معطلی ہی کافی ہے جناب

معطلی ہی کافی ہے جناب
عبدالحنان راجہ
حضور غصہ تھوکیے ! دل سے پتھر اتاریے بوجھ کو ہلکا کیجیے، چند آنسو اگلے کسی سانحہ ( خدانخواستہ) کے لیے رکھ چھوڑیئے۔ پتھر دل پہ پتھر رکھنے کو آپ کے منظور نظر افسران بہت مواقع دیں گے، چہیتی بیوروکریسی کی ڈانٹ ڈپٹ بھی ہو گئی اور تنبیہ بھی۔ پھر ناہنجار بیوروکریسی اچھے برے اعمال و افعال میں سیاست دانوں کی راز دار بھی تو ہے اس لیے معطلی پہ ہی اکتفا کیجیے، عوام کی تشفی کو یہی کافی! آپ کا یہ کہنا بالکل درست کہ اپوزیشن نے اپنے دور میں بڑے بڑے سانحات پر کون سا شرم کھائی تھی کہ آپ کھاتے۔ استعفیٰ دینے کے لیے تھوڑا ہوتا ہے۔ وقت آنے پر یہ تو لیا جاتا ہے۔ خیر چھوڑیئے۔ کمیٹی آپ نے بنانا تھی وہ بنا دی۔ انکوائری بھی ہو گئی اور پھر معطلی بھی۔ اب اڑان بھرئیے کسی پرفضا مقام اور خوب صورت ملک کی طرف۔ آپ کے ناتواں کندھوں پر دنیا بھر کے جھمیلے نمٹانا ہیں اور جھگڑے۔ اندر کے حادثات میں الجھیں گے تو عالمی امن کے علمبردار کا تمغہ جاتا رہے گا۔ یہاں کے لوگ ہیں ہی ناشکرے کبھی مہنگائی تو سخت گرمی میں لوڈشیڈنگ کا رونا روتے رہتے ہیں۔ عوام کسی حال میں خوش نہیں ابھی چار دن پہلے گرمی کا رونا تھا اب زیادہ بارش پر زیادہ پانی کو سیلاب سمجھ کر رونے پیٹنے لگے ہیں۔
مگر غم نہ کیجیے جو ہوا سو ہوا۔ پانی ہے ایک دو روز میں اتر ہی جائے گا۔ ویسے بھی داخلی معاملات دیکھنے کو تربیت یافتہ، کہنہ مشق، دیانت دار اور اہل بیوروکریسی جو ہے۔ جناب عالی یہاں تو آئے روز اموات ہوتی ہیں اور ماتم بھی۔ ملک الموت کو کون روک سکتا ہے اور آپ سمیت ہر حکمران کا اس پہ ایمان پختہ کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ ہمارے ہاں شور شرابے کا ویسے ہی چلن ہے، ایک رپورٹ سامنے آ گئی تو دل دہل گیا، تو سوچا عبرت پکڑنے کو عرض کرتا چلوں۔ تھرپارکر میں سال 2022ء سے 2023ء کے دوران 1100بچے غذائی قلت اور نامناسب ترین طبی سہولیات کے باعث دنیا سے رخصت ہوئے اور روزانہ ہو بھی رہے ہیں۔ حالانکہ سندھ سرکار روکنے کی بھرپور کوشش تو گزشتہ 15سال سے کر رہی ہے۔ بیانات بھی دے رہی ہے، اور متعلقہ اداروں کو جلی کٹی سنا بھی۔ وزیر صحت کے تازہ بیان کے مطابق طبی سہولیات، دور دراز علاقوں میں ویکسین کی عدم دستیابی اور ماں کی ناکافی غذا کے باعث روزانہ 300بچے موت کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ سانحہ ساہیوال میں بھی تو آگ لگی تھی اور 11بچے جاں سے گئے۔ سانحہ بلدیہ میں جلنے والوں کی چیخیں بھی ابھی کانوں میں اور گل پلازہ آتشزدگی کے مناظر بھی آنکھوں میں۔ مگر سانحات رو دھو کے گزر جاتے ہیں کون سا نظام رکتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ غم میں ہلکان کیوں ہیں، آپ کے پیشرو مقبول عام وزیر اعظم کے دور میں بھی اس ملک کے لاچار عوام لاشیں سڑک پر رکھ کر کئی دن وزیر اعظم کی تشفی کے منتظر رہے، مگر صاحبان اقتدار کے سینے میں دل تو ہوتا نہیں۔ تو پھر داد رسی کیسی اور غمزدوں کے سروں پر دست شفقت کیسا ! ویسے بھی آج تک حادثات پر اتنی کمیٹیاں بنیں کہ اب ایک اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی درکار جو ان کمیٹیوں کی تعداد، سن پیدائش اور ان کی کوکھ سے جنم لینے والی رپورٹس کا مدفن تلاش کرے۔
