
ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا
تحریر : سی ایم رضوان
شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر پی ٹی آئی کے مجموعی مقاصد، منشور اور معمول سے ہٹ کر لانگ مارچ ملتوی کرنے کے تازہ اعلان کی خوب عکاسی کرتا ہے کہ ’’ یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر ….یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا‘‘۔۔۔۔۔۔ یعنی ان حساس دنوں میں جبکہ حکومت ہی تی آئی کے اس لانگ مارچ سے شدید خوفزدہ تھی اور اس لانگ مارچ کے ہر حال میں ہو جانے سے ہی پی ٹی آئی خاص طور پر سہیل آفریدی کے مستقل مزاج اور جرات مند سیاسی قائد ہونے کی دلیل فراہم ہوتی مگر شاید ڈر کے یا پھر مصلحت کا شکار ہو کر انہوں نے قیام کے وقت میں سجدے کرنے میں ہی عافیت جانی۔ دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی ایک چست کارروائی ڈال دی گئی کہ ان کی جانب سے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو مفاہمتی خط بھیج دیا گیا ہے۔ سنا ہے کہ اس خط میں مذاکرات کے لئے اپوزیشن لیڈر کو ملاقات اور الیکشن کمیشن تعیناتیوں سے متعلق لکھا گیا ہے۔ اپوزیشن ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت ماضی کی ملاقاتوں کی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹتی نظر آ رہی ہے، البتہ وہ اب رانا ثنا اللّٰہ اور دیگر سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی زبان پر قائم رہیں گے۔ اس صورت حال پر یاران شعور تو یہی کہیں گے کہ ’’ ہم کو ان سے وفا ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے‘‘۔ بہرحال تحریک انصاف کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کو 27ستمبر سے موخر کر کے 4اکتوبر تک لے جانے کے فیصلے نے سیاسی حلقوں میں یہ بحث پھر سے چھیڑنے کی گویا دعوت دے دی ہے کہ آیا اس کے پیچھے کوئی خفیہ ڈیل ہے یا تحریک کی حکمت عملی میں تبدیلی آ گئی ہے یا پھر یہ کہ پی ٹی آئی کے ساتھ پالیسی سازوں کی کوئی خفیہ ڈیل ہو گئی ہے اور ڈیل پلان کے تحت اپوزیشن نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر پالیسی سازوں کو اگلے فیصلہ کے لئے رستہ، وقت اور اعتماد فراہم کیا ہے۔ یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ منسوخ نہیں ہوا بلکہ اسے تیاریوں اور حکمت عملی کے تحت 4اکتوبر تک ملتوی کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ملتوی کا لفظ شاید فیس سیونگ کے لئے بولا گیا ہے اور یہ بھی بعید نہیں کہ یہ التوا شاید ایک دو بار مزید بھی ہو۔ بہرحال پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے اتحادی اپوزیشن قیادت ( محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس وغیرہ) کو بھی اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے لیکن اس التوا سے جس اعتماد کی موت واقع ہوئی ہے وہ سب کے سامنے ہے اور اس خیال کو کسی بھی صورت رد نہیں کیا جا سکتا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد اور پنجاب کے اہم راستوں پر کنٹینرز کی تنصیب، سکیورٹی کے سخت انتظامات ( رینجرز کی تعیناتی) اور صوبے میں گورنر راج کی مبینہ بازگشت جیسے عوامل نے انصاف پارٹی کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا یا پھر ہائیکورٹ کا وہ حکم اسے بے بس کر گیا کہ پی ٹی آئی اس لانگ مارچ پر کے پی حکومت کے وسائل نہیں لگا سکتی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، حکومتی رکاوٹوں اور ممکنہ خون خرابے یا تصادم سے بچنے کے لئے تاریخ کو آگے بڑھایا گیا ہے تاکہ دبا کو برقرار رکھتے ہوئے بہتر تیاری کی جا سکے۔ تاہم اس طرح کے یو ٹرنز یا تاریخوں میں تبدیلی کو ناقدین اکثر پسِ پردہ مکالمے یا ’’ مبینہ ڈیل پلان‘‘ کا حصہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ البتہ تاحال اس بات کی کوئی مصدقہ دلیل موجود نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پی ٹی آئی کی کسی حتمی مجوزہ ڈیل پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، بالخصوص جب پی ٹی آئی اپنے بنیادی مطالبات ( بانی چیئرمین کی رہائی چوری شدہ مینڈیٹ کی بازیابی اور آئینی بالادستی) پر بدستور برقرار ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کار اسے تحریک کے خاتمے کی بجائے ایک عارضی اسٹریٹجک پینترا بھی قرار دے رہے ہیں کیونکہ سیاسی تحریکوں میں ڈیڈ لائنز کا آگے بڑھنا اکثر طاقت کے توازن، دبا کی حکمت عملی اور کارکنوں کی بہتر گول بندی کا حصہ بھی ہوتا ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی کی اندرونی سیاسی صف بندی یا سول حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اگر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے اس چیلنج کو دیکھا جائے کہ پی ٹی آئی اسلام آباد آ کر دکھائے اور ساتھ ہی یہ موقف بھی کہ حکومت وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ، بدامنی یا عوامی زندگی میں خلل کی اجازت نہیں دے گی۔ ان بیانات کی روشنی میں پی ٹی آئی کے جذباتی اور انقلابی قسم کے حمایتیوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور وہ اپنی پارٹی قیادت کی بزدلی پر نالاں ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان کی لانگ مارچ یا دھرنے کی کوئی حقیقی تیاری یا جرات نہیں ہے اور وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ اسلام آباد آ کر دھرنا دے کر دکھائیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ سڑکیں بند کرنے یا روزمرہ کے امور اور ٹریفک معطل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ زمینی حقائق یہ ہیں وفاقی دارالحکومت اور گردونواح میں امن و امان کی برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی کے سخت انتظامات اور روٹس سیل کرنے کے اقدامات بھی اس التوا کا باعث ہیں۔ جس سے یہ واضح اور فیصلہ کن رائے سامنے یہی آئی ہے کہ جو پیا من بھائے گی وہی سہاگن کہلوانے گی یعنی اگر پالیسی سازوں کو منظور ہو گا تو پی ٹی آئی کو اپنے روایتی انداز میں احتجاج، دھرنے یا لانگ مارچ کا رستہ ملے گا، جبکہ خیبرپختونخوا کی سیاست اور نظامِ حکومت پر کی جانے والی تنقید اور پالیسی سازوں کی توجہ میں بنیادی طور پر اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ جب کوئی صوبائی حکومت بنیادی انتظامی اور عوامی فلاحی امور کے بجائے سیاسی محاذ آرائی، احتجاجی تحریکوں اور تنازعات کو ترجیح بناتی ہے، تو اس کے گہرے، منفی اثرات پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ خاص طور پر صوبہ بھر میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں اگر اس صوبے کی انتظامیہ کی توجہ سکیورٹی، امن و امان، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی فرائض سے ہٹ کر سیاسی دھرنوں، بیانات اور محاذ آرائی پر مرکوز ہو جاتی ہے، تو اس سے صوبے کا پورا گورننس سسٹم کمزور پڑ جاتا ہے اور ریاستی ستونوں کے درمیان خلیج واقع ہو جاتی ہے۔ وفاق اور صوبے یا سکیورٹی اداروں اور صوبائی حکومت کے مابین مسلسل کشیدگی اور عدم تعاون کا ماحول آئینی و سیاسی بحران کو جنم دیتا ہے، جس سے بالآخر ریاستی عمارت کی بنیادیں ہلنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ عوامی مسائل سے لاتعلقی کا تاثر بھی اس طرح مضبوط ہوتا ہے کہ صوبے کے عوام کو درپیش سنگین مسائل ( جیسے بدامنی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات) کو پس ِپشت ڈال دینے سے عوام کا روایتی نظام اور جمہوری اداروں پر سے اعتماد کم ہونے لگتا ہے۔ معاشی و ترقیاتی جمود، سیاسی عدم استحکام اور غیر سنجیدہ ترجیحات کے باعث ترقیاتی منصوبے التواء کا شکار ہوتے ہیں، جس سے صوبے کی معیشت اور مالیاتی ڈھانچے پر شدید دبائو پڑتا ہے۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی و انتظامی کشمکش اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت کے خلاف پالیسی ساز حلقوں کی مبینہ بازپرس اور شواہد اکٹھے کرنے کے تناظر میں، یہ تاثر بھی بعید از قیاس نہیں کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے لیکن اس حوالے سے سیاسی اور قانونی صورتحال کے چند اہم پہلو قانونی اور آئینی چیلنجز کے طور پر سامنے کھڑے ہیں۔
