تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیات

اسرائیل کے ‘پیجر حملے’ کا نشانہ بننے والے بچے کی زندگی

17 ستمبر 2024 کو لبنان میں حزب اللہ کے زیرِ استعمال ہزاروں پیجرز اچانک پھٹ گئے، جن میں مبینہ طور پر پہلے ہی دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔ اس حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ 18 ستمبر کو واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں نے بھی ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافہ کیا۔

 

لبنان اور حزب اللہ نے ان حملوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا، جبکہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر ذمہ داری قبول یا تردید نہیں کی، تاہم متعدد سکیورٹی ذرائع نے کارروائی کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے جوڑا۔

 

جنوبی لبنان کا 14 سالہ علی عباس بھی 17 ستمبر کے اس حملے میں شدید زخمی ہوا جب اس کے والد کا پیجر گھر میں پھٹ گیا۔ علی کی دائیں آنکھ ضائع ہوگئی، دائیں پپوٹے کو شدید نقصان پہنچا اور ہاتھ کی کچھ انگلیاں بھی ضائع ہوئیں۔ گزشتہ دو برس میں وہ متعدد سرجریوں سے گزر چکا ہے اور بالغ ہونے تک مزید علاج اور سرجریوں کی ضرورت ہے، تاہم اس نے اسکول، فٹبال، والی بال اور دیگر روزمرہ سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ وہ اپنی بحالی میں خاندان کی مدد کو اہم قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اس سانحے نے اسے ہمت ہارنے کے بجائے مزید مضبوطی سے زندگی آگے بڑھانے کا حوصلہ دیا

جواب دیں

Back to top button