وہ جنگ بندی جو خود جنگ بن گئی

وہ جنگ بندی جو خود جنگ بن گئی
قادر خان یوسف زئی
برطانوی ادارہ برائے بحری تجارت کے مطابق چھ جولائی کے بعد سے ایران گیارہ بحری جہازوں پر حملہ کر چکا ہے، حوثیوں سمیت یہ تعداد13 سے تجاوز کر چکی ہے۔ جہاں روزانہ 130سے150جہاز گزرتے تھے، وہاں اب 15جہاز بھی مشکل سے گزر رہے ہیں۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ دو دن سے ایران پر بمباری کیوں رکی ہوئی ہے اور جنگ بندی کیوں نافذ نہیں ہو رہی۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ بندی کیوں نافذ نہیں ہو رہی، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کوئی جنگ بندی تھی بھی؟
امریکی وایرانی اعلانات، دراصل ایک موخر کیا گیا بحران تھا۔ ہر قدم پر صرف وقت خریدا گیا، مسئلہ حل نہیں کیا جا سکا۔ مسئلہ آج بھی وہی ہے جو کل تھا، ہرمز پر اختیار کس کا ہوگا۔ ایران کہتا ہے کہ اس کی ساحلی حدود میں گزرنے کا راستہ وہ متعین کرے گا، امریکہ کہتا ہے کہ آزادیِ جہاز رانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ جب بنیاد ہی تصادم پر رکھی گئی ہو تو چھت کیسے قائم رہ سکتی ہے۔ شواہد اسی تصادم کی کہانی سنا رہے ہیں۔ بادی النظرمیں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تزویراتی وقفہ ہے، اسلام آباد اس سے زیادہ کیا کرسکتا ہے۔ وہ ثالث ہے فریق نہیں۔
امریکہ نے 14جولائی کو بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی اور لگاتار گیارہ راتوں تک ایران کے اندر کمانڈ سینٹرز، ڈرون کے گوداموں اور ساحلی نگرانی کے مراکز پر حملے کیے۔ 26جولائی کی صبح الجزیرہ کی براہ راست رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے محض 24گھنٹوں میں 6جہازوں کو وارننگ شاٹ مار کر روکا اور کہا کہ وہ تہران کے متعین کردہ راستے سے ہٹ رہے تھے۔ دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ کہہ رہی ہے کہ وہ جہازوں کو زبردستی موڑ رہی ہے۔ یعنی جنگ بندی اس لیے نافذ نہیں ہو رہی کہ دونوں فریق اسے ایک دوسرے پر دبائو کا ہتھیار سمجھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے خود8جولائی کو کہا تھا کہ ایران نے بار بار معاہدے کی خلاف ورزی کی، اس لیے جنگ بندی ختم۔ یہ کوئی معاہدہ نہیں تھا، یہ ایک ایسی عمارت تھی جس میں نہ ستون تھے نہ چھت، صرف ایک بورڈ لگا تھا کہ یہ امن ہے۔
اسی تعطل میں یورپ نے وہ فیصلہ کیا جس کی واشنگٹن کو توقع نہیں تھی۔ صدر ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں سے کہا کہ ہرمز کھولنے کے لیے بحری جہاز بھیجو، یورپ نے دو ٹوک جواب دیا، یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ برسلز میں جرمن وزیر خارجہ نے صاف کہا کہ ہمارا فوجی کارروائی میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یورپ کا استدلال سیدھا ہے، آپ نے ہم سے مشورہ کیے بغیر جنگ شروع کی، اس کا کوئی ٹھوس قانونی جواز بھی نہیں دیا، اور اب جب تیل مہنگا ہو رہا ہے تو آپ ہمیں بل کا حصہ بننے کو کہہ رہے ہیں۔ یہ وہی یورپ ہے جو یوکرین پر امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن ایران کے معاملے میں وہ خود کو الگ رکھ رہا ہے۔
