Column

پٹرول بم اور عوام کا سکڑتا ہوا دامنِ حیات

پٹرول بم اور عوام کا سکڑتا ہوا دامنِ حیات
حروف بے زباں
مرزا رضوان
پاکستان کی فضائوں میں آج کل ایک عجیب سی ویرانی اور خوف کا بسیرا ہے۔ یہ خوف کسی بیرونی دشمن کا نہیں، بلکہ اس روزمرہ کی جنگ کا ہے جو ہر پاکستانی اپنے ہی ملک کے اندر لڑ رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافے نے، جس میں پٹرول 13روپے اور ڈیزل 14روپے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا ہے، اس زخم پر نمک پاشی کی ہے، جو پہلے ہی ناسور بن چکا تھا۔ یہ محض ایندھن کی قیمت میں اضافہ نہیں، بلکہ ایک عام پاکستانی کے گھر کا بجٹ، اس کے بچوں کے سکول کے بستے، اس کی میز پر موجود روٹی کے ٹکڑے، اور سب سے بڑھ کر اس کی عزتِ نفس پر ایک کاری ضرب ہے،پاکستان میں مہنگائی کا ایک ایسا مکروہ نظام قائم ہو چکا ہے جہاں قیمتوں کا بڑھنا تو ایک سائنسی حقیقت کی طرح طے شدہ ہے، لیکن ان کا کم ہونا صرف ایک سراب یا خواب معلوم ہوتا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں بڑھتے ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ سبزی منڈی ہو یا کریانہ سٹور، ہر جگہ ایک ہی شور ہے: ’’ پٹرول مہنگا ہو گیا ہے‘‘۔ یہ جملہ اب ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس سے ہر دکاندار، ہر ٹرانسپورٹر اور ہر منافع خور عام آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ قیمتوں کا یہ ارتقاء یکطرفہ ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آتی ہیں، تو پاکستان میں ’’ ایڈجسٹمنٹ”‘‘کے نام پر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے الٹا ٹیکس لگا دئیے جاتے ہیں، اور جب قیمتیں بڑھتی ہیں، تو سارا بوجھ فوراً غریب کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ عوام کی اجتماعی خودکشی کا منظرنامہ ہے۔ ایک طرف بجلی کے بلوں نے گھروں کے چراغ گل کر دئیے ہیں۔ دو سو یونٹ سے زائد استعمال پر جو بجلی کے بل آ رہے ہیں، وہ اب بجلی کے بل نہیں بلکہ عوام کے لیے موت کے پروانے ہیں۔ لوگ اپنا زیور بیچ رہے ہیں، گھر کا سامان فروخت کر رہے ہیں تاکہ اپنے گھر کی بتی روشن رکھ سکیں، اور دوسری طرف حکمران ہیں جو ایوانوں میں بیٹھ کر کفایت شعاری کے جھوٹے لیکچر دے رہے ہیں۔ کیا یہ وہ ملک ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں؟ جہاں ایک انسان کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا ایک جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔
ہمیں وہ انتخابی جلسے اب بھی یاد ہیں، وہ تڑپتے ہوئے جذبات اور وہ گرج دار آوازیں جن میں یہ دعوے کیے گئے تھے کہ ’’ ہم اقتدار میں آ کر غریب کو 200سے 300یونٹ بجلی مفت دیں گے‘‘۔ کہاں گئے وہ وعدے؟، کہاں گئے وہ منشور؟، کیا وہ عوام کو بیوقوف بنانے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا؟۔
آج جب وہی حکمران اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہیں، تو انہیں غریب کی بلکتی ہوئی آواز کیوں سنائی نہیں دیتی؟۔ آج وہی عوام ان حکمرانوں کی طرف امید بھری نظروں سے نہیں، بلکہ نفرت اور مایوسی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ مایوسی کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک پورے معاشرے کی ہے جو اب یہ سمجھ چکا ہے کہ اسے جینے کا حق ہی نہیں دیا جا رہا۔ ایک مزدور، جس کی دیہاڑی پانچ سے سات سو روپے ہو، وہ پٹرول کے اس طوفان میں اپنے بچوں کو دو وقت کا کھانا کیسے کھلائے گا؟ کیا اس کے لیے بجلی کے بلوں کا بوجھ اٹھانا ممکن ہے؟ کیا اس کی اتنی سکت ہے کہ وہ مہنگائی کی اس چکی میں پس کر بھی مسکرا سکے؟ نہیں! اس کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے۔ وہ اب صرف زندہ نہیں ہے، بلکہ آہستہ آہستہ مر رہا ہے۔ اس کے گھر کی دیواریں، اس کے بچوں کی خاموشیاں اور اس کی بیوی کی بے بسی، یہ سب اس حکومتی پالیسی کی گواہی دے رہے ہیں جس کا مقصد صرف اور صرف عوام کا خون نچوڑنا ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف سفر تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، یہ ہسپتالوں میں ایمبولینس کے کرائے بڑھاتا ہے، یہ مریضوں کے لیے زندگی کی راہ مشکل بناتا ہے۔ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف ٹیکس جمع کرنا ہے؟ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف آئی ایم ایف (IMF)کی شرائط کو پورا کرنا ہے؟ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ، انصاف اور جینے کی بنیادی سہولیات نہیں دے سکتی، تو پھر ایسی حکمرانی کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟۔
حکمران طبقے کی شاہانہ زندگی اور ان کے پروٹوکول کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی اور ملک کے باشندے ہیں۔ ان کے لیے پٹرول کی قیمت میں دس یا بیس روپے کا اضافہ کوئی معنی نہیں رکھتا، کیونکہ انہوں نے تو عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والی گاڑیوں میں سفر کرنا ہے۔ ان کے لیے بجلی کا بل کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ ان کے محلات کی روشنیوں کا انتظام بھی اسی غریب کے خونِ پسینے کی کمائی سے ہوتا ہے۔ یہ دوہرا معیار ہی معاشرتی بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب تک حکمران اپنے پروٹوکول، اپنی مراعات اور اپنے غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی نہیں کریں گے، عوام کا اعتبار بحال نہیں ہوگا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ یہ عوام کا صبر ہے جو آہستہ آہستہ لاوے کی طرح پک رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کی قوتِ برداشت ختم ہو جاتی ہی، تو وہ کسی بھی نظام کو بہا لے جانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ حکمرانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ طاقت اقتدار میں نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر یہ اعتماد ٹوٹ جائے، تو پھر کوئی بھی پروٹوکول یا کوئی بھی پولیس گردی انہیں بچا نہیں سکے گی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ظالمانہ اضافے کو فوری واپس لیا جائے۔ بجلی کے بلوں میں ریلیف دیا جائے اور غریب طبقے کے لیے راشن اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ صرف تقریریں کرنے سے ملک نہیں چلتے، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تجوریاں عوام کے سامنے کھول دیں، اپنی شاہانہ اخراجات کو ختم کریں اور ایک ایسی معاشی پالیسی تشکیل دیں جس میں غریب کے لیے سانس لینا ممکن ہو۔
یہ ملک ہمارا ہے، یہ وسائل ہمارے ہیں، اور اس کا فائدہ بھی ہم سب کو ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ ملک صرف ایک مخصوص طبقے کی جاگیر بن کر رہ گیا ہے، تو پھر اس ملک کا مستقبل بہت تاریک ہے۔ خدارا! غریب کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ اسے مزید نہ کچلیں، کیونکہ اگر یہ کچلا ہوا انسان اٹھ کھڑا ہوا، تو پھر کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔ مایوسی کا یہ طوفان بہت خطرناک ہے۔ آج وقت ہے کہ اصلاح کر لی جائے، ورنہ کل کا دن ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا، اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button