Column

اپنے کمفرٹ زون میں رہ کر کمانا، جینا اور مسکرانا

اپنے کمفرٹ زون میں رہ کر کمانا، جینا اور مسکرانا
شکیل امجد صادق
ہم نے کامیابی کی ایسی تعریف گھڑ لی ہے جس میں سکون کی کوئی جگہ نہیں۔ آج کے دور میں جس شخص کی مصروفیت زیادہ ہو، جس کی نیند کم ہو، جس کے چہرے پر ہر وقت تھکن ہو اور جس کے پاس اپنے گھر والوں کے لیے وقت نہ ہو، اسے کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی شخص مناسب آمدنی کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہا ہو، اپنے بچوں کے ساتھ وقت بھی گزار رہا ہو، والدین کی خدمت بھی کر رہا ہو، اپنی صحت کا بھی خیال رکھتا ہو اور ذہنی طور پر مطمئن بھی ہو تو بعض لوگ اسے کم ہمت یا کم خواہشات والا قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اصل کامیابی صرف زیادہ کمانے کا نام نہیں بلکہ اس انداز سے کمانا ہے کہ زندگی بھی ساتھ چلتی رہے۔ اگر دولت کمانے کی دوڑ میں انسان اپنی صحت، اپنی نیند، اپنی خوشیاں، اپنے رشتے اور اپنا ذہنی سکون کھو دے تو ایسی کمائی آخر کس کام کی؟ آج کی دنیا ’’ ہسل کلچر‘‘ کی تبلیغ کر رہی ہے۔ ہر طرف یہی پیغام دیا جا رہا ہے کہ دن رات کام کرو، آرام بعد میں کرنا، چھٹیاں وقت کا ضیاع ہیں، نیند کامیابی کی دشمن ہے۔ یہ سوچ نوجوان نسل کو مسلسل ایک ایسی دوڑ میں دھکیل رہی ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ انسان ایک ہدف حاصل کرتا ہے تو دوسرا سامنے آ جاتا ہے، پھر تیسرا، پھر چوتھا۔ یوں پوری زندگی صرف دوڑتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ اس کے برعکس وہ لوگ زیادہ خوش نصیب ہیں جو اپنے مزاج، اپنی صلاحیت اور اپنی پسند کے مطابق روزگار اختیار کرتے ہیں۔ وہ اپنے کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ یہاں کمفرٹ زون کا مطلب سستی یا کاہلی نہیں بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں انسان اپنی فطرت کے مطابق بہتر کارکردگی دکھا سکے، ذہنی دبائو کم ہو اور زندگی کا توازن برقرار رہے۔ دیکھا جائے تو دنیا کے بڑے تخلیق کار، ادیب، شاعر، مصور اور سائنس دان اپنی پسند کے ماحول میں کام کرتے رہے۔ کسی کو خاموشی پسند تھی، کسی کو باغ، کسی کو کتابوں کے درمیان بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔ انہوں نے اپنی فطری صلاحیتوں کو اسی ماحول میں پروان چڑھایا جہاں ان کا دل مطمئن رہتا تھا۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھنے لگتے ہیں۔ فلاں نے نئی گاڑی لے لی، فلاں نے بڑا گھر بنا لیا، فلاں بیرون ملک چلا گیا، فلاں کی تنخواہ زیادہ ہے۔ یہ مسلسل موازنہ انسان کے دل سے شکر ختم کر دیتا ہے۔ پھر وہ اپنی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ دوسروں کو دیکھ کر فیصلے کرنے لگتا ہے۔
زندگی کی اصل خوشی مہنگی گاڑی یا عالیشان بنگلے میں نہیں بلکہ ذہنی سکون میں ہے۔ وہ سکون جو شام کو گھر لوٹتے وقت دل میں ہو۔ وہ سکون جو بچوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے محسوس ہو۔ وہ سکون جو والدین کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر حاصل ہو۔ وہ سکون جو رات کو بے فکری سے سونے میں ملے۔
آج نفسیاتی بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈپریشن، اینگزائٹی، بے خوابی اور ذہنی دبا عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ انسان نے اپنی خواہشات کو اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ بڑھا لیا ہے۔ آمدنی بڑھتی ہے تو اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ پھر مزید آمدنی کی خواہش جنم لیتی ہے اور یوں انسان ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس جاتا ہے۔
