Column

عوامی بے چینی اور حکومتی دعوے

عوامی بے چینی اور حکومتی دعوے
تحریر: سیّد ممتاز بخاری
بخاری نامہ
پاکستان میں حکومتی دعوئوں اور عوام کی عملی زندگی کے درمیان فاصلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ سرکاری اجلاسوں میں معیشت کی بہتری، زرعی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، پیداوار میں اضافے اور ترقیاتی منصوبوں کی باتیں سنائی دیتی ہیں، مگر دوسری طرف عام آدمی کے گھر کا بجٹ ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔ وہاں ترقی کے اعداد و شمار سے زیادہ آٹے، بجلی، پٹرول، سبزی، پھل، بچوں کی فیس، ادویات اور کرائے کی فکر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر معیشت واقعی سنبھل رہی ہے تو اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی میں کیوں دکھائی نہیں دے رہے؟
یہ کہنا شاید کسی کو اچھا نہ لگے، مگر مہنگائی اور غربت اب محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک تلخ زمینی حقیقت بن چکی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے ماہ، جولائی میں ملکی درآمدات میں 19فیصد اضافہ ہوا جبکہ تجارتی خسارہ 26فیصد بڑھ گیا۔ غذائی اجناس، گاڑیوں اور مشینری سمیت مختلف اشیا کی درآمد میں اضافہ ہوا۔ صرف جولائی میں 80کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی اشیائے خورونوش درآمد کی گئیں، جن کی مالیت پاکستانی کرنسی میں 224ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک کا عام شہری مقامی بازار سے بنیادی ضرورت کی اشیا خریدنے میں دشواری کا شکار ہے تو اتنی بڑی مالیت کی درآمدی خوراک آخر کون خرید رہا ہے؟
جولائی میں چینی کی درآمد بھی ہوئی۔ یہ صورتِ حال ہماری زرعی پالیسی، غذائی تحفظ اور حکومتی ترجیحات پر کئی سوالات اٹھاتی ہے۔ جس ملک میں زرخیز زمین، محنتی کسان، نہری نظام اور وسیع زرعی صلاحیت موجود ہو، وہاں خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بار بار بیرونی دنیا کی طرف دیکھنا کسی معمولی مسئلے کی علامت نہیں۔ یہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی زرعی معیشت کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ایسی پالیسی تشکیل دیں جو پاکستان کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ برآمدات کی جانب بھی لے جائے۔
دوسری طرف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جولائی میں 17کروڑ 90لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 20فیصد کم ہے۔ اگرچہ جون کے مقابلی میں اس میں اضافہ ہوا، لیکن مجموعی تصویر اب بھی ایسی نہیں جس پر اطمینان کا اظہار کیا جا سکے۔ گزشتہ مالی سال میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری 34فیصد کمی کے بعد 1.64ارب ڈالر رہی۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کا سرمایہ پاکستان آنے سے ہچکچا کیوں رہا ہے؟
سرمایہ کاری صرف اجلاسوں، کانفرنسوں اور اعلانات سے نہیں آتی۔ اس کے لیے سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی، آسان کاروباری ماحول، شفاف نظام، موثر ادارے اور قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ سرمایہ کار وہاں اپنا سرمایہ لگاتا ہے جہاں اسے مستقبل کے بارے میں اعتماد حاصل ہو۔
کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ بھی ہماری معاشی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جولائی میں یہ خسارہ 32کروڑ 80لاکھ ڈالر رہا۔ اگرچہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں اس میں کمی ہوئی، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہم کب تک درآمدات، قرضوں اور وقتی مالی انتظامات کے ذریعے معیشت کو سہارا دیتے رہیں گے؟ پائیدار راستہ یہی ہے کہ ملکی پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ کیا جائے اور معیشت کو حقیقی بنیادوں پر مضبوط بنایا جائے۔
حکومت کی جانب سے زرعی اصلاحات پر توجہ یقیناً خوش آئند ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی معاونت، معیاری بیج کی فراہمی، زرعی تحقیق کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور زرعی اداروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ہدایات قابلِ تحسین ہیں۔ لیکن اصل امتحان اعلانات نہیں بلکہ ان پر موثر اور شفاف عمل درآمد ہے۔
کسان کو تقریر نہیں، معیاری بیج، مناسب قیمت پر کھاد، بروقت پانی، سستی بجلی، جدید زرعی مشینری، آسان قرض، مناسب منڈی اور اپنی پیداوار کی منصفانہ قیمت چاہیے۔ اگر کسان کو اس کی محنت کا جائز معاوضہ نہیں ملے گا تو زرعی اصلاحات کے تمام دعوے محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے۔
ہماری معاشی پالیسی کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر مشکل کا بوجھ بالآخر عام آدمی پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہو تو کرائے بڑھتے ہیں، بجلی مہنگی ہو تو فیکٹری کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، پیداواری لاگت بڑھے تو اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں، اور یوں مہنگائی کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ وہی ہوتا ہے جس کی آمدن سب سے کم ہے۔
ایک متوسط گھرانے کا المیہ یہ ہے کہ آمدن محدود ہے مگر اخراجات کی کوئی حد نہیں۔ بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی، گیس، پٹرول، خوراک اور رہائش کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو تو والدین اپنی خواہشات قربان کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود بجٹ پورا نہیں ہوتا۔ بہت سے گھرانوں میں مائیں اپنے لیے کپڑے اور جوتے خریدنے کے بجائے بچوں کی فیس جمع کراتی ہیں، جبکہ باپ اپنا علاج موخر کر دیتا ہے تاکہ گھر کا راشن پورا ہو سکے۔ یہ اعداد و شمار سے کہیں بڑی معاشی حقیقت ہے، جسے کسی حکومتی رپورٹ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں کے مطالبات کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ہر احتجاج کو محض سیاسی مخالفت سمجھنے کے بجائے اس میں چھپی عوامی بے چینی کو سمجھنا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ حکومت تنقید سنے، اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور عوام کو محض وعدوں کے بجائے عملی ریلیف فراہم کرے۔
حکمرانوں کو یہ حقیقت بھی سمجھنی ہوگی کہ کسی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ اجلاسوں کی تعداد، منصوبوں کے اعلانات یا تقریروں کی طوالت نہیں بلکہ عام آدمی کے چہرے کا اطمینان ہے۔ اگر مزدور کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں، کسان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں، نوجوان کو روزگار نہیں، مریض کو سستا اور معیاری علاج نہیں اور طالب علم کو معیاری تعلیم نہیں مل رہی تو ترقی کے دعوے ادھورے ہی رہیں گے۔
پاکستان کو ایسی معاشی پالیسی درکار ہے جس میں اشرافیہ کی مراعات کم اور عام آدمی کا تحفظ زیادہ ہو۔ ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر ڈالنے کے بجائے دولت اور آمدن کے حقیقی مراکز تک پہنچنا ہوگا۔ سرکاری اخراجات میں کفایت، بجلی کے شعبے میں اصلاحات، توانائی کے نرخوں میں معقولیت، برآمدات میں اضافہ، مقامی صنعت کا فروغ اور زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری کے بغیر معاشی استحکام کا خواب پورا نہیں ہوگا۔
سب سے بڑھ کر حکومت کو دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہوگا۔ عوام کو یہ بتانا کافی نہیں کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں؛ انہیں بہتر حالات اپنی زندگی میں محسوس بھی ہونے چاہئیں۔ جب حکمران عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں گے، پالیسیوں کا مرکز اشرافیہ کے بجائے عام شہری ہوگا اور فیصلوں کا معیار سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد ہوگا، تب ہی عوام کا اعتماد بحال ہو سکے گا۔
عوام صبر کر سکتے ہیں، قربانیاں دے سکتے ہیں اور مشکلات برداشت کر سکتے ہیں، مگر انہیں ہمیشہ کے لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ معاشی ناانصافی بالآخر سیاسی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے، عام آدمی کو حقیقی ریلیف دے اور معاشی پالیسیوں کے ثمرات نچلے اور متوسط طبقات تک پہنچائے۔
کیونکہ کسی بھی حکومت کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنے بڑے دعوے کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے دور میں ایک عام شہری اپنے گھر کا بجٹ کتنے سکون سے چلا سکتا ہے۔ اگر عوام کو روٹی، روزگار، تعلیم، علاج اور رہائش کے بنیادی مسائل سے ہی نجات نہ مل سکے تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے اعداد و شمار بھی ان کے لیے بے معنی رہیں گے۔
ریاست کی مضبوطی صرف خزانے کے اعداد و شمار سے نہیں، عوام کے اعتماد سے ہوتی ہے۔ اور جب عوام کے دل میں مستقبل کے حوالے سے امید کم ہونے لگے تو یہ کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا معاشی اور سیاسی خسارہ ہوتا ہے۔
دعا ہے کہ رب ذوالجلال ہمارے وطن عزیز کو استحکام بخشے اور اس کے باسیوں کی مشکلات کو آسانیوں میں بدل کر ہماری مدد فرمائے۔

جواب دیں

Back to top button