ معلوم ہوا کہ تھرپارکر میں گزشتہ پانچ سالوں میں 07ہزار سے زائد اموات صرف بچوں کی ہوئیں، مٹھی کے سول ہسپتال میں گزشتہ 08ماہ کے دوران 480بچے موت کے منہ میں چلے گئے تو ہماری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ سندھ کے بعض ضلعوں میں غربت کی شرح 80فیصد، اور تو اور سائیں مراد علی شاہ کے حلقہ میں سڑکیں خستہ حال اور بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹر نہیں۔KPکے وزیر اعلی کے آبائی حلقہ کے عوام پینے کے صاف سے محروم سکولوں میں کرسیاں نہیں صرف یہی نہیں بلکہ سہیل آفریدی کے حلقہ انتخاب میں منشیات کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے، کے پی کا ایک کوہستان سکینڈل ہی (600ارب) کا یہ سب جان کر کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ مگر جب مایوسی بڑھنے کو تھی کہ خبر ملی کہ اسلام آباد سے اختیارات کی تقسیم کا آغاز ہونے کو ہے تو پھر سے دل میں امید روشن ہونے لگی ہے۔ اپنے معزز قائدین اور اراکین اسمبلی سے دست بستہ عرض ہے کہ بنیادی سہولیات سے محروم عوام کو قانونی موشگافیوں اور آئینی پیچیدگیوں میں الجھا کر موقع کی نزاکت کے پیش نظر اپنے مفادات پر سودا بازی کی بجائے بھیڑ بکریوں جیسی زندگی گزارنے والوں پر رحم کیجیے!!!۔
ہم نے مانا کہ کپتان سمیت آپ چاروں ہمارے بڑے اور آج تک آپ نے آئین سے سرمو انحراف کیا نہ اقتدار کی خاطر کبھی طاقتور سے سمجھوتہ، آپ نے ہماری ہی خاطر اقتدار کا کانٹوں بھرا طوق پہنا۔ ہماری درخواست کو شرف پذیرائی بخشیے ۔ ابھی کے لیے غصہ جانے دیجیے اور تھوڑا سا انحراف کر کے انتظامی یونٹس اور بااختیار ضلعی نظام پر اتفاق کر کے عوام پر احسان عظیم کیجیے۔
ہم عوام آپ کی اس آئینی خلاف ورزی کا گناہ اپنے ذمہ لینے کو تیار! حد نہیں کہ NFCایوارڈ کے تحت سندھ کو اب تک22ہزار ارب روپے ملے مگر سندھ ہے کہ عوام کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر۔ بلوچستان کو ہر دور میں خصوصی حیثیت دی گئی مگر پچاس لاکھ کی آبادی کے فنڈز کا بڑا حصہ مبینہ طور پر وڈیروں اور سرداروں کی جیبوں میں۔؟۔
نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار ضلعی نظام حکومت کا خیال کیوں ؟
وجہ یہ ہوئی کہ عالمی سطح پر بڑی کامیابیاں، خطے کے کئی ایک ممالک کے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدات اور ماضی کے بالکل برعکس امریکہ سمیت یورپ میں پاکستان کی سفارتی پذیرائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار کے باوجود اندرونی طور ثمرات جبکہ عوامی اضطراب اور بے چینی بڑھتی ہی جانے لگی تو اس صورتحال نے سنجیدہ، مخلص اور طاقتور حلقوں کو سوچنے پر مجبور کیا کہ موجود سسٹم کہ جو کم و بیش 1100نمائندگان کو پال پوس رہا ہے اور سرخ فیتے کے نظام نے تعمیر و ترقی کا ہر دروازہ بند کر رکھا ہے۔ ایسے میں چارہ گروں کے پاس اور اس کے سوا کیا آپشن کے ملک کو چند خاندانوں کی اجارہ داری سے نکال کر مڈل کلاس اور نئی قیادت کو آگے آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ وہی PPPجو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حق میں ہے وہ سندھ میں انتظامی یونٹس تک کے لیے مرنے مارنے پر آمادہ، مسلم لیگ ن ہو یا PPPانہیں مسئلہ انتظامی یونٹس ہا صوبوں سے شاید اتنا نہ ہو مگر عشروں سے سیاسی و انتظامی طاقت کی تقسیم انہیں آمادہ بر احتجاج و اعتراض کرتی ہے۔ ہر کو معلوم کہ انتظامی یونٹس سے سندھ کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہوتی ہے نہ پنجاب کی۔ مگر پی پی سندھ نہ ڈیسوں کا نعرہ لگا کر اچھی طرز حکمرانی، تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل سے بے نیاز محروم سندھی عوام کو گمراہ کر کے ہمدریاں سمیٹ کر اپنے اختیارات کو بچانا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ ن کا ترقی پسند طبقہ نئے صوبوں کا حامی جبکہ روایتی خاندان بشمول شریف فیملی نئے انتظامی یونٹس سے پنجاب میں خاندانی گرفت کمزور ہونے سے خائف۔ PTIماضی میں نئے صوبوں کے حق میں آواز بلند کرتی رہی مگر اب سلمان اکرم راجہ کا راگ الگ۔ ممکن ہے کہ PTIنئے انتظامی یونٹس کی حمایت کے بدلے اپنے کچھ معاملات طے کر لے۔جناب عالی خطرہ ہے کہ کہیں عوامی خوشحالی کی راہ میں قانونی و آئینی تو کہیں لسانی عصبیت کا سہارا لیکر رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کے لیے مستقبل کی سیاست میں اپنے لیے کچھ حصہ نہ بچے۔ تو خدا را حکام تک عوامی رسائی آسان، نظام انصاف میں بہتری اور بنیادی مسائل کے فوری حل کے لیے مجوزہ اقدامات میں رکاوٹ نہ بنیے۔