وفاقی اور آئینی سطح پر ( جیسے وفاقی آئینی عدالت یا ہائیکورٹ میں) صوبائی حکومت کے قیام، سابق وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ اور نئے انتخاب کے طریقہ کار کو لے کر مختلف درخواستیں زیرِ سماعت ضرور رہی ہیں، جن کی وجہ سے سیاسی بے یقینی برقرار ہے۔ ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً کے پی حکومت کی برطرفی، گورنر راج یا وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے، تاہم پی ٹی آئی کی پارٹی قیادت اور صوبائی حکومت کی طرف سے ان تمام افواہوں کو سختی سے رد کیا جاتا رہا ہے اور وہ اپنی قانونی مدت اور مینڈیٹ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں لہٰذا حتمی خاتمے کا کوئی باضابطہ اعلان یا اقدام ابھی سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ وفاق اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی اور سکیورٹی معاملات پر سخت تالا بندی کی صورتحال موجود ہے لیکن آئینی طور پر کسی صوبائی حکومت کو ہٹانے کے لئے یا تو اسمبلی کی طرف سے عدم اعتماد کا ووٹ درکار ہوتا ہے، یا آئین کے آرٹیکل 232کے تحت ہنگامی حالات ( گورنر راج) کا نفاذ یا پھر عدالتی نااہلی لازم ہوتی ہے۔ تاحال کسی ایسے حتمی اور فوری اقدام کا باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا جو حکومت کے فوری خاتمے کی ضمانت ہو۔ اس پوری کشمکش میں جہاں ایک طرف انتظامی دبا اور پالیسی سازوں کی سخت نظریں موجود ہیں، وہیں دوسری طرف سیاسی محاذ پر یہ جنگ قانونی اور آئینی دائروں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے التوا ( یا اگلی تاریخ تک موخر کرنے) کے بعد وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان کشمکش اور سیاسی بیان بازی تو بدستور جاری ہے اور رہے گی لیکن دونوں حکومتیں اسی تنخواہ پر کام کرتی رہیں گی کیونکہ کنٹینروں اور انتظامی گھبراہٹ پر کروڑوں روپے لگانے کے بعد اب وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت دونوں اپنے آئینی مینڈیٹ اور مدت کے مطابق اپنی جگہ قائم ہیں اور سرکاری و انتظامی امور بدستور جاری ہیں۔ اگرچہ لانگ مارچ فی الحال موخر ہوا ہے، لیکن دونوں طرف سے ایک دوسرے پر سیاسی دبا، لفظی جنگ اور الزام تراشی کا سلسلہ نہیں رکا۔ وفاقی وزراء کا موقف ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتیں ترقیاتی کاموں یا عوام کے اصل مسائل ( جیسے امن و امان) پر توجہ دینے کے بجائے احتجاج کی سیاست میں لگی رہتی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کا یہ موقف ہوتا ہے کہ ان کا احتجاج اور سیاسی جدوجہد ان کا جمہوری حق ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وفاق اور کے پی حکومت کا ایک دوسرے کے خلاف یہ سیاسی دبا اپنی جگہ، لیکن روزمرہ کے حکومتی امور، بھاری تنخواہوں کی ادائیگی، ٹھنڈے کمروں میں آرام اور انتظامی ڈھانچہ اپنے معمول کے مطابق ہی چل رہا ہے۔ البتہ اس نابالغ انقلاب کے داعیوں کی جانب سے لانگ مارچ کا التوا یہی رائے فراہم کرتا ہے کہ اب کے پی حکومت کا خاتمہ، گورنر راج یا اس نوعیت کا اقدام نہیں ہو گا اور دونوں وفاق اور کے پی کے حکمران اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔
سی ایم رضوان







