سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈالنے کا وقت

سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈالنے کا وقت
سیف اعوان
سوشل میڈیا بے رحم اور بے لگام گھوڑا بن چکا ہے، جس کو اب لگام ڈالنے کا وقت آگیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اب سوشل میڈیا کے معاملے میں بہت حساس ہو رہے ہیں۔ کئی ممالک میں سوشل میڈیا سے متعلق سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں خصوصا کم عمر بچوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے قانون منظور کیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا انٹرٹینمنٹ کے لیے ایجاد ہوا تھا لیکن اب یہ کردار کشی، دوسروں کی تضحیک کرنے، ٹرولنگ کرنے اور پگڑیاں اچھالنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر صرف پاکستان کے لوگوں کو تحفظات نہیں ہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک مکی نمایاں شخصیات سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر اپنے خدشات کا اظہار کر چکی ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس جہاں جدید دور کی ایک منفرد اور جدید ترین ایجاد ہے، وہاں یہ لوگوں کی نفسیات سے کھیلنے کا کبھی ذریعہ بن رہی ہے۔ ایڈیٹ شدہ ویڈیو اور تصویروں کی وجہ سے دنیا کی کئی نمایاں شخصیات متاثر ہو چکی ہیں۔ خواتین کو ذاتی طور پر نشانہ بنانا ویسے بھی آسان ترین ہدف سمجھا جاتا ہے کیونکہ بہت کم خواتین اپنے خلاف ہونے والے پراپیگنڈے اور ٹرولنگ کا جواب دیتی ہیں، یا ان کو پر قانونی کاروائی کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ اگر کوئی خاتون جرات کر کے اپنے خلاف ہونے والی رولنگ پر کوئی قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرتی ہے، تو اس کے راستے میں بھی کئی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال پاکستان میں ایک نامور اور سینئر سیاست دان عظمیٰ بخاری کا فیک ویڈیو کیس ہے۔ ان کی ایک ایڈیٹ شدہ فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی۔ عظمیٰ بخاری کو ڈیڑھ سال سے عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہیں ان کویہ یقین دلانا پڑ رہا ہے کہ ان کی ویڈیو جعلی تھی اور جو لوگ اس فیک ویڈیو کو پھیلانے والے ہیں جن میں صرف ایک ملزمہ فلک جاوید کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے جبکہ باقی لوگ آج بھی آزاد ہیں۔ گزشتہ روز لاہور کی ضلع کچہری میں جج نعیم وٹو کی عدالت میں ان کے فیک ویڈیو کیس کی سماعت ہوئی جس میں عظمیٰ بخاری نے خود عدالت جا کر اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں میری ایک بیٹی بھی ہے۔ میں نے کل کو اس کی شادی بھی کرنی ہے۔ میں اس کیس میں ملزمہ نہیں بلکہ شکایت کنندہ ہوں پھر بھی میرے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ یہ محض کوئی عام سول کیس نہیں بلکہ ایک عورت کی عزت اور وقار کا معاملہ ہے۔ ایک فیک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی جس کے باعث انہیں شدید ذہنی اذیت اور کرب سے گزرنا پڑا۔ میں پہلے ایک سال لاہور ہائی کورٹ میں دھکے کھاتی رہی اور اعلیٰ عدالت کو یقین دلانے کی کوشش کرتی رہی کہ میری فیک ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی۔ میں نے اس عدالت میں آنے سے انکار نہیں کیا تھا لیکن میں چاہتی تھی کہ ویڈیو لنک پر میرا بیان ریکارڈ کر لیا جائے کیونکہ عدالت میں پیش ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات بھی تھے اور ملزم پارٹی کے لوگوں کے ساتھ آمنا سامنا ہونے سے بدمزگی ہو سکتی تھی پھر عدالت میں وہی ہوا جس کا عظمیٰ بخاری کو خدشہ تھا۔ ملزمہ صنم جاوید کے ساتھ آئے لوگوں اور ان کے ایک سوشل میڈیا کے وکیل علی اشفاق کی جانب سے کمرہ عدالت میں بدتمیزی کی گئی اور غیر مناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ عظمیٰ بخاری کا فیک ویڈیو کا کیس اب گزشتہ چھ ماہ سے لاہور کی مقامی عدالت میں چل رہا ہے۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 12ستمبر کو ہوگی۔ جس میں ملزمہ کے وکیل بیان پر جرح کریں گے۔ یہ پاکستان میں فیک ویڈیو کا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جو عدالتوں میں چل رہا ہے ایسے کئی کیس ہیں جن میں خواتین اپنی عزت بچانے کی خاطر اور سوشل میڈیا کے دبائو کی وجہ سے قانونی کارروائی کا راستہ اختیار نہیں کرتی کیونکہ عظمیٰ بخاری کو وزیر ہونے کے باوجود آج تک انصاف نہیں مل سکا تو ایک عام عورت تو اس سطح پر جا کر عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کیسے کر سکتی ہے؟، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا سے متعلق کوئی قوانین نہیں ہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا ایپس کے کوئی باقاعدہ دفاتر نہیں ہے، نہ ہی ان سوشل میڈیا ایپس کے ساتھ ہمارے کوئی معاہدے ہیں، جس کی وجہ سے کسی سوشل میڈیا ایپ کو کسی خاتون کے خلاف ہونے والی ٹرولنگ کو روکا جا سکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بھی سنجیدگی کے ساتھ اس سوشل میڈیا کے گھوڑے کو لگام دینی چاہیے، تاکہ ہماری نوجوان نسل اور خواتین کو اس کے غلط استعمال سے بچایا جا سکے، اور جو لوگ آزادی اظہار رائے کے نام پر سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔



