Column

کیا ہر سیاستدان سٹیٹسمین( STATESMAN) ہوتا ہے ؟

کیا ہر سیاستدان سٹیٹسمین( STATESMAN) ہوتا ہے ؟
( اقتدار کی جنگ سے تاریخ سازی تک )
کالم نگار : اختر حسین بھٹی
مسلم امہ کے عظیم رہنما حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فرمان ہے: اپنی زندگی کا ایک واضع مقصد حیات بنا لیں اور پھر اپنی ساری توانائیاں اور پوٹینشل اس مقصد حیات پر لگا دیں، آپ ان شاء اللہ کامیاب و کامران ہو جائیں گے۔
تاریخ انسانی گواہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی جب بھی داستان لکھی اور پڑھی جاتی ہے تو اس کے پس منظر میں ہمیں ان قوموں کو لیڈ کرنے والی شخصیات کا ذکر ملتا ہے، جن کے فیصلوں کی بدولت قومیں عروج و زوال کے مراحل طے کرتی ہیں۔ قوانین قدرت میں سے ایک مشہور قانون ( قانون مکافات عمل ) دی لاء آف کاز اینڈ ایفیکٹ ( The law of Cause & effect ) ہے جس کے مطابق عروج و زوال کی داستانیں قومیں اپنے فیصلوں اور اعمال کے ذریعے خود لکھتی ہیں۔ جو قوم خود کو آفاقی اصولوں کی روشنی میں ڈھال کر انسانیت کی بقاء کی ضامن بن جاتی ہے تو اس قوم کے ہاتھ میں قدرت عظمت کا جھنڈا تھما دیتی ہے۔ اس کے برعکس جب کسی ملک و قوم کے شب و روز آفاقی اصولوں کی پاسداری کی بجائے خلاف ورزی میں گزرتے ہیں تو قدرت ایسی قوموں کو نشان عبرت بنا دیتی ہے اور ان کی نسلیں صدیوں تک طاقتور قوموں کی مرہون منت رہتی ہیں۔
مشہور امریکی رائٹر مائیکل ہارٹ اپنی مشہور زمانہ کتاب
The 100 influential Personalities in the world میں اعتراف کرتے ہیں کہ دس ہزار سالہ ریکارڈڈ ہسٹری گواہ ہے کہ اس کائنات میں جس عظیم الشان شخصیت نے سب سے زیادہ impactڈالا ہے وہ ہمارے پیارے آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کی ذاتِ گرامی ہیں، جنہوں نے معاشرت سے سیاست تک، اقتصادیات سے عالمی پیراڈائم تک ہر پہلو کو آفاقی اصولوں کی روشنی میں transformفرمایا۔ آپؐ سے تعلیم و تربیت پا کر حضرت اہل بیتٌ اور صحابہ کرامؓ کی صورت میں عظیم سٹیٹسمین ( STATESMEN) تیار ہوئے، جن سے پوری انسانیت رہتی دنیا تک فیض یاب (inspiration)ہوتی رہے گی۔ یہاں میں Case studyکے طور پر نیلسن منڈیلا کی مثال دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے رنگ و نسل کی بنیاد پر جاری ظلم apartheidکے خلاف تحریک چلائی اور اس عظیم مقصد کیلئے ستائیس سال جیل کاٹی۔ جب نیلسن منڈیلا سے پوچھا گیا کہ اتنے مشکل ترین دور کو انہوں نے کیسے برداشت کیا تو نیلسن منڈیلا نے تاریخ ساز جواب دیا: میں نے حضرت امام حسینؓ کی قربانی سے inspirationلی اور اپنی قوم کیلئے ستائیس سال جیل جرات و بہادری سے کاٹی، جیل میں میرے پاس کتابیں پڑھنے کی سہولت میسر تھی، میں تاریخ ساز لیڈرز history makersکی زندگیوں کے بارے میں پڑھتا رہتا تھا، جب میں نے واقعہ کربلا پڑھا تو میں اندر سے دہل گیا کہ یہ ہوتی ہے حقیقی لیڈرشپ، یہ ہوتے ہیں STATESMAN، جو اپنی عظمت و کردار سے تاریخ لکھتے ہیں۔
آج بھی امریکن آئین US CONSTITUTIONمیں حضرت عمر فاروقؓ کے قوانین موجود ہیں۔ آج بھی دنیا شجاعت و بہادری کا منبع حیدر کرار حضرت علیٌ کو مانتی ہے اور سخاوت کا فیض حضرت عثمان غنیؓ سے لیتی ہے۔ یہ وہ عظیم سٹیٹسمین STATESMENتھے جنہوں نے اپنے عظیم وژن، پوٹینشل، کردار اور یقین کامل سے خود کو بدل کر دنیا بدل دی اور history makersکہلائے ۔
