Column

عدل ہو گا یا پھر گوشہ نشینی

عدل ہو گا یا پھر گوشہ نشینی
تحریر : صفدر علی حیدری
حکومت کوئی تخت نہیں، امانت ہے۔ اقتدار کوئی تاج نہیں، ذمہ داری ہے۔ منصب کوئی اعزاز نہیں، ایک ایسا قرض ہے جس کی ادائیگی انسان کو اپنی پوری زندگی پوری وقت صرف کر کے کرنا پڑتی ہے۔ حکمران اگر اقتدار کو اپنی ملکیت سمجھنے لگے تو رعایا اس کے لیے انسان نہیں رہتی ، اعداد و شمار بن جاتی ہے۔ عوام عوام نہیں رہتے، ووٹر بن جاتے ہیں۔ شہری شہری نہیں رہتے، ہجوم بن جاتے ہیں۔ پھر حکومت کا مقصد خدمت نہیں، اقتدار کا تحفظ رہ جاتا ہے۔ قانون انصاف کا وسیلہ نہیں رہتا، مخالفین کو دبانے کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ خزانہ قومی امانت نہیں رہتا، حکمرانوں اور ان کے حواریوں کی جاگیر بن جاتا ہے۔ اور عدالت حق کی محافظ نہیں رہتی، طاقتور کے اشارے کی منتظر ہو جاتی ہے۔ایسے ہر عہد میں حکیم اسلام حضرت مولا علیؓ کا نام ایک بے داغ آئینے کی طرح سامنے آتا ہے ، ایک ایسا آئینہ جس میں آج کا حکمران اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے ، بشرط یہ کہ اس میں دیکھنے کی ہمت ہو۔ مولا علیؓ کے سامنے لوگ خلافت کا معاملہ لے کر آئے تو انہوں نے اقتدار کے لیے بے تابی کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ انھیں یہ امانت نہ سونپی جائے ۔ اور پھر ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جو تاریخ بنی آدم کے ماتھے کا جھومر بن گیا: ’’ عدل ہو گا یا پھر گوشہ نشینی، اگر تمہیں عدل قبول نہیں تو پھر کسی اور کو تلاش کرو‘‘۔ اسی لیے حضرت علیؓ کے سیاسی تصور کو ایک جملے میں یوں سمجھا جا سکتا ہے: اگر حکومت کرنی ہے تو عدل کرو؛ اور اگر عدل نہیں کر سکتے تو ایک طرف ہو کر بیٹھ جائو،گوشہ نشینی اختیار کر لو۔
یہ جملہ شاید آج کے حکمرانوں کے لیے کسی منشور، انتخابی وعدے یا سیاسی نعرے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ کیوں کہ آج دنیا میں حکومتیں بدلتی ہیں، پارٹیاں بدلتی ہیں، نعرے بدلتے ہیں، جھنڈے بدلتے ہیں، مگر ایک سوال نہیں بدلتا: کیا عوام کو انصاف مل رہا ہے؟۔ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر کسی حکومت کی ترقی، منصوبوں، تقریروں، افتتاحوں اور دعوئوں کی حقیقت بہت محدود رہ جاتی ہے۔
قرآن مجید نے حکمرانی کے بنیادی اصول کو ایک ہی آیت میں بیان کر دیا: ’’ بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو‘‘۔
غور کیجیے، قرآن نے پہلے امانت کا ذکر کیا اور پھر عدل کا۔ اقتدار بھی امانت ہے۔ وزارت بھی امانت ہے۔ عہدہ بھی امانت ہے۔ پارلیمنٹ کی نشست بھی امانت ہے۔ اور عوام کا اعتماد بھی امانت ہے۔ جب کوئی شخص اقتدار حاصل کرتا ہے تو دراصل وہ ایک ایسی امانت اٹھاتا ہے جس کا حساب صرف عوام سے نہیں، اللہ سے بھی دینا ہے۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے: ’’ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حکمران لوگوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا‘‘۔
