Column

5اگست کے جواب میں بنیان مرصوص

5اگست کے جواب میں بنیان مرصوص
تحریر: علی احمد
برصغیر کی تقسیم کے وقت ہی انگریزوں اور مکار ہندووں نے گٹھ جوڑ کر کے مسلمان ا کثریتی علاقوں کو بھارت میں شامل کر دیا۔ مشرقی پنجاب کی قریباً 40تحصیلیں جن کی اکثریتی آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی کو جبری طورپر بھارت میں شامل کر دیا گیا۔ اگر یہ علاقے بھارت کو نہ دیئے جاتے تو دہلی کے پاس جموں و کشمیر جانے والا کوئی زمینی راستہ نہ تھا۔ اس فیصلے کے بعد مشرقی پنجاب کے ذریعے ہی دہلی اور سری نگر تک راستہ مہیا کیا گیا اور بھارتی وزیر اعظم نہرو نے تمام تر قانونی اور اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے راتوں رات بھارتی ائیرفورس کو حکم دیا کہ وہ سری نگر ایئرپورٹ پر اتر جائیں جس کے بعد کشمیر جنت نظیر مسلمان اکثریتی وادی پر ہندوستان کا غیر قانونی قبضہ ہو گیا۔ یوں ریاست جموں و کشمیر عملی طورپر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ بھارت نے جب اپنے ملک میں آئین تشکیل دیا تو ریاست جموں و کشمیر کی علیحدہ شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں آرٹیکل 370اور35 اے کو شامل کیا گیا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو یہ حق دیا گیا کہ اس کا اپنا الگ پرچم ہو گا جبکہ دفاع اور امور خارجہ، مواصلات کے علاوہ دیگر امور میں بھارتی پارلیمنٹ کے اختیارات محدود کر دیئے گئے تھے۔ آرٹیکل370میں ریاستی باشندوں کی تعریف کی گئی جس میں کہا گیا کہ کوئی غیر کشمیری ریاست میں زمین کی خریدوفروخت نہیں کر سکتا۔ سرکاری ملازمتیں، وظائف پر کشمیریوں کا ہی حق ہو گا۔ لیکن5اگست2019ء کو فاشٹ مودی حکومت نے اپنے ہی آئین کو روندتے ہوئے تمام بھارتی سیاسی جماعتوں، سیاستدانوں کی مخالفت کے باوجود یہ آرٹیکلز آئین سے ختم کر دیئے اور لداخ کو کشمیر سے الگ کر دیا۔ اس ظالمانہ اقدام کیخلاف نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر، پاکستان بلکہ دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا۔ حتیٰ کہ بھارت کے اندر سے کشمیریوں کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں۔ پاکستان کا ہمیشہ سے کشمیر کے حوالے سے دوٹوک اور واضح موقف ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوجاتا اور کشمیریوں کو اِن کا پیدائشی حق حق خودارادیت نہیں مل جاتا تب تک خطہ میں امن ناممکن ہے۔
5اگست2019ء میں فاشسٹ بھارتی حکومت کے غیر آئینی اقدام کیخلاف پاکستان نے نہ صرف اقوام متحدہ، اسلامی کانفرنس تنظیم بلکہ ہر عالمی پلیٹ فارم پر بھارتی غیر آئینی اقدام کیخلاف بھرپور آواز اٹھائی اور آج بھی اُٹھا رہا ہے۔ پاکستان نے اقوام عالم کو واضح طور پر بتایا کہ فاشسٹ مودی کا یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی کشمیر بارے منظور شدہ حق خودارادیت کی قراردادوں اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور عالمی برادری کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق ہی ہونا چاہئے۔ بھارتی غیر آئینی اقدام کیخلاف ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی فاشسٹ مودی سرکار کے اس اقدام کو مسترد کر دیا اور اسے انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین شکل قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے جنوبی ایشیا میں امن کو شدید دھچکا لگا ہے۔ فاشسٹ مودی حکومت کے اِس غیر آئینی و غیر قانونی اقدام کے بعد پاکستان اور بھارت میں جنگی حالات پیدا ہوئے اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ کی اور پہلگام کا جھوٹا ڈرامہ رچایا۔ اِسی طرح گزشتہ سال ہی مکار مودی سرکارنے 7مئی 2025ء کو آپریشن سندور کے نام سے رات کی تاریکی میں چھپ کر پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج، حکومت پاکستان اور پوری پاکستانی قوم نے یکجاں ہو کر آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق میں ایسا دندان شکن جواب دیا ہے کہ جس کی گونج پوری دُنیا میں آج بھی سنائی دے رہی ہے اور ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شہباز شریف کی قیادت میں افواج پاکستان اور پاکستان کے شاہینوں نے بھارت کے اتنے رافیل طیارے گرائے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی عالمی میڈیا پر فاشسٹ بھارتی وزیراعظم مودی کا مذاق اڑاتے ہوئے کبھی دس طیارے تو کبھی گیارہ بتاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی نے خود ہی آپریشن سندور شروع کیا اور جب پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ملا تو ہاتھ جوڑ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کیلئے منتیں سماجتیں اور ترلے کرتا رہا۔
خیر5اگست یوم استحصال کشمیر کے موقع پر نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر، پاکستان بلکہ دُنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی اور کشمیری اقوام عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے اور اقوام متحدہ کی قرارداددوں کے مطابق کشمیریوں کے پیدائشی حق، حق خودارادیت کیلئے ریلیوں، مباحثوں، تقاریری اور تصاویری نمائش کا اہتمام کرتے ہیں۔ اِس حوالے سے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ہر سال کی طرح امسال بھی خصوصی طورپر تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیریوں کا ہر گزرتا دِن غاصب بھارت کیلئے درد سر ہے اور ان شاء اللہ وُہ وقت دور نہیں کہ جب مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہداء کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور ’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔

جواب دیں

Back to top button