Column

یمن، سعودی عرب امن کی تلاش یا جنگ کا تسلسل

یمن، سعودی عرب امن کی تلاش یا جنگ کا تسلسل
تحریر: امتیاز یٰسین
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان حالیہ عسکری کشیدگی محض دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تنازع نہیں، بلکہ یہ اس وسیع جغرافیائی سیاسی شطرنج کا حصہ ہے جس کہ ہر چال پورے خطے بلکہ عالمی امن و معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے یمن کے دارالحکومت صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے فضائی حملہ جواب میں سعودی عرب کے جنوبی شہر میں واقع ابہا انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرونز فائر اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہیںکہ اگر حالات کو فوری طور پر سفارت کاری کے ذریعے قابو نہ کیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کئے جائیں گے۔ اس ہولناک کشیدگی سے گزشتہ چار سالوں سے فریقین کے درمیان جو ایک غیر رسمی امن قائم تھا وہ ٹوٹ چکا ہے۔ یمن گزشتہ کئی برسوں سے انسانی المیوں کی علامت بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کھبی تہذیبوں کی خوشبو بستی تھی۔ آج وہاں بھوک، بیماری، بے گھری اور خوف نے ڈیرے جما رکھے ہیں۔ یمنی ریال اپنی قدر کھو چکا، سڑکین بندرگاہیں ور دیگر بنیادی ڈھانچے جنگ میں بمباری کی نظر ہو چکے ۔ معاشی صحت کا جی ڈی پی(gross domestic product)پچاس فیصد کم ہونے سے اسّی فیصد افراد خطِ غربت سے نیچے گر گئے۔ لاکھوں انسان امداد کے منتظر ہیں، ہزاروں خاندان بکھر چکے ہیں اور معصوم بچوں کا مستقبل جنگ کی دھول میں گم ہو رہا ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں حکمتِ عملی پر بحث ہوتی ہے، مگر ملبے تلے انسانوں کی سسکیاں اکثر سنائی نہیں دیتیں۔
سعودی عرب اپنی قومی سلامتی، سرحدی استحکام اور اقتصادی وعن کے تحفظ کو اپنی اولّین ترجیح قرار دیتا ہے جبکہ حوثی تحریک اپنے سیاسی اور عسکری وجود کو برقرار رکھنے کے لئے سرگرم ہے۔ اس تنازع کے پس منظر میں ایران خلیجی سیاست، بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی آبی گزر گاہ، باب المندب اور عالمی طاقتوں کے مفادات بھی اسی طرح گھتے ہوئے ہیں کہ حقیقت اور مفاد کی حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی جنگ اب صرف یمن کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا ایک اہم ( پراکسی تنازع) میدان بن چکی ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب صرف آبی راستے نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ اگر یہاں عدمِ استحکام بڑھتا ہے تو تیل کی رسد، تجارتی جہاز رانی، عالمی منڈیاں اور اقتصادی استحکام سب متاثر ہو سکتے ہیں۔ دنیا شاید اس لئے اس ماضی کی جنگ اور موجودہ جنگ کے گھنے ہوتے بادل کو دور سے دیکھ رہی ہے مگر اس کے اثرات سے کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید سبق ہے کہ جنگیں کھبی مستقل حل نہیں ہوتیں۔ وہ شہر جیت سکتیں ہیں دل نہیں، سرحدیں بدل سکتیں ہیں ذہن نہیں اور اقتدار دلا سکتیں ہیں امن نہیں۔ امن اس وقت جنم لیتا ہے جب انصاف، مکالمہ، برداشت اور سیاسی بصیرت کو طاقت اور اسلحہ پر فوقیت دی جائے۔ آج اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور با اثر مسلم ممالک پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خاموش تماشائی بننے کی بجائے فعال سفارت کردار ادا کریں۔ اگر مسلم دنیا اپنے ہی زخموں پر مرہم رکھنے میں ناکام رہی تو بیرونی قوتیں ان زخموں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتی رہیں گی۔ یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں کا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو مزید بارود نہیں بصیرت چاہیے۔ مزید محاذ نہیں مذاکرات درکار ہیں مزید نفرت نہیں اعتماد کی ضرورت ہے۔ اگر آج بھی عقل و حکمت کو آواز نہ دی گئی تو آنے والی نسلیں ہمیں اس سوال کے ساتھ یاد کریں گی کہ جب آگ پھیل رہی تھی تو امن کی شمع جلانے والا کون تھا؟۔ تاریخ کی عدالت میں طاقت نہیں فیصلے بولتے ہیں اور وہ قومیں ہمیشہ سرخرو ٹھہرتی ہیں جو جنگ کی تاریکی میں بھی امن کی روشنی تلاش کرنا جانتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button