CM RizwanColumn

نظام نہیں مسئلہ مدارسِ، ریلیف کا ہے

نظام نہیں مسئلہ مدارسِ، ریلیف کا ہے
تحریر :سی ایم رضوان
مولانا فضل الرحمٰن کے قصوری بیان کے بعد جو تنقید اور ’’ غدار ہے غدار ہے‘‘ کے طومار، معافی مانگنے کے مطالبات شروع ہو گئے تھے۔ وہ بھی ضرورت سے زائد تھے اور اب گزشتہ روز جب مولانا اپنے متنازعہ بیان پر نہ صرف بظاہر ڈٹ کر کھڑے ہو گئے بلکہ یہ بھی کہا کہ معافی میں نہیں مانگوں گا بلکہ وہ فوجی افسر معافی مانگیں جن کے دفتر سے ان کے معاملات پر ضرب پڑی ہے۔ مولانا کے اس’’ قیام ‘‘ کے بعد بھی اب جو مولانا کے سیاسی قد کاٹھ، ریاستی نظام میں ان کی اثر پذیری اور مستقبل میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی متوقع صورت میں مولانا کی قیادت کے حوالے سے باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں ان کی بھی نہ تو کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی چنداں ضرورت ہے۔ البتہ ’’ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے‘‘ کے مصداق اکثر سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کی اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں اور اب اس معاملے کے یکسر مختلف سیاسی و آئینی پہلو اس سوال کے ساتھ بیان کئے جا رہے ہیں کہ کیا مولانا ’’ پاور کوریڈور‘‘ پر بھاری ہیں؟ جس کے جواب میں تجزیاتی طور پر مولانا فضل الرحمٰن کو بالکل شیخ چلی کی طرح روایتی طور پر ایک انتہائی چالاک، تجربہ کار اور ’’ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر‘‘ کنگ میکر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس دلیل کے حق میں ماضی میں مولانا کی سیاسی سٹریٹجی اور ان کے پارلیمانی وزن کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اکثر مولانا کے پاس محدود نشستیں ہی ہوتی ہیں مگر وہ اس کے باوجود ایوان کے اندر اپنے حق میں توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں مثالیں بھی دی جا رہی ہیں کہ 2022ء میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ہو یا 2024ء کی 26ویں آئینی ترمیم، مولانا کے ووٹ کی اہمیت نے انہیں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے ناگزیر بنایا۔ اسی طرح مولانا کی سٹریٹ پاور ( مذہبی طاقت) کو بھی ان کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ ان کے پاس ملک بھر میں مدارس، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایک بہت منظم اور فرمانبردار کیڈر موجود ہے۔ ضرورت سے زائد تیزی کے ساتھ تجزیہ کار یہ بھی تجزیہ کر رہے ہیں کہ وہ اسلام آباد میں ’’ ملین مارچ‘‘ یا دھرنا دے کر وفاقی حکومت اور پاور کوریڈورز پر شدید دبائو ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صوبائی سیاست میں مولانا کا کافی اثر ہے اور بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سیاست میں ان کا ووٹ بینک اور اثر و رسوخ ہمیشہ سے اہم رہا ہے، جہاں سے وہ ریاستی پالیسیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ تاہم، ساتھ ہی بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ مولانا کا ووٹ بینک اور عوامی مقبولیت کا دائرہ پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں میں محدود ہے، جس کی وجہ سے وہ اکیلے پورے ملک کی سطح پر متبادل حکومت قائم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اب باقی رہ گیا یہ سوال کہ کیا وہ کسی بڑی ’’ تبدیلی‘‘ کے قائد بن سکتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی قیادت کرنے کے حوالے سے ان کے پاس نہ تو کوئی پروگرام ہے نہ سیاسی قوت اور نہ ہی بڑے گھر سے کوئی کمک ان کے ساتھ ہے بلکہ وہ تو یہ رونا رو رہے ہیں کہ بڑے گھر سے ان کو مدارس جیسے چھوٹے سے معاملہ میں بھی تعاون نہیں مل رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ خود سسٹم کا حصہ رہے ہیں، اس لئے وہ موجودہ نظام کو مکمل گرانے کی بجائے اس کے اندر ہی اپنے لئے جگہ بنانے یا اپنے معاملات درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب بھی وہ اتنا ہی چاہتے ہیں۔ جہاں تک حکومت کی تبدیلی کا تعلق ہے تو وہ غیر آئینی طریقے سے اقتدار لینے کے بجائے ہمیشہ پارلیمانی اور آئینی راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے قطع نظر بین الاقوامی و علاقائی قبولیت نہ ہونے کی قباحت بھی مولانا کا بنیادی مسئلہ ہے۔ غیر ملکی و بین الاقوامی طاقتوں کے لئے ایک سٹرکچرڈ مذہبی جماعت کے سربراہ کے طور پر ان کو ایک ایٹمی ملک کی حکومت میں فیصلہ ساز کی حیثیت سے دیکھنا ایک حساس معاملہ ہے۔ القصہ مولانا فضل الرحمٰن کسی اکیلی پارٹی کے طور پر نظام کو بدلنے والی یکطرفہ انقلاب پسند شخصیت نہیں ہیں، لیکن وہ کسی بھی بڑی سیاسی تحریک، اپوزیشن اتحاد یا آئینی بحران میں ’’ مرکزی محور‘‘ ضرور بن سکتے ہیں۔ وہ بھی اگر پاور کاریڈور کو منظورِ ہوا تو وگرنہ مولانا کسی بڑی سیاسی مزاحمت کے قائد نہیں بن سکتے۔
پاکستانی سیاست کا سب سے اہم، تسلیم شدہ اور تلخ ترین پہلو یہ ہے کہ ماضی قریب و بعید میں روایتی سیاست دانوں کی آپسی مفاداتی چپقلش، ذاتی مفادات کی فوقیت اور باریوں کی سیاست نے ہی موجودہ سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا اور اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی میدان میں اتنا بااختیار بنا دیا ہے کہ اب جب سے ایک محب وطن، باعمل اور اصول پسند آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کمان سنبھالی ہے تو وزیر اعظم سمیت کسی بھی بڑے سے بڑے سیاستدان کی بات اسٹیبلشمنٹ کے ( خلاف یا حق میں ذکر کے) بغیر مکمل اور بااعتبار نہیں ہو سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے تمام سیاست دان اب اپنا سیاسی جواز کھو چکے ہیں اور وہ حقیقی طور پر کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا سبب یا محرک نہیں بن سکتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام ( خصوصاً نوجوان طبقہ) یہ دیکھ چکے ہیں کہ یہ تمام رہنما اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو محض دکھاوے کی خاطر ’’ جمہوریت اور آئین کی بالا دستی‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، اور اقتدار میں آتے ہی انہی قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ ( ڈیل) کر لیتے ہیں جن کے خلاف وہ کل تک ڈٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ وقت نے یہ سچ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ان کے آپسی سیاسی اتحاد بھی مفاداتی اتحاد ہوتے ہیں۔ جب مختلف اور متضاد نظریات رکھنے والی جماعتیں صرف اقتدار کی خاطر یا اپنے کیسز ختم کرانے کے لئے اکٹھی ہوتی ہیں، تو عوام اسے ’’ اصولوں کی جنگ‘‘ کے بجائے ’’ مفادات کی سودے بازی‘‘ سمجھتے ہیں۔ جس کے بار بار آزمائے جانے کے بعد اب مستقل طور پر عوامی مایوسی پیدا ہو گئی ہے۔ اب مسلط شدہ طویل معاشی بحران اور پسے ہوئے طبقے کے جان لیوا مسائل سے مجرمانہ چشم پوشی کر کے یہ سیاست دان اب بھی صرف اپنے اقتدار اور اختیارات کی جنگ لڑنے کی وجہ سے عام آدمی کی توجہ، اعتبار اور ہمراہی سب کچھ کھو چکے ہیں۔ عوام کا ان سب پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ کوئی جمہوری چیمپئن ہو یا مذہبی پیشوا ان سب کی سیاست عوام کی نظر میں بے معنی ہو چکی ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود ایک جعلی، عارضی اور جھوٹا کھیل تو بہرحال جاری ہے جس کے تحت اقتدارِ اور اختیار کی بندر بانٹ جاری ہے۔ اس غیر عوامی، غیر سیاسی جوڑ توڑ اور پارلیمانی تاریخ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ جنہیں ہم ’’ چلے ہوئے کارتوس‘‘ کہتے ہیں، سیاست کی بساط پر انہی کے پاس وہ تجربہ ہے جو نظام میں رخنہ ڈال سکتا ہے۔ اب بھی اگر تمام اپوزیشن جماعتیں ( خواہ وہ پرانی ہی کیوں نہ ہوں) متحد ہو کر ایوان کے اندر یا باہر ایک سمت میں کھڑی ہو جائیں، تو وہ کسی بھی حکومت اور پاور سٹرکچر کے لئے قانون سازی اور حکومت چلانا انتہائی مشکل بنا سکتی ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے پاس منظم کارکنان اور دھرنوں کی طاقت ہے، جبکہ مقبول سیاسی جماعتوں کے پاس ووٹ بینک اور عوامی تائید ہوتی ہے۔ اگر یہ دونوں مل جائیں تو انتظامی مشینری کے لئے حالات سنبھالنا آسان نہیں رہتا۔ ان ماہرین کے مطابق پاکستانی تاریخ بتاتی ہے کہ اے آر ڈی 1970، پی این اے 2000کی دہائی اور پی ڈی ایم 2020جیسے اتحاد ہمیشہ انہی روایتی اور متضاد رہنمائوں نے بنائے، اور ان تمام تحریکوں نے اپنے اپنے وقت کے سیٹ اپ کو متزلزل بھی کیا۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ کیا یہ روایتی رہنما ملک کو کوئی نیا سیاسی یا معاشی ماڈل دے سکتے ہیں؟ تو اکثر تجزیہ کاروں کا جواب ’’ نہیں‘‘ میں ہوگا۔
