سندھ کے نقشے سے کھیلنے کے بجائے حکمرانی درست کریں

سندھ کے نقشے سے کھیلنے کے بجائے حکمرانی درست کریں
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث چھڑتی ہے تو یہ معاملہ محض سیاسی بحث نہیں رہتا بلکہ تاریخ، شناخت، وسائل اور وفاقی سیاست سے جڑ جاتا ہے۔ سندھ کے معاملے میں یہ حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ سندھ صرف ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخ، تہذیب، زبان اور ثقافتی شناخت کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کے نام پر ہونے والی ہر بحث عوام کے اندر ایک گہرا ردعمل پیدا کرتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر سندھ کے عوام کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، سڑکیں، امن و امان اور بنیادی سہولتیں میسر نہیں تو کیا نئے انتظامی یونٹس بنانے سے یہ مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے؟ کیا نقشے پر نئی لکیر کھینچنے سے اسپتالوں میں ڈاکٹر پہنچ جائیں گے؟ کیا نئے ضلع یا انتظامی یونٹ کے قیام سے اسکولوں کی حالت بہتر ہوجائے گی؟ کیا بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل جائے گا؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں انتظامی نقشے تبدیل کرنے کے بجائے حکمرانی کا نظام درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سندھ سمیت ملک کے بڑے صوبوں کو انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔ آبادی میں اضافہ، شہری پھیلا، دور دراز علاقوں تک حکومتی اداروں کی رسائی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اہم چیلنجز ہیں۔ بہتر انتظام کے لیے نئے اضلاع، تحصیلوں یا دیگر انتظامی یونٹس کا قیام قابلِ غور ہوسکتا ہے، لیکن انتظامی ضرورت اور سیاسی تقسیم میں واضح فرق ہونا چاہیے۔
انتظامی اصلاحات کا مقصد عوام کے لیے حکومت کو قریب لانا ہوتا ہے، عوام کو ایک دوسرے سے دور کرنا نہیں۔
سندھ کے عوام کو اگر اپنے علاقوں میں بہتر انتظامیہ، فوری انصاف، اچھی سڑکیں، صاف پانی، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں ملیں تو انہیں کسی نئی لکیر کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ لیکن جب ریاستی ادارے شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو محرومی کا احساس بڑھتا ہے اور یہی احساس سیاسی نعروں کے لیے جگہ پیدا کرتا ہے۔
آج سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام کی مسائل الگ الگ شکلوں میں سامنے آتے ہیں۔ کہیں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہے، کہیں صحت کی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں، کہیں اسکول موجود ہیں مگر اساتذہ نہیں، کہیں سڑکیں خستہ حال ہیں اور کہیں زرعی پانی کی قلت کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ ساحلی علاقوں میں سمندری کٹائو ایک بڑا خطرہ ہے، جبکہ تھر کے کئی علاقوں میں پانی، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے مسائل آج بھی موجود ہیں۔ دوسری طرف کراچی جیسے بڑے شہر کو ٹریفک، پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، تجاوزات اور انفراسٹرکچر کے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر ان تمام مسائل کا حل صرف نئے انتظامی یونٹس بنانا ہوتا تو دنیا کے کئی بڑے شہروں اور صوبوں کے مسائل کب کے ختم ہوچکے ہوتے۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام کو انتظامی نقشے سے زیادہ اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ حکومت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے نئے ضلع یا انتظامی یونٹ بناتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ اضلاع میں عوام کو کتنی سہولت فراہم کرتی ہے۔ ایک عام شہری کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ اس کے بچے کو اسکول میں تعلیم ملے، بیمار ہونے پر اسپتال میں علاج ملے، گھر میں پینے کا صاف پانی آئے، کسان کو اپنی فصل کے لیے پانی ملے اور نوجوان کو روزگار کا موقع حاصل ہو۔
سندھ کے مسئلے کو کراچی اور اندرون سندھ کی تقسیم میں دیکھنا بھی درست نہیں۔ کراچی سندھ کا معاشی مرکز ہے اور اس کی ترقی پورے صوبے کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ اسی طرح اندرون سندھ کی زرعی، معدنی اور انسانی صلاحیتیں سندھ کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنانے کے بجائے ایک مشترکہ ترقیاتی نظام کا حصہ بنایا جائے۔
