انتخابی میلے کی چمک اور ادارہ جاتی زوال

انتخابی میلے کی چمک اور ادارہ جاتی زوال
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک میں جب 64کروڑ سے زائد ووٹرز، جن میں 31 کروڑ خواتین شامل ہوں، 44دن تک چلنے والے انتخابی عمل میں حصہ لیں، تو یہ کسی انتظامی کرشمے سے کم نہیں لگتا۔ اس مشینی اور مشقتی کامیابی کا ہی نتیجہ تھا کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) 240نشستوں تک محدود ہو گئی اور اسے اتحادیوں کے سہارے حکومت بنانا پڑی۔ بظاہر یہ ایک شاندار جمہوری فتح محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر ہم جذباتیت اور انتخابی میلے کی اس ظاہری چمک دمک سے ہٹ کر دیکھیں، تو ایک انتہائی سنجیدہ اور تشویشناک بحث جنم لیتی ہے۔ یہ بحث بھارت کے جمہوری اداروں کی گرتی ہوئی صحت اور اس کے اساسی ڈھانچے میں پیدا ہونے والی دراڑوں کے گرد گھومتی ہے، جس نے جمہوریت کے اس دعوے کو ایک سراب میں تبدیل کر دیا ہے۔
دراصل، بھارت کے آئینی ڈھانچے کا دل اس کا ’’ بنیادی ڈھانچہ‘‘ ہے، جسے 1975ء کے اندرا گاندھی بنام راج نارائن مقدمے میں ایک قانونی ڈھال کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ اس تاریخی فیصلے نے یہ طے کیا تھا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، قانون کی حکمرانی اور اختیارات کی تقسیم آئین کے وہ بنیادی خدوخال ہیں جنہیں کوئی بھی حکومت اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کر سکتی۔ جسٹس ایچ آر کھنہ نے واضح کیا تھا کہ انتخابات کی شفافیت پر سمجھوتہ کرنے والی کوئی بھی ترمیم اس بنیادی ڈھانچے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ انتخابات کی مشینی رسومات تو بلا تعطل جاری ہیں، لیکن ایک حقیقی آزادانہ اور منصفانہ مقابلے کے لیے درکار بنیادی شرائط، جیسے ایک خودمختار الیکشن کمیشن، سیاسی فنڈنگ میں شفافیت، بے خوف اپوزیشن اور آزاد صحافت کو گزشتہ ایک دہائی کے دوران بڑی خاموشی اور مہارت سے کمزور کیا گیا ہے۔
اسی پس منظر میں عالمی جمہوری اشاریوں نے بھارت کے جمہوری تشخص پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ’ وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ‘ (V-Dem)جیسے مقتدر ادارے نے اپنے کروڑوں ڈیٹا پوائنٹس کی بنیاد پر 2017ء سے بھارت کو ’’ انتخابی آمریت‘‘ کے درجے میں رکھا ہوا ہے۔ 2025ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں بھارت 179ممالک میں 100ویں نمبر پر آ چکا ہے، جو کہ ہنگری جیسی زوال پذیر جمہوریتوں سے بھی نیچے ہے۔ آزادی اظہار رائے پر قدغن، سول سوسائٹی کے خلاف ریاستی کریک ڈائون، اور معلومات کے ماحولیاتی نظام پر کنٹرول نے بھارت کو ان ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا ہے جہاں ریاست میڈیا اور تعلیمی آزادیوں کا گلا گھونٹتی ہے۔ اسی طرح ’ فریڈم ہائوس‘ نے اسے 2021 سے ’’ جزوی طور پر آزاد‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ دی اکنامسٹ کا انٹیلی جنس یونٹ اسے’’ خامیوں سے بھرپور جمہوریت‘‘ گردانتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اور صحافیوں کو ہراساں کیا جانا وہ بنیادی عوامل ہیں جو اپوزیشن کو مساوی مواقع سے محروم کر دیتے ہیں۔
اس ہمہ گیر زوال کو سمجھنے کے لیے آئینی ماہرین ’’ انتظامیہ کے غلبے ‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جمہوریتوں کا قتل فوجی بغاوتوں یا مارشل لاء سے نہیں ہوتا، بلکہ بقول ماہرین، یہ ’’ آئین کو ہزار کٹوں سے مارنے ‘‘ کا عمل ہے۔ جب ریاست اور حکمران جماعت کے درمیان فرق مٹ جائے، تو احتساب کے تمام عمودی اور افقی راستے بند ہو جاتے ہیں۔ اس غلبے کا سب سے پہلا نشانہ وہ ضامن ادارے بنتے ہیں جن کا کام غیر جانبدار رہنا ہے۔ بھارت میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ بالکل یہی ہوا۔ سپریم کورٹ نے انوپ برنوال مقدمے (2023)میں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کو ایک غیر جانبدار کمیٹی ( بشمول چیف جسٹس) کے سپرد کیا تھا، لیکن حکومت نے فوری طور پر نیا قانون لا کر چیف جسٹس کو کمیٹی سے نکال باہر کیا اور ایک وفاقی وزیر کو شامل کر کے 2۔1کی اکثریت دوبارہ حاصل کر لی۔ عدلیہ نے اس قانون پر حکم امتناع جاری کرنے سے گریز کیا، جسے قانونی حلقوں میں ’’ عدالتی گریز‘‘ قرار دیا گیا، یعنی ایک ایسا خاموش طرزِ عمل جس سے حکومت کا غیر آئینی فعل بھی ایک حقیقت بن کر مسلط ہو جاتا ہے۔
شفافیت کا سب سے بڑا جنازہ الیکٹورل بانڈز کے ذریعے نکالا گیا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جس نے سیاسی فنڈنگ کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھ کر کارپوریٹ سیکٹر کو بلیک منی اور اثر و رسوخ کے کھیل کا قانونی پروانہ دے دیا۔ سپریم کورٹ نے 2024ء میں بجا طور پر اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا، کیونکہ یہ ووٹر کے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ لیکن جب تک عدلیہ نے فیصلہ دیا، اس وقت تک حکمران جماعت اس اسکیم کا 50 فیصد یعنی 8200کروڑ روپے سے زائد کا حصہ سمیٹ چکی تھی۔ انکشافات سے ثابت ہوا کہ یہ بانڈز دراصل ’ بھتہ خوری‘ اور ’ کچھ دو اور کچھ لو‘ کا قانونی ذریعہ تھے۔ جس کمپنی پر چھاپہ پڑتا، وہ چند دن بعد بانڈز خرید لیتی، اور جو کمپنی کروڑوں کے بانڈز خریدتی، اسے اربوں کے سرکاری ٹھیکے مل جاتے۔
دوسری جانب، اپوزیشن کو کچلنے کے لیے تحقیقاتی اداروں ( جیسے ای ڈی اور سی بی آئی) کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2014ء کے بعد سے ای ڈی کے 95فیصد کیسز اپوزیشن رہنماں کے خلاف بنائے گئے، حالانکہ سزا ملنے کی شرح 5فیصد سے بھی کم ہے۔ عام انتخابات سے عین قبل دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی گرفتاری اور کانگریس کے بینک اکائونٹس منجمد کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ انتخابی میدان کو کس بے دردی سے ہموار کیا جا رہا تھا۔ رہی سہی کسر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور وی وی پیٹ کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات نے پوری کر دی۔ ’ لوک نیتی‘ اور ’ سی ایس ڈی ایس‘ کے سروے کے مطابق الیکشن کمیشن پر عوام کے غیر متزلزل اعتماد میں 2019ء کے مقابلے میں نصف تک کمی آئی ہے، جو ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ جب ووٹر کو ریفری کی غیر جانبداری پر ہی شک ہو، تو پرامن انتقال اقتدار کا خواب دھندلا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ انتخابی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق کی کھلی دھجیاں اڑائی گئیں، اعلیٰ سطحی تقاریر میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا، اور ڈیجیٹل مہم پر بے پناہ اور غیر متوازن سرمایہ کاری کے ذریعے ایک مصنوعی بیانیہ تشکیل دیا گیا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حالیہ الیکشن کمیشن نے بادی النظر پیسے اور طاقت کے زور کو توڑنے کے لیے 10000کروڑ روپے مالیت کی غیر قانونی رقوم اور اشیاء ضبط کیں، جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاہم سب سے بڑھ کر یہ کہ ووٹرز نے بی جے پی کو واضح اکثریت نہ دے کر ثابت کیا کہ بھارتی نام نہاد جمہوریت میں عوام کا شعور آج بھی بیدار ہے اور انتخابی نظام مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوا۔







