امن کی امید زندہ رہنی چاہیے

امن کی امید زندہ رہنی چاہیے
مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست، جنگوں اور سفارتی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات بھی اسی خطے کے سب سے پیچیدہ تنازعات میں شمار ہوتے ہیں، جن کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی فراہمی، عالمی تجارت اور علاقائی امن پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر پاکستان اور قطر کی ثالثی سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے تو یہ نہ صرف خوش آئند پیش رفت ہے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک اہم موقع بھی ہے، جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر اپنے اپنے جوابات ثالث ممالک کے حوالے کر دئیے ہیں جب کہ ایران نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ اگرچہ ابھی یہ عمل ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ کشیدگی میں کمی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور دونوں فریق کم از کم سفارتی رابطے برقرار رکھنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ عسکری کارروائیاں وقتی برتری تو دلا سکتی ہیں، لیکن پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات، اعتماد سازی اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حاصل ہوتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں دنیا نے عراق، افغانستان، شام، لیبیا اور یمن جیسے تنازعات کے تباہ کن نتائج دیکھے ہیں، جہاں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، معیشتیں تباہ ہوئیں اور کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے، مگر بالآخر مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی اگر مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک اہم مرکز ہیں۔ یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی تیل کی قیمتوں میں اضافے، عالمی مہنگائی، تجارتی رکاوٹوں اور معاشی بے یقینی کو جنم دے سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک، ایسے بحرانوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی معیشت پہلے ہی بیرونی عوامل سے حساس ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں فریق تحمل، بردباری اور ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔ اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن ان کا حل میدانِ جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر تلاش کرنا ہی دانش مندی ہے۔ سفارت کاری کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ ایسے راستے نکالے جائیں جن سے تصادم کے بجائے اعتماد کو فروغ ملے اور مسائل کے قابلِ قبول حل تلاش کیے جاسکیں۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششیں بھی اسی سوچ کی عکاس ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی کا حامی رہا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر موجودہ صورت حال میں بھی اسلام آباد سفارتی سطح پر دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی میں کردار ادا کرسکتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا۔ امریکا، جو عالمی سیاست میں ایک اہم طاقت ہے اور ایران، جو مشرقِ وسطیٰ کا ایک موثر علاقائی ملک ہے، دونوں کے فیصلے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں قیادتیں جذبات کے بجائے تدبر، تحمل اور دُور اندیشی سے فیصلے کریں۔ سخت بیانات، دھمکیوں اور عسکری طاقت کے اظہار کے بجائے اعتماد سازی، سفارتی روابط اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اختلافات کا مکمل خاتمہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا، لیکن اگر بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تو بڑے سے بڑا تنازع بھی بتدریج حل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ دنیا کی کئی بڑی مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ برسوں تک جاری رہنے والے تنازعات بھی آخرکار مذاکرات کے ذریعے ختم ہوئے۔ اس لیے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی ہر کوشش کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ عالمی برادری پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کی حمایت کرے جو امن کو فروغ دیں۔ اقوام متحدہ، علاقائی تنظیموں اور دیگر بااثر ممالک کو چاہیے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ کسی بھی فریق کو اشتعال انگیزی، نفرت یا تصادم کی طرف دھکیلنے کے بجائے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے عوام بھی برسوں سے جنگوں، پابندیوں، بدامنی اور بے یقینی صورت حال کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ وہاں کے نوجوان ترقی، تعلیم، روزگار اور خوش حالی کے خواہش مند ہیں، نہ کہ مسلسل تنازعات کے۔ اگر خطے میں امن قائم ہوگا تو سرمایہ کاری بڑھے گی، تجارت فروغ پائے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ یہی وہ فوائد ہیں جو کسی بھی جنگی کامیابی سے کہیں زیادہ دیرپا اور قیمتی ہوتے ہیں۔ آج دنیا کو نئے محاذوں، نئی جنگوں اور نئی دشمنیوں کی نہیں بلکہ اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کی ضرورت ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ایران و امریکا، پاکستان، قطر اور دیگر کی ثالثی میں اس سفارتی موقع کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ اگر نیک نیتی، باہمی احترام اور سنجیدہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف موجودہ کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ ایک ایسے ماحول کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے جہاں اختلافات طاقت کے بجائے مکالمے سے حل ہوں۔ دنیا کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت امن کی ہے، کیونکہ امن ہی ترقی، خوش حالی اور انسانیت کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔
ایل پی جی مافیا بے قابو
ملک میں مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کیے ہوئے ہے، مگر اس کے باوجود ضروری اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ اور ناجائز منافع خوری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ کراچی میں ایل پی جی کی سرکاری قیمت 241روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود 350سے 380روپے فی کلو فروخت ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قیمتوں کے تعین اور ان پر عمل درآمد کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے۔ جب سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود رہ جائیں تو عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ صرف کراچی ہی نہیں ملک کے طول و عرض میں ایل پی جی مافیا بے قابو ہے اور سرکاری نرخ سے کافی زائد قیمت وصول کی جارہی ہے۔ ایل پی جی گھریلو صارفین، چھوٹے کاروباروں اور ان علاقوں کے لیے بنیادی ضرورت ہے جہاں قدرتی گیس کی فراہمی محدود یا غیر موجود ہے۔ ایسے حالات میں اس کی قیمتوں میں من مانی اضافہ براہِ راست لاکھوں خاندانوں کے ماہانہ اخراجات بڑھا دیتا ہے۔ ایک طرف حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کرتی ہے، دوسری جانب منافع خور کھلے عام سرکاری نرخوں کو نظر انداز کرکے عوام سے اضافی رقم وصول کرتے رہتے ہیں، جو انتظامی نگرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے صرف بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کریں۔ مارکیٹوں میں باقاعدہ نگرانی، روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی جانچ، خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے، لائسنس کی معطلی اور قانونی کارروائی جیسے اقدامات ہی اس مسئلے کا موثر حل ثابت ہوسکتے ہیں۔ اگر چند بڑے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تو اس کے مثبت اثرات پوری مارکیٹ پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ عوام کو بھی اپنے حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے اور سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کی نشان دہی متعلقہ اداروں تک پہنچانی چاہیے۔ شکایتی نظام کو آسان، مثر اور فوری بنایا جائے تاکہ صارفین کی آواز سنی جاسکے۔ میڈیا اور شہری تنظیمیں بھی ناجائز منافع خوری کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ریاست کی بنیادی ذمے داری صرف قیمتوں کا اعلان کرنا نہیں بلکہ ان پر موثر عمل درآمد بھی یقینی بنانا ہے۔ اگر سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی دستیابی ممکن نہ بنائی گئی تو مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھے گا اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت سخت نگرانی، موثر قانون نافذ کرنے اور بلاامتیاز کارروائی کے ذریعے ایل پی جی مافیا کی اجارہ داری ختم کرے تاکہ شہریوں کو سرکاری نرخوں پر یہ بنیادی ضرورت با آسانی دستیاب ہوسکے۔