اگر کراچی ترقی کرے تو اس کے فوائد سندھ کے دوسرے علاقوں تک پہنچنے چاہئیں، اور اگر تھر کے معدنی وسائل سے آمدنی حاصل ہوتی ہے تو اس کا فائدہ وہاں کے عوام اور پورے صوبے کی ترقی میں نظر آنا چاہیے۔ اگر بدین، ٹھٹھہ اور سجاول جیسے ساحلی علاقوں سے زرعی یا سمندری وسائل حاصل ہوتے ہیں تو وہاں کے لوگوں کی زندگی بھی بہتر ہونی چاہیے۔
سیاست کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ وسائل کو عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے اس کے محرکات، طریقہ کار اور نتائج پر سنجیدہ بحث ضروری ہے۔ اگر کسی علاقے میں انتظامی مشکلات ہیں تو وہاں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، نئے اضلاع کا قیام، سرکاری اداروں کی موجودگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر انتظامی اصلاحات کے نام پر لسانی یا علاقائی تقسیم کو ہوا دی جائے تو اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
سندھ کی سیاست میں سب سے زیادہ ضرورت برداشت اور مکالمے کی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے مقف مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن سندھ کے عوام کے بنیادی مسائل ایک جیسے ہیں۔ انہیں روزگار چاہیے، انہیں امن چاہیے، انہیں تعلیم چاہیے، انہیں صحت چاہیے اور انہیں ایسی حکومت چاہیے جو صرف انتخابات کے وقت نہیں بلکہ ہر وقت ان کے ساتھ کھڑی نظر آئے۔
یہ سوال بھی سیاسی قیادت کے سامنے رکھنا ہوگا کہ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو رہی تو نئے یونٹس بنانے سے کیا ضمانت ہے کہ نیا نظام زیادہ بہتر ثابت ہوگا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف سیاسی نقشہ تبدیل ہوگا مگر عام شہری کی زندگی ویسی ہی رہے گی؟، اس لیے سندھ کے نقشے سے کھیلنے کے بجائے حکمرانی درست کرنے کی ضرورت ہے۔
اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے، بلدیاتی اداروں کو مضبوط کیا جائے، سرکاری اداروں میں میرٹ اور جواب دہی یقینی بنائی جائے، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بہتر کی جائے اور ہر ضلع کے مسائل کے مطابق وسائل مختص کیے جائیں۔ اگر یہ اقدامات مثر انداز میں کیے جائیں تو انتظامی فاصلے بھی کم ہوں گے اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔
سندھ کو نئی لکیر نہیں، نئی سمت چاہیے۔ ایسی سمت جہاں کراچی اور اندرون سندھ کو ایک دوسرے کا حریف نہ بنایا جائے، جہاں شہری اور دیہی سندھ کے درمیان خلیج کم ہو، جہاں وسائل پر چند طبقات کا قبضہ نہ ہو، جہاں نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے ہجرت نہ کرنی پڑے اور جہاں حکومت کا مطلب صرف اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت ہو۔
سندھ کے عوام نے ہمیشہ اپنی دھرتی، تاریخ اور شناخت کے ساتھ گہری وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے کسی بھی سیاسی یا انتظامی تبدیلی پر عوام کے جذبات اور تاریخی حساسیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر واقعی اصلاحات مقصود ہیں تو عوام کو اعتماد میں لے کر، آئینی اور جمہوری طریقے سے اور کھلے مکالمے کے ذریعے راستہ نکالا جانا چاہیے۔
آج سندھ کے سامنے اصل چیلنج یہ نہیں کہ نقشے پر کتنی لکیریں ہیں، اصل چیلنج یہ ہے کہ ان لکیروں کے اندر بسنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگی کتنی بہتر ہے۔ اگر حکمرانی بہتر ہوجائے، ادارے مضبوط ہوجائیں، وسائل منصفانہ تقسیم ہوں اور عوام کو بنیادی سہولتیں ملنے لگیں تو بہت سے سیاسی تنازعات خود بخود اپنی شدت کھو دیں گے۔ سندھ کو تقسیم کی سیاست سے زیادہ ترقی کی سیاست کی ضرورت ہے۔ اسے نئے نعروں سے زیادہ عملی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ اسے نقشے پر نئی لکیروں سے زیادہ اسکولوں، اسپتالوں، سڑکوں، پانی، روزگار اور انصاف کی ضرورت ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا یہی ہے کہ سندھ کے نقشے سے کھیلنے کے بجائے حکمرانی درست کی جائے، کیونکہ عوام کے مسائل نقشے کی تبدیلی سے نہیں بلکہ بہتر نظام، بہتر نیت اور بہتر کارکردگی سے حل ہوں گے۔