ماڈرن ورلڈ کا انسان سائنس و ٹیکنالوجی میں کمال عروج پر ہے، لیکن اس کے باوجود حقیقی امن کو ترس رہا ہے۔ اگر ہم صرف ڈیڑھ سو سال کا ڈیٹا نکال لیں تو اتنے محدود عرصے میں کروڑوں انسان قتل و غارتگری کا شکار ہو چکے ہیں۔ جدید انسان نے اپنے جیسے انسانوں کو وہ زخم دئیے ہیں کہ درندے تک پناہ مانگ رہے ہیں۔ اس کی وجہ تلاش کرنے کیلئے ہمیں دوبارہ افاقی قانون قانون مکافات عمل The Law of Cause & effectکو پڑھنا پڑے گا کہ جو آپ بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔ جدید انسان کو سہولت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نرم بستر، ٹھنڈے کمرے، بہترین سواریاں اور شاہی لباس تو میسر ہے لیکن آفاقی پیغام کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے، غیر یقینی کے بادل ہٹنے کا نام نہیں لے رہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں موقع پرست راج کر رہے ہیں۔ تقریباً پوری دنیا میں سیاست کے نام پر ان شخصیات کی نمائندگی ہے جو صرف اگلے الیکشن تک کا سوچتے ہیں۔
سیاست دان اور سٹیٹسمین STATESMANمیں حقیقی فرق LEGACYکا ہوتا ہے، جدید دور کا سیاست دان اپنی پارٹی اور اپنی ذات کا محدود ہو چکا ہے اور وہ پاور اسٹرکچر میں آنے اور رہنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے جبکہ سٹیٹسمین STATESMANوہ ہوتا ہے جو اگلی نسلوں اور پوری انسانیت کا بھلا سوچتا ہے، سیاست دان ووٹر بڑھاتا ہے جبکہ سٹیٹسمین لیڈرز اور اپنے جیسے سٹیٹسمین STATESMANتیار کرتا ہے، وہ ایسی LEGACYبنا کر جاتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس سے بہتر شخصیات نظام کو Governکرتی رہیں۔ سٹیٹسمین سسٹم بناتا ہے جبکہ نام نہاد سیاست دان اپنی شخصیت کے سحر میں لوگوں کو مبتلا کرکے آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے کے نعروں تک محدود رکھتا ہے۔
اب سوال یہ کہ کیا ہر سیاستدان اسٹیٹسمین ہوتا ہے؟
ریسرچ کی روشنی میں جواب واضع ہے کہ ہر سیاستدان اسٹیٹسمین نہیں ہوتا۔
اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ہر سیاستدان اسٹیٹسمین بن سکتا ہے؟
جس کا جواب ہے کہ بالکل ہر سیاستدان STATESMANبن سکتا ہے، اگر وہ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی خدمت کیلئے LEGACYپیدا کرنے پر یقین رکھتا ہو، اگر وہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور وسائل کو مقصد حیات ( Big why) کے ساتھ جوڑ کر انسانیت کی بقاء پر فوکس کر لے، اگر وہ followersاور ووٹر بڑھانے کی بجائے ان کی تربیت کرکے انہیںLEADERSHIP ZONEمیں داخل کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتا ہو۔ یاد رکھیں اسٹیٹسمین ہوتا ہی وہ ہے جو اپنے جیسے سٹیٹسمین تیار کرکے دنیا میں مثالی لیڈرشپ کی کہکشاں بنا کر جائے۔
بطور سٹیٹسمین شپ کوچ ( STATESMANSHIP COACH) میرا ماننا ہے کہ اس دنیا میں حقیقی معنوں میں امن و سکون تب آئے گا جب قوموں اور ملکوں کی قیادت سٹیٹسمین( STATESMAN) کریں گے اور STATESMANSHIPکا مثالی ماڈل آپ سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کے اسوہ حسنہ م پر عمل پیرا ہونی میں ہے۔
حکیم الامت شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں:
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
پھر فرماتے ہیں:
افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارے
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

جواب دیں

Back to top button