اصل عقل مندی یہ ہے کہ انسان اپنی ضروریات کو سمجھ کر زندگی گزارے۔ اگر مناسب آمدنی سے گھر چل رہا ہے، بچوں کی تعلیم ہو رہی ہے، عزت کے ساتھ زندگی گزر رہی ہے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ زیادہ دولت کی خواہش بری نہیں مگر اس کے لیے اپنی زندگی قربان کر دینا دانش مندی نہیں۔ کمفرٹ زون میں رہ کر کمانے کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرتا ہے۔ دبائو کے ماحول میں اکثر لوگ صرف کام نمٹاتے ہیں، لیکن پرسکون ماحول میں وہ نئے خیالات پیدا کرتے ہیں، بہتر فیصلے کرتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔
ہمارے بزرگ کم وسائل کے باوجود زیادہ مطمئن تھے۔ شام کو گھر کے سب افراد ایک دسترخوان پر بیٹھتے، گھنٹوں گفتگو ہوتی، ہنسی مذاق ہوتا، محلے دار ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹتے تھے۔ آج سہولتیں بڑھ گئی ہیں مگر سکون کم ہو گیا ہے۔ ہر فرد موبائل فون میں مصروف ہے، ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف زیادہ کمانے کا سبق نہ دیں بلکہ بہتر زندگی گزارنے کا ہنر بھی سکھائیں۔ بچوں کو یہ بتایا جائے کہ دولت اہم ضرور ہے مگر صحت، کردار، وقت، رشتے اور ذہنی سکون اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔
اسلام بھی اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ محنت کی ترغیب دیتا ہے مگر ساتھ ہی حقوق العباد، اہل خانہ کی ذمہ داری، عبادت، آرام اور توازن کی بھی تلقین کرتا ہے۔ وہ کمائی جس میں حلال بھی ہو، برکت بھی ہو اور سکون بھی ہو، وہی اصل رزق ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شخص کروڑ پتی نہیں بن سکتا، نہ ہر شخص کو بننا ضروری ہے۔ معاشرے کو اچھے استاد، دیانت دار سرکاری ملازم، مخلص ڈاکٹر، ہنرمند کاریگر، ایماندار کسان، محنتی مزدور اور باکردار تاجر سب کی ضرورت ہوتی ہے۔ کامیابی کا معیار صرف بینک بیلنس نہیں بلکہ کردار اور اطمینان بھی ہے۔ آج سوشل میڈیا نے کامیابی کا مصنوعی معیار قائم کر دیا ہے۔ ہر شخص اپنی بہترین تصویریں اور کامیابیاں دکھاتا ہے، ناکامیاں نہیں۔ لوگ دوسروں کی نمائش دیکھ کر اپنی زندگی سے ناخوش ہونے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت اکثر اس کے برعکس ہوتی ہے۔
ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ زندگی ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ اس سفر میں منزل سے زیادہ راستے کی خوبصورتی اہم ہے۔ اگر راستہ ہی اضطراب، پریشانی اور تھکن سے بھر جائے تو منزل بھی خوشی نہیں دے سکتی۔ اصل امیر وہ نہیں جس کے پاس سب کچھ ہو، بلکہ وہ ہے جسے اپنے پاس موجود چیزوں پر اطمینان حاصل ہو۔ اصل کمائی وہ نہیں جو صرف بینک میں جمع ہو بلکہ وہ ہے جو دل میں سکون، چہرے پر مسکراہٹ، گھر میں محبت اور زندگی میں توازن پیدا کرے۔
آئیے ہم اپنی کامیابی کی تعریف بدلیں۔ اپنے بچوں کو صرف بڑی تنخواہ کا خواب نہ دکھائیں بلکہ اچھی زندگی جینے کا شعور بھی دیں۔ ایسی زندگی جس میں محنت بھی ہو، عبادت بھی، خاندان بھی، دوست بھی، صحت بھی اور خوشیاں بھی۔ یاد رکھیے! دنیا کی سب سے قیمتی دولت وہ نہیں جو تجوری میں رکھی ہو بلکہ وہ ہے جو انسان کے دل میں اطمینان، آنکھوں میں سکون اور چہرے پر مسکراہٹ بن کر جھلکتی ہو۔ اگر آپ اپنے کمفرٹ زون میں رہ کر باعزت، حلال اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں تو یقین کیجیے، آپ واقعی کامیاب ہیں۔ یہی اصل کمائی ہے، اور یہی وہ دولت ہے جو زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button