ادھر خلیج میں دوسرا محاذ کھل گیا ہے، جو اس جنگ کو مزید خطرناک بنا رہا ہے۔ 4برس سے خاموش بیٹھے حوثیوں نے20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا،22 جولائی کو بحیرہ احمر میں دو سعودی تیل بردار جہازوں پر میزائل داغے اور 24جولائی کو ینبع اور جازان میں آرامکو کی تنصیبات پر درجنوں ڈرون اور بیلسٹک میزائل پھینکنے کا دعویٰ کیا۔ جواب میں سعودی اتحاد نے 24جولائی کو حدیدہ بندرگاہ اور کمران جزیرے پر بمباری کی، جہاں آگ کے شعلے سیٹلائٹ تصاویر میں بھی دیکھے گئے، اور 25جولائی کو جوف اور مآرب میں حوثیوں کے میزائل لانچ پیڈز کو نشانہ بنایا۔ یہ اب ایران امریکہ جنگ نہیں رہی، یہ سعودی حوثی پرانی دشمنی کا نیا باب ہے جس نے تیل کی پوری سپلائی لائن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایران کھل کر کہہ رہا ہے کہ پاکستان کا کردار علاقائی امن کے لیے اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں امریکہ اور ایران دونوں بالواسطہ بات کر رہے ہیں، باقی سب صرف زبانی بیانات دے رہے ہیں۔ واشنگٹن کہتا ہے کہ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، تہران کہتا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی قیمت نہیں۔ بیانات کے سوا زمین پر کچھ نہیں ہو رہا۔
لگتا تو یہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روس یوکرین جیسی نہیں بنے گی، بلکہ یہ اس سے زیادہ بے نتیجہ اور زیادہ تھکا دینے والی بنے گی۔ روس یوکرین زمین پر قبضے کی جنگ ہے، یہ سمندر پر سانس بند کرنے کی جنگ ہے۔ وہاں ٹینک آگے بڑھتے ہیں، یہاں جہاز پیچھے ہٹتے ہیں۔ امریکہ ایران پر وہ فیصلہ کن ضرب نہیں لگا سکتا جو قابل قبول قیمت پر ہو، اور ایران امریکہ کو خلیج سے نکال نہیں سکتا۔ اس لیے یہ جنگ کسی بڑی فتح پر ختم نہیں ہوگی۔ اس کے چار واضح امکانات ہیں۔ پہلا، کمزور جنگ بندی کی واپسی، جس کا امکان تیس فیصد ہے، پاکستان یا عمان کے ذریعے۔ دوسرا، اور سب سے زیادہ ممکنہ، چالیس سے پینتالیس فیصد، یہی موجودہ صورت حال کا تسلسل، نہ جنگ نہ امن، روزانہ دو چار جہازوں پر حملہ، رات کو امریکی بمباری، دن کو زبانی بیانات۔ تیسرا، بیس فیصد امکان کہ حوثی سعودی محاذ کھل کر خلیجی جنگ بن جائے۔ چوتھا، دس فیصد سے کم امکان کہ کسی امریکی اڈی پر بڑی ہلاکت کے بعد امریکہ جزیرہ خارگ اور پک ایکس مائونٹین جیسی تنصیبات پر بڑا حملہ کر دے۔
اس صورت میں عرب اور خلیجی ممالک کیا کر سکتے ہیں؟ ان کے پاس یورپ سے زیادہ کارڈ ہیں۔ پہلا کارڈ، وہ امریکہ کو اپنے اڈوں سے جارحانہ کارروائی کی اجازت دینے سے انکار کر سکتے ہیں، جیسا کہ عمان اور قطر اشارے دے رہے ہیں۔ دوسرا، وہ امریکی قیادت میں نہیں بلکہ خلیج تعاون کونسل کی قیادت میں مشترکہ بحری گشت کی تجویز دے سکتے ہیں، جسے ایران قبول کرنے پر زیادہ آمادہ ہوگا۔ تیسرا، وہ تیل کو ہتھیار کے طور پر نہیں بلکہ ثالثی کے طور پر استعمال کریں اور اسلام آباد یادداشت جیسے کسی نئے معاہدے کے لیے مالی ضمانت دیں۔ عرب دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ ہرمز بند ہونے سے سب سے زیادہ نقصان خود ان کا ہے۔
یقیناً کچھ حلقے کہیں گے کہ ایران تھک چکا ہے، اس کی معیشت تباہ ہو رہی ہے، ٹرمپ کا دبائو کام کر رہا ہے اور یورپ آخر کار امریکہ کے ساتھ آ ہی جائے گا۔ یہ دلیل بظاہر وزنی لگتی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یورپ اس لیے ساتھ نہیں آ رہا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس جنگ کا کوئی قانونی جواز اور کوئی واضح انجام نہیں۔ اور پاکستان کا بار بار آنا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کو بھی معلوم ہے کہ بمباری سے راستہ نہیں کھلے گا، بات ہی سے کھلے گا۔ ورنہ اس جنگ کی قیمت دنیا کے ہر باشندے کو یکساں دینی ہوگی۔