یہ حدیث حکمران کے منصب کی پوری حقیقت بیان کر دیتی ہے۔ حکمران رعایا کا مالک نہیں، نگہبان ہے۔ وہ عوام کا آقا نہیں، ذمہ دار ہے۔ وہ اقتدار کا مالک نہیں، امانت دار ہے۔ اور امانت دار سے ایک دن حساب لیا جاتا ہے۔
نیز فرمایا: ’’ سات لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔۔۔ ان میں ایک عادل حکمران ہے‘‘۔
ایک عادل حکمران صرف ایک نیکی نہیں کرتا، وہ لاکھوں لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں کمزور کو طاقتور سے خوف نہیں رہتا، غریب کو امیر سے انصاف کی امید رہتی ہے، اور شہری کو ریاست پر اعتماد رہتا ہے۔
کتاب ہدایت کہتی ہے: ’’ اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘۔
یہ آیت آج کے سیاسی ماحول کے لیے ایک مکمل آئینہ ہے۔ کتاب یہ نہیں کہتی کہ اپنے دوست کے ساتھ انصاف کرو اور دشمن کے ساتھ ظلم۔ وہ یہ نہیں کہتی کہ اپنے حامی کی بدعنوانی نظرانداز کرو اور مخالف کی غلطی کو قومی جرم بنا دو۔ دشمنی بھی تمہیں عدل سے نہ ہٹائے۔ یہ عدل کا وہ معیار ہے جس تک پہنچنا مشکل ہے، مگر یہی حقیقی عدل ہے۔ اپنے دوست کے ساتھ انصاف کرنا آسان ہے۔ اپنے دشمن کے ساتھ انصاف کرنا مشکل ہے۔ اپنے حامی کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا مشکل ہے۔ اپنے مخالف کو اس کا حق دینا مشکل ہے۔ لیکن ریاست کا اصل امتحان یہی ہے۔اگر حکومت صرف اپنے حامیوں کے لیے انصاف کرتی ہے تو وہ حکومت نہیں، گروہی انتظام ہے۔ اگر قانون صرف مخالفین کے لیے حرکت کرتا ہے تو وہ قانون نہیں، سیاسی ہتھیار ہے۔ اور اگر عدالتیں طاقتور کے سامنے خاموش اور کمزور کے سامنے سرگرم ہوں تو پھر ریاست کا سب سے بنیادی ستون کمزور ہو چکا ہے۔
’’ ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے‘‘۔
ظلم صرف یہ نہیں کہ کسی کو مار دیا جائے۔ ظلم یہ بھی ہے کہ کسی بے گناہ کو برسوں مقدمے میں الجھا دیا جائے۔ظلم یہ بھی ہے کہ کسی مستحق کو اس کا حق نہ دیا جائے۔ ظلم یہ بھی ہے کہ کسی طاقتور کا جرم صرف اس لیے معاف کر دیا جائے کہ وہ طاقتور ہے۔ ظلم یہ بھی ہے کہ کسی کمزور کو صرف اس لیے سزا ملے کہ اس کے پاس سفارش نہیں۔ظلم ایک دستخط بھی ہو سکتا ہے۔ ایک حکم نامہ بھی۔ ایک تبادلہ بھی۔ ایک تقرری بھی۔ ایک خاموشی بھی۔ اور کبھی کبھی ظلم یہ بھی ہوتا ہے کہ حکمران ظلم دیکھتا رہے اور اسے روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود خاموش رہے۔ یہاں عدالت کا کردار شروع ہوتا ہے۔ ایک معاشرہ اس وقت تباہ نہیں ہوتا جب اس میں جرم ہو۔ جرم ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ معاشرہ اس وقت تباہ ہوتا ہے جب جرم کے بعد انصاف نہ ہو۔ قتل ہو جائے، مگر قاتل پکڑا جائے، تو معاشرہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوتا۔ چوری ہو جائے، مگر چور کو قانون کے مطابق سزا مل جائے، تو معاشرہ قائم رہتا ہے۔بدعنوانی ہو جائے، مگر احتساب ہو جائے، تو اصلاح کا امکان باقی رہتا ہے۔ لیکن جب جرم ہو اور مجرم طاقتور ہونے کی وجہ سے بچ جائے تو صرف ایک جرم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد ہزاروں لوگوں کے ذہن میں ایک پیغام جاتا ہے: قانون کمزور ہے ۔ پھر دوسرا شخص جرم کرتا ہے۔ پھر تیسرا۔ پھر چوتھا۔ اور آخرکار معاشرہ قانون کے بجائے طاقت کے اصول پر چلنے لگتا ہے۔ جس معاشرے میں عدالتیں زندہ ہوں، وہاں امید زندہ رہتی ہے۔ جس معاشرے میں عدالتیں مر جائیں، وہاں انتقام جنم لیتا ہے۔ جب انسان کو عدالت سے انصاف نہیں ملتا تو وہ خود انصاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہیں سے بدلہ، تشدد، گروہی دشمنی اور خون ریزی شروع ہوتی ہے۔ اس لیے عدالت صرف ایک عمارت نہیں۔ عدالت معاشرے کی اجتماعی امید ہے۔ عدالت یہ اعلان ہے کہ: تم اکیلے نہیں ہو۔ اگر تم پر ظلم ہوا ہے تو ریاست تمہارے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر تم طاقتور کے خلاف ہو تو بھی قانون تمہیں سن سکتا ہے۔ اگر تمہارے پاس دولت نہیں تو بھی تمہارا حق ہے۔
اگر تمہارے پاس سفارش نہیں تو بھی تم انصاف کے مستحق ہو۔ اسی لیے عدل صرف عدالت کا مسئلہ نہیں۔ عدل حکومت کا بھی مسئلہ ہے۔ انتظامیہ کا بھی مسئلہ ہے۔ پارلیمنٹ کا بھی مسئلہ ہے۔ صحافت کا بھی مسئلہ ہے۔ اور ہر شہری کا بھی مسئلہ ہے۔
حضرت مولا علیؓ کا ایک مشہور قول ہے: ’’ ملک کفر کے ساتھ باقی رہ سکتا ہے، ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتا‘‘۔
یہ قول ایک عالم گیر سیاسی حقیقت بیان کرتا ہے۔ ریاست کچھ عرصہ طاقت سے چل سکتی ہے، ہمیشہ نہیں۔ حکومت کچھ عرصہ خوف سے چل سکتی ہے، ہمیشہ نہیں۔ لوگ کچھ عرصہ خاموش کرائے جا سکتے ہیں، ہمیشہ نہیں۔ مگر عدل کے بغیر ریاست کے اندر سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کے نزدیک حکمران مالک نہیں، امین ہے۔ عوام غلام نہیں، حقوق رکھنے والے انسان ہیں۔ خزانہ حکمران کی ذاتی ملکیت نہیں، عوام کی امانت ہے۔ حضرت علیؓ کے بھائی عقیلؓ کے واقعے میں یہی اصول نظر آتا ہے۔ جب انہوں نے بیت المال سے زیادہ حصہ طلب کیا تو حضرت علیؓ نے انہیں سمجھایا کہ اگر دنیا کی آگ سے تم گھبراتے ہو تو میں آخرت کی آگ سے کیسے بے خوف ہو جائوں؟۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکمران اور عادل حکمران میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ عام حکمران اپنے لوگوں کو بچاتا ہے۔ عادل حکمران حق کو بچاتا ہے۔ عام حکمران اپنے مخالف کی غلطی دیکھتا ہے۔ عادل حکمران اپنے دوست کی غلطی بھی دیکھتا ہے۔عام حکمران اقتدار بچاتا ہے۔ عادل حکمران انصاف بچاتا ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول بھی حکمران کی جواب دہی کا ایک مکمل تصور پیش کرتا ہے: ’’ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو مجھے خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عمر سے اس کے بارے میں سوال کرے گا‘‘۔