واویلا کرنے اور انصاف کی دہائی دینے والو! جہاں سال 2014ء کے تاریک دن 17جون کو ماڈل ٹائون میں دن دہاڑے 14قتل ہوئے اور رپورٹ شہدا کے ساتھ منوں مٹی تلے دب چکی، تو یہ بے چارے نومولود عالم برزخ سے کیا انصاف اور ذمہ داران کی سزا کی دہائی دیں گے ؟۔ یہ چین تو ہے نہیں کہ جہاں ایسی نالائقی اور کرپشن کی سزا موت ۔ ہمارے ہاں تو بڑے سے بڑے سانحات کی کڑی سے کڑی سزا !!!! معطلی !!!! اور لواحقین کی دادرسی اور انتظامی نااہلی چھپانے کے لیے سرکاری وسائل بھی تو ہیں۔
حادثات کا ہو جانا اچنبھا نہیں، مگر باضمیر، اہل اور دیانت دار نظام ( حکومت بیوروکریسی) اس کی روک تھام اور ممکنہ حد تک اس کے نقصانات کم سے کم کرنے کی مخلصانہ سعی کرتا ہے۔ حکومت، انتظامی افسران اپنے ضمیر میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا انہوں نے ممکنہ حد تک ہی سہی دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کی؟۔ تحقیقاتی کمیٹی نے جو نکات اٹھائے فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات، ایئر کنڈیشنز اور بجلی کی سپلائی کا محفوظ نظام، اخراج و بچائو کے ہنگامی راستے، سی ڈی اے اور فائر فائٹنگ کو بروقت اطلاع سمیت متعلقہ ذمہ داروں کی آگ سے بچائو کی تربیت کے انتظام کا نظام فعال تھا؟؟؟۔ یہاں تو سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر اور پروفیسر سرکاری نوکری بھی نجی کلینکس اور ہسپتالوں میں اپنے نام کے رعب کے لیے کرتے ہیں وگرنہ بڑی اکثریت کو اس کی حاجت نہیں۔
معروف کالم نگار رئوف کلاسرا نے انکشاف کیا پے کہ سینیٹر پلوشہ خان نے پمز ہسپتال کی مخدوش حالت بارے گزشتہ سال سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں اس طرف توجہ دلائی اور وہاں مضبوط سفارشی کلچر، انتظامیہ میں گروپنگ اور باہمی چپقلش اور بدانتظامی کے حالات بیان کیے، مگر وہی ہوا جو اس نظام کا خاصہ۔ کہ اصلاح کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے یا بھگا۔ پھر وہی ہوا کہ آخر پلوشہ خان نے کڑھنے اور مایوس ہونے کی بجائے کمیٹی سے استعفیٰ دینے میں ہی عافیت سمجھی یہ حال اگر سرکار کی مراعات پر پلنے والے سینیٹرز کا تو پھر اداروں کے افسران کے ضمیر کو جھنجھوڑنا بنتا نہیں ۔ با ضمیر، دیانت دار و اہل حکمران ہوتے تو تجویز کرتے کہ دیگر کے ساتھ قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا کہ کمیٹی دانستہ اپنے فرائض سے غفلت کی مرتکب ٹھہری اس پر ان کی برطرفی اور سینٹ رکنیت سے تاحیات نااہلی بنتی ہے۔ مگر نااہلوں کو کون نااہل کرے۔ یہاں تو اہل کو نااہل کرنے کا دھندا ہے۔ کوئی صاحب دل حکمران کا دور ہوتا تو یہ تجویز بھی قابل عمل ٹھہرتی کہ اس سانحہ کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا کے ساتھ ڈاکٹرز کے میڈیکل لائسنس منسوخ، ذمہ دار کنٹریکٹر کو بلیک لسٹ اور تمام ذمہ دار اہل کاروں کو بغیر مراعات ملازمت سے فارغ کر کے اسے سب کے لیے نشان عبرت بنایا جائے۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ پاکستان میں سرکاری وسائل کے ساتھ اہل کار وہی سلوک کرتے ہیں جو اسرائیل بے بس فلسطینیوں کے ساتھ۔ قرضوں پر پلنے والے ملک میں افسر شاہی، پروٹوکول اور مراعات نے اداروں کے سربراہان و افسران کو فرعون بنا رکھا ہے اور یہ تکبر و رعونت کے چلتے پھرتے پیکر۔ مراعات اور پروٹوکول کلچر کے خلاف جس طرح عوامی لاوا پک رہا پے، حکمرانوں کو اس وقت سے ڈرنا چاہئے کہ محرومیوں کی چکی میں پستی عوام کے ضبط کا پیمانہ اگر لبریز ہو گیا تو !!!! پھر انہیں کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔



