ColumnZia Ul Haq Sarhadi

ہمارے وزیروں، مشیروں کی فوج ظفر موج

ہمارے وزیروں، مشیروں کی فوج ظفر موج
ضیاء الحق سرحدی
اگر کسی ملک کی کامیابی و ترقی کیلئے اسے وزیروں کی ایک بہت بڑی فوج درکار ہوتی تو شاید آج دنیا کے 25ترقی یافتہ ممالک جن میں اوسط وزیروں کی تعداد 17ہے اور فی کس آمدنی 30ہزار ڈالر ہے دنیا کے ناکام ترین ممالک ہوتے۔ اس وقت امریکہ، کینیڈا ، سویڈن جبکہ اسلامی ممالک جس میں سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں ان ممالک کی کابینہ کی تعداد کم سے کم 12اور زیادہ سے زیادہ 22ہے اورپوری دُنیا کی نگاہ کا مرکز ہیں جبکہ ہر میدان میں کامیابی و ترقی یافتہ ممالک ہیں۔کسی بھی ملک کی ترقی کا راز ایک بہت بڑی کابینہ نہیں ہوتی اور ناہی وزیروںکی فوج ظفر موج کی کابینہ کسی ملک کی قسمت بدل سکتی ہے ۔اگر ملک کی قسمت بدلنی ہے، اسے ایک کامیاب ریاست بنانا ہے اور ایک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو اس کے لئے کارکردگی ، محنت، قابلیت، سوچ، کام ،منصوبہ بندی اور فرض شناسی و ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستانی حکام اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ مشکل ترین مذاکرات کر رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی جانب سے اخراجات کم کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم خود کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط نا قابل برداشت ہیں تو ایسے میں کا بینہ کی تعداد میں یہ اندھا دھند اضافہ کس مجبوری کے تحت کیا گیا ہے؟ حکومت کو یادرکھنا چاہیے کہ عوام کی حالت اور ملکی معیشت پر بوجھ لادنے سے صرف عوام ہی نہیں ان کی اپنی سیاست اور مقبولیت بھی تباہی سے دو چار ہے۔ عوام کے غم میں ہلکاںموجودہ حکومت میں وفاقی وزراء و مشیروں کی مجموعی تعدادکو کم کرنا چاہیے ۔اب ہماراقرضوں میں ڈوبتا ہوا ملک ناصرف وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں، مراعات اور شاہ خرچیوں کا بوجھ برداشت کررہا ہے بلکہ ان کے معاونین کی فوج ظفر موج، انہیں ملنے والی تنخواہیں اور دیگر مراعات کے علاوہ نئی نئی گاڑیوں کا سیلاب رواں اور ان کی بدعنوانیاں بھی برداشت کرنے پر مجبور ہوگا۔جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بطور وزیر اعظم 52رکنی کابینہ چھوڑی تھی، وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت کابینہ میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی تاہم اس کے بعد بھی کابینہ ارکان میں اضافے کا رجحان برقرار رہا۔ کابینہ ڈویعن کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر وفاقی وزیر اور مشیر کو ایک ماہ میں ہوائی جہاز کے 45ٹکٹ دئیے گئے ، ٹیلیفون اور موبائل فون کے بلز کی مد میں ہر وزیر کو ایک لاکھ روپے کی گرانٹ دی گئی جبکہ اس کے علاوہ پلاٹ اور بنگلوں سے الگ نوازا گیا۔ بجلی کے بحران میں پھنسے ہوئے ملک کی اس کابینہ کے ارکان کو تین کروڑ 84لاکھ مفت یونٹس کی ادائیگی کی گئی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں مفت رہائش پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق جمہوری حکومت کے بیشتر وزراء اور مشیروں نے ہوائی جہاز کے ٹکٹس زیادہ تر نجی مصروفیات کیلئے استعمال کئے۔ واضح رہے کہ 25کروڑ عوام کے ملک پاکستان کیلئے لا تعداد وفاقی وزراء اور مشیر ہیں جبکہ ایک ارب 27کروڑ نفوس کی آبادی پر مشتمل بھارتی کابینہ 32وزراء پر مشتمل ہے، ایک ارب 35کروڑ کی آبادی والے ملک چین کی کابینہ 21وزراء پر مشتمل ہے۔ امریکا میں 14جبکہ برطانیہ میں 12وزراء اور مشیر ہیں۔ ایک طرف ہم کشکول ہاتھ میں اٹھائے قرضوں پر قرضوں لیتے جا رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی غلامی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف شاہ خرچیوں کا بازار گرم ہے۔ ایک محتاط انداز کے مطابق ایک وزیر کا ماہانہ خرچہ2 کروڑ روپے سے3کروڑ روپے ماہانہ ہے۔ اس کے علاوہ سینٹ اور قومی اسمبلی کے تقریباً 75قائمہ کمیٹیاں اور ایوان بالا اور ایوان زیریں کے ممبران کی تعداد 442ہے۔ اکائونٹس اور آڈٹ کے ایک اعلیٰ اہل کار کے مطابق سینٹ اور قومی اسمبلی کے ایک ممبر کا ماہانہ خرچہ 4سے 5لاکھ ہے جبکہ سینٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تنخواہ جو کہ ماہانہ کروڑوں میں بنتی ہے اس کے علاوہ ہے۔ علاوہ ازیں حکومتی سطح پر کچھ ایسے عہدے ہیں جن کو وزیر مملکت کا عہدہ دیا گیا ۔جب ہم دوسری جانب دنیا میں دیکھتے ہیں تو ہم تک پہنچنے والی اطلاعات کے مطابق ایران کے سابق صدر احمدی نعاد صدر منتخب ہوجانے کے بعد بھی 126مربع گز کے اسی گھر میں رہتے تھے جو ان کے والد نے ان کے حصے کے طور پر انہیں چند برس قبل دیا تھا۔ وہ آج بھی 1976ء کے ماڈل کی کار استعمال کرتے ہیں، جس میں ACنہیں ہے۔ انہوں نے ایوانِ صدر کے قیمتی قالین قریبی مسجد کو عطیہ کر دئیے اور معمولی فرنیچر سے سجے عام سے کمرے میں غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہ نماز پنجگانہ کی ادائیگی کیلئے قریبی مسجد میں محافظوں کے بغیر ہی جاتے ہیں اور پچھلی صف میں کھڑے ہونے میں عار محسوس نہیں کرتے۔اور اس سے سپر پاور امریکہ بھی لرزتا ہے اور کچھ کہنے سے پہلے دس مرتبہ سوچتا ہے ۔دنیا کے کئی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں صرف چند دہائیوں کے دوران اپنے سیاسی عزم و بصیرت کی بنیاد پر ترقی کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ ملائیشیا ہم سے ٹھیک دس برس بعد آزاد ہوا مگر آج ہم سے بہت آگے ہے۔ ہندوستان جہاں عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 1990ء میں غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والوں کی تعداد 40فیصد سے زائد تھی محض20برس کی کوششوں سے یہ تناسب اب 19فیصد رہ گیا ہے۔ انڈونیشیا جوکئی دہائیوں تک بد ترین آمریت کے شکنجے میں جکڑا رہا جمہوریت کی بحالی کے بعد صرف دس برس کے اندر ایک خود کفیل ملک بن چکا ہے۔ تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش تیزی کے ساتھ اپنی معیشتیں مستحکم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر ہم تمام تر وسائل کے باوجود بھکاری ہیں؟ اتنی بڑی کابینہ کے حامل ملک کی کارکردگی یہ ہے کہ کرپشن میں اونچے سے اونچے درجے پر جا رہا ہے جبکہ ملک میں شرح خواندگی 48فیصد ہے جبکہ مسلسل یہ رپورٹس آرہی ہیں کہ افراط زر اور تجارت میں عدم توازن کی وجہ سے تجارتی خسارہ کھربوں میں ہے اور روز بروزتجارتی خساروں کا اندازہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔دوسری طرف اس بھوک و افلاس سے مرتی عوام کے شاہانہ اخراجات کے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں دیکھیں تو انسان کو حیرت ہوتی ہے۔ملکی معیشت غیر ملکی قرضوں کے بعد اب اندرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ زندہ اقوام کی نشانی ہے کہ وہ ہمیشہ بحرانوں سے کامیابی کے ساتھ نکل آتی ہیں پاکستانیوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات سے لے کر اپنی 78سالہ زندگی میں بے پناہ بحرانوں کا مقابلہ کر کے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک زندہ قوم ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت نصیب آئے اور ملک کے لئے کچھ سوچیں ۔

جواب دیں

Back to top button