مولانا کی حالیہ سخت سیاسی بیٹنگ، بالخصوص مقتدرہ سے متعلق حالیہ بیانات کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں، بلکہ مدارس کے مسائل ( اکائونٹس و رجسٹریشن) اور عمومی سیاسی و انتظامی حکمتِ عملی کا ایک پورا مجموعہ کام کر رہا ہے۔ اس پورٹ فولیو اور حالیہ سیاسی کشمکش کی بنیاد ایک تو مدارس کے بینک اکانٹس اور مالیاتی پابندیاں ہیں۔ جن کے تحت سٹیٹ بینک آف پاکستان کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے دینی مدارس کے بینک اکائونٹس کھولنے، ان کی فنڈنگ اور آڈٹ پر کافی سخت ضوابط عائد کیے ہوئے ہیں۔ بہت سے مدارس کو نئے بینک اکائونٹس کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے یا ان کے پرانے اکانٹس منجمد اور شدید جانچ پڑتال کے تحت لائے گئے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ اور مولانا فضل الرحمٰن کا موقف رہا ہے کہ مدارس کو بلا وجہ ہراساں نہ کیا جائے اور ان کے مالیاتی نظام کو سرکاری یا سکیورٹی کنٹرول کے بجائے خود مختار رکھا جائے۔ مدارس سے متعلق سب سے بڑا حالیہ تنازع ان کی رجسٹریشن کا طریقہ کار ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی ساری کی ساری سیاست چونکہ انہی مدارسِ کے مالی معاملات کی نگرانی اور تحفظ کی بنیاد رکھتی ہے اور اسی بنیاد کے مفادات پورے ہونے کے رستے بند ہو جانے کی وجہ سے ان کی ساری سیاست اور طاقت اب خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔ اسی وجہ سے مولانا کا مطالبہ رہا ہے کہ مدارس کو سوسائٹی ایکٹ ( یا آزادانہ مذہبی و روزمرہ ایکٹ) کے تحت رجسٹر کیا جائے تاکہ ان کی دینی اور انتظامی خود مختاری قائم رہے جبکہ حکومتی و سکیورٹی تحفظات اپنی جگہ اہم ہیں۔ ریاست اور ادارے چاہتے ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ کے تحت ہو تاکہ ان کا نصاب اور فنڈنگ ایک ہی دائرے میں مانیٹر ہو سکے۔
26ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی مولانا نے اس شرط پر حکومت کا ساتھ دیا تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے قانون کو سہل بنایا جائے گا، لیکن بعد میں اس معاملے پر قانونی و صدارتی رکاوٹیں آئیں جس سے مولانا کی شکایات میں مزید اضافہ ہوا۔
مولانا کے فوجی قیادت یا پالیسیوں پر تنقیدی بیانات کے پیچھے صرف دینی مدارس کا معاملہ نہیں، بلکہ کئی دیگر سیاسی وجوہات بھی شامل ہیں۔ مولانا کا دعویٰ ہے کہ الیکشن 2024میں ان کی جماعت کا سیاسی مینڈیٹ صلب کیا گیا اور اس میں ’’ خفیہ ہاتھ‘‘ ملوث تھے۔ وہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری ملٹری آپریشنز اور سکیورٹی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے وہاں بدامنی بڑھ رہی ہے اور اس کا خمیازہ مقامی آبادی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پاکستانی سیاست میں اپوزیشن بالخصوص مذہبی، سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ پر دبا بڑھانے کے لئے اپنے مطالبات ( بشمول مدارس، انتخابی حلقے، یا حکومتی رعایتیں) کو تنقیدی بیانات کے ساتھ جوڑتی ہیں تاکہ حکومت اور مقتدرہ دونوں ان کی بات سننے پر مجبور ہوں۔ لہٰذا یہ کہنا بالکل غلط نہ ہو گا کہ مدارس کے بینک اکانٹس، فنڈنگ، اور رجسٹریشن ایکٹ مولانا فضل الرحمٰن کے سب سے بنیادی تحفظات اور مطالباتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ جب بھی ریاست کی طرف سے ان پر گرفت سخت ہوتی ہے یا کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوتے، تو ان کی طرف سے مقتدرہ اور حکومت کے خلاف سیاسی دبائو اور بیانیہ انتہائی سخت ہو جاتا ہے جو کہ اس مرتبہ تبصرے بازی کی وجہ سے کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button