ایک حکمران سے صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس نے کتنے منصوبے بنائے۔ اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ اس کے دور میں کتنے لوگ بھوکے رہے۔ کتنے مظلوم انصاف کے لیے ترستے رہے۔ کتنے اہل لوگ سفارش نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ کتنے طاقتور قانون سے بچ گئے۔ اور کتنے کمزور قانون کے ہاتھوں کچلے گئے۔ حکمران کے لیے سب سے بڑا امتحان اس کے مخالف نہیں، اس کے اپنے لوگ ہوتے ہیں۔ مخالف کے خلاف کارروائی آسان ہے۔ اپنے حامی کے خلاف کارروائی مشکل ہے۔ مخالف کی بدعنوانی پکڑنا آسان ہے۔ اپنے ساتھی کی بدعنوانی پکڑنا مشکل ہے۔ لیکن عدل کا مطلب ہی یہی ہے کہ حق کو تعلق سے بلند رکھا جائے۔ اگر قانون صرف مخالفین کے لیے ہو تو وہ قانون نہیں، انتقام ہے۔ اگر احتساب صرف دشمنوں کا ہو تو وہ احتساب نہیں، سیاسی ہتھیار ہے۔
مولا علیؓ کے بقول : ’’ عدل ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے‘‘۔
یہی عدل کا اصل مفہوم ہے۔ نااہل کو اہل کی جگہ نہ دینا۔ ظالم کو مظلوم کی جگہ نہ کھڑا کرنا۔ مجرم کو بے گناہ نہ بنانا۔ بے گناہ کو مجرم نہ بنانا۔ اور اقتدار کو ذاتی مفاد کی جگہ قومی امانت سمجھنا۔ اقتدار کا اصل مطلب یہ نہیں کہ لوگ آپ کے سامنے جھکیں۔ اقتدار کا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ کمزور کے سامنے جھک جائیں۔ اقتدار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے مخالف خاموش ہو جائیں۔ اقتدار کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دور میں مظلوم بول سکے۔ اقتدار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے خاندان کے افراد امیر ہو جائیں۔ اقتدار کا مطلب یہ ہے کہ عوام کے بچے بھوکے نہ سوئیں۔ اقتدار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے نام کے نعرے لگیں۔ اقتدار کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد بھی لوگ آپ کو دعائوں میں یاد کریں۔ آخرکار ہر حکمران نے اقتدار چھوڑ دینا ہے۔ ہر تخت خالی ہونا ہے۔ ہر منصب ختم ہونا ہے۔ پھر انسان کے پاس کیا بچے گا؟ نہ محافظ۔ نہ پروٹوکول۔ نہ عہدہ۔ نہ کرسی۔ نہ سرکاری گاڑی۔ نہ محل۔ صرف اعمال۔ اور ان اعمال میں سب سے بڑا سوال یہی ہوگا: کیا تم نے عدل کیا؟۔
دنیا کے ہر حکمران کو ایک دن اقتدار چھوڑنا ہے۔ ہر تخت خالی ہونا ہے۔ ہر منصب ختم ہونا ہے۔ پھر انسان کے پاس صرف اس کے اعمال رہ جائیں گے۔ اور تاریخ بھی ایک دن ہر حکمران سے یہی سوال کرے گی: تم نے حکومت کی تھی یا عدل کیا تھا؟۔
حضرت علیؓ کا پیغام آج کے ہر حکمران کے لیے کافی ہے: اگر حکومت کرنی ہے تو عدل کرو۔ اگر عدل نہیں کر سکتے تو حکومت مت کرو۔ کیونکہ ظلم کے سہارے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے، محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ ریاست طاقت سے کچھ عرصہ چل سکتی ہے، عدل کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ اور تاریخ کا آخری فیصلہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے: جس نے عدل کیا، وہ اقتدار کے بعد بھی زندہ رہا، جس نے ظلم کیا، وہ اقتدار کے باوجود مر گیا۔
یا عدل کرو۔۔۔ یا اقتدار چھوڑ دو۔
حکومت تمہاری خواہش نہیں، عوام کی امانت ہے۔ اور امانت میں خیانت کا انجام دنیا بھی دیکھتی ہے اور تاریخ بھی۔ کیوں کہ عدل صرف حکمران کا فرض نہیں، عدل انسان ہونے کی پہلی شرط ہے۔
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے
صفدر علی حیدری

جواب دیں

Back to top button