Column

ادبِ عالیہ اور پاپولر فکشن

ادبِ عالیہ اور پاپولر فکشن
شہرِ خواب۔۔۔
صفدر علی حیدری
’’ جو تحریر سمجھ میں آ جائے، وہ پاپولر فکشن ہے، اور جو کسی کی سمجھ میں نہ آئے، وہ ادبِ عالیہ ہے!‘‘۔
یہ جملہ شاید آپ نے بھی کئی بار سنا ہو۔ ایک ظریف نے اس پر مزید چٹکی لی کہ: ’’ ادبِ عالیہ کی خدمت کرنے والوں کو چاہیے کہ ایسی تحریر لکھیں جو خود انہیں بھی پوری طرح سمجھ میں نہ آئے، ورنہ لوگ اسے پاپولر فکشن سمجھ بیٹھیں گے!‘‘۔
یقیناً یہ ایک لطیفہ ہے، حقیقت نہیں۔ مگر ہر اچھے لطیفے کی طرح اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سوال پوشیدہ ہے۔ کیا واقعی ادب کا معیار صرف اس کی پیچیدگی ہے؟ کیا جو تحریر لاکھوں افراد شوق سے پڑھیں، وہ لازماً کم درجے کی ہوتی ہے؟ اور کیا صرف وہی ادب عظیم کہلانے کا حق دار ہے جسے چند مخصوص لوگ ہی سمجھ سکیں؟
بدقسمتی سے ہمارے ادبی حلقوں میں اس بحث نے غیر ضروری شدت اختیار کر لی ہے۔ ایک گروہ پاپولر فکشن کو محض وقتی تفریح قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا ادبِ عالیہ کو مشکل الفاظ، الجھے ہوئے استعاروں اور ناقابلِ فہم اسلوب کا نام سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں تصورات ادھورے ہیں۔
ایک دلچسپ واقعہ سنیے۔ایک پروفیسر مختلف طریقہ علاج پر لیکچر دے رہے تھے۔ ایک طالب علم نے سوال کیا: ’’ سر! بہترین علاج کون سا ہے؟ ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، یونانی یا آیوروید؟‘‘َ پروفیسر مسکرائے اور بولے: ’’ بیٹا! جس پر تمہیں اعتماد ہو، وہی اختیار کر لو، آخرکار سب کا آخری پتہ ایک ہی ہے‘‘۔
کلاس میں قہقہہ گونج اٹھا، مگر اس مختصر جواب میں ایک گہرا فلسفہ پوشیدہ تھا۔ راستے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر اگر مقصد ایک ہو تو راستوں پر لڑنا دانش مندی نہیں۔
ادب کی دنیا بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہاں بھی پاپولر فکشن اور ادبِ عالیہ کو دو مخالف دھاروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: انسان کے تجربے، احساس اور شعور کو وسعت دینا۔
قدیم یونان میں افلاطون ادب کو اخلاق کے پیمانے پر پرکھتے تھے۔ ان کے نزدیک بہترین ادب وہ تھا جو معاشرے کو بہتر بنائے۔ ان کے شاگرد ارسطو نے اس سے مختلف رائے پیش کی۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب بوطیقا میں بتایا کہ ادب کی اپنی جمالیات، اپنی ساخت اور اپنا فنی نظام ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ نے نہ استاد کو رد کیا اور نہ شاگرد کو؛ دونوں کے خیالات ادب کے سرمائے کا حصہ بن گئے۔
رومی شاعر ہوراس نے اس پوری بحث کو صرف چند الفاظ میں سمیٹ دیا: ’’ ادب کا کام لطف دینا بھی ہے اور فائدہ پہنچانا بھی‘‘۔
شاید ادب کی اس سے بہتر تعریف ممکن نہیں۔ اگر ادب صرف تفریح ہے تو وہ ادھورا ہے، اور اگر صرف فلسفہ ہے تو بھی ادھورا ہے۔ مکمل ادب وہ ہے جو دل کو بھی چھوئے اور ذہن کو بھی روشن کرے۔
فرانسس بیکن نے کہا تھا: ’’ کچھ کتابیں چکھنے کے لیے ہوتی ہیں، کچھ نگلنے کے لیے اور چند ایسی ہوتی ہیں جنہیں چبا چبا کر ہضم کرنا پڑتا ہے‘‘۔
یہ قول ہمیں برداشت کا سبق دیتا ہے۔ ہر کتاب سے ایک ہی مقصد وابستہ کرنا مناسب نہیں۔ ہر تحریر کا اپنا مزاج، اپنا قاری اور اپنا مقام ہوتا ہے۔
روسی ادیب لیو ٹالسٹائی کے نزدیک ادب ایک انسان کے احساسات کا دوسرے انسان تک مخلصانہ انتقال ہے۔ اگر یہ تعریف درست ہے تو ادب کی اصل کامیابی نہ اس کی پیچیدگی میں ہے اور نہ اس کی مقبولیت میں، بلکہ اس کی انسان دوستی میں ہے۔
اردو کے ممتاز نقاد محمد حسن عسکری ادب کو تہذیبی شعور کی حفاظت قرار دیتے ہیں، جبکہ آل احمد سرور کے نزدیک ادب زندگی کی تنقید ہے۔ دونوں آرا مختلف ہونے کے باوجود ایک حقیقت پر متفق ہیں کہ ادب انسان سے جدا کوئی شے نہیں۔
تاریخِ ادب گواہ ہے کہ وقت اکثر ہمارے ادبی فیصلوں کو بدل دیتا ہے۔ چارلس ڈکنز اپنے زمانے میں عوامی ناول نگار سمجھے جاتے تھے، مگر آج وہ عالمی ادب کے کلاسیکی مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ شیکسپیئر کے ڈرامے عام عوام کے لیے تھیٹروں میں پیش کیے جاتے تھے، مگر آج دنیا کی بڑی جامعات ان پر تحقیق کرتی ہیں۔ اردو میں ابنِ صفی کو ایک زمانے تک صرف جاسوسی ناول نگار سمجھا گیا، لیکن آج ان کی زبان، اسلوب، مکالمہ نگاری اور بیانیہ تحقیقی مطالعے کا حصہ ہیں۔
اس کے برعکس کئی ایسی ادبی تحریکیں بھی گزری ہیں جنہیں اپنے دور میں ادب کا آخری معیار سمجھا جاتا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ صرف ادبی تاریخ کے ایک باب تک محدود ہو گئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ادب کا آخری فیصلہ نہ کوئی نقاد کرتا ہے، نہ کوئی انجمن اور نہ کوئی انعام؛ ادب کا سب سے بڑا منصف وقت ہوتا ہے۔
پاپولر فکشن کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ وہ قاری پیدا کرتا ہے۔ ایک نوجوان جو کسی دلچسپ ناول کے ذریعے مطالعے کی دنیا میں داخل ہوتا ہے، وہی آگے چل کر فلسفہ، تاریخ، شاعری اور ادبِ عالیہ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اگر مطالعے کا پہلا دروازہ ہی بند کر دیا جائے تو اندر آنے والا کون ہوگا؟۔
ادبِ عالیہ کا کردار اس سے مختلف مگر کم اہم نہیں۔ یہی وہ ادب ہے جو انسانی تجربے کی گہرائیوں میں اترتا ہے، تہذیب کی یادداشت محفوظ رکھتا ہے، نئے سوال پیدا کرتا ہے اور نسلوں تک زندہ رہتا ہے۔
اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہم ان دونوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنا دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص صرف پاپولر فکشن پڑھتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ سطحی ہو، اور اگر کوئی ادبِ عالیہ پڑھتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ دوسروں سے زیادہ باشعور ہو۔ حقیقی مطالعہ انسان میں انکسار پیدا کرتا ہے، تکبر نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آسان زبان کمزور زبان نہیں ہوتی۔ دنیا کے بڑے ادیبوں نے ثابت کیا ہے کہ گہری بات سادہ الفاظ میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ اصل عظمت مشکل لفظوں میں نہیں بلکہ گہرے خیال میں ہوتی ہی۔ قاری کو الجھا دینا فن نہیں، بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرنا فن ہے۔
ہمارے ادبی ماحول کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ برداشت ہے۔ اختلافِ رائے ادب کی جان ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا ادب کی روح کے خلاف ہے۔ ہمیں ادیبوں کو خانوں میں تقسیم کرنے کے بجائے ان کی تخلیقات کو پڑھنا چاہیے۔ ایک اچھی کہانی اگر عام آدمی کے دل تک پہنچتی ہے تو یہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی کامیابی ہے، اور ایک گہری تخلیق اگر دہائیوں بعد بھی نئے معنی پیدا کرتی ہے تو یہی اس کی عظمت ہے۔آخر میں صرف اتنی سی بات۔
اگر پاپولر فکشن نہ ہوتا تو لاکھوں لوگ کتاب تک نہ پہنچتے، اور اگر ادبِ عالیہ نہ ہوتا تو کتاب انسان کو اپنے باطن کی گہرائی تک نہ لے جا سکتی۔ ایک مطالعے کا شوق پیدا کرتا ہے، دوسرا مطالعے کا شعور۔ ایک ہاتھ پکڑ کر دروازے تک لاتا ہے، دوسرا اندر کی دنیا دکھاتا ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون بڑا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کون انسان کو زیادہ انسان بناتا ہے۔ اگر کوئی تحریر دل میں روشنی، ذہن میں سوال، کردار میں وسعت اور زندگی میں امید پیدا کرتی ہے تو وہ ادب ہے، خواہ اسے پاپولر فکشن کہا جائے یا ادبِ عالیہ۔
ادب آخرکار کسی جماعت، نظریے یا حلقے کا نام نہیں، بلکہ انسان کے تجربے، احساس اور شعور کا دوسرا نام ہے۔ اس کا سفر ہمیشہ ایک ہی رہا ہے، صرف راستے مختلف رہے ہیں۔ جب منزل ایک ہو تو راستوں کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ہم سفر سمجھنا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button