ایک بار پھر جھوم لیجئے

ایک بار پھر جھوم لیجئے
تجمّل حسین ہاشمی
پاسپورٹ ملکی وقار اور اس کا رنگ قوم کی پہچان ہے، لیکن کیا کریں، پروٹوکول کا نشہ ایسا چڑھا چکا ہے جو کہ اترنے کا نام نہیں لے رہا ، وزیر اعظم شہباز شریف نے آتے ہی کوئی چالیس کے قریب طاقتور تاجروں کو ڈپلومیٹک نیلے پاسپورٹ جاری کئے، تاجروں سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری لے کر آئیں گے ، سرمایہ کار لائیں گے، ملک ترقی کرے گا۔ آج تک کسی نے ان سے پلٹ کر سوال نہیں کیا کہ نیلے پاسپورٹ کے بدلے ملک کو کیا دیا ۔ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے خوف نے کاروباری طبقہ کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ جیسے ہوا بازی کے سابق وزیر غلام سرور نے پائلٹس کے لائسنس، ان کی ڈگریوں کے جعلی ہونے پر بیان دے کر پی آئی اے کو مزید نقصانات سے دو چار کیا۔
ویسے ہمارے ہاں سارے مزدور ہی تو ہیں۔ مزدوروں کو ایسے بیانات یا ڈیفالٹ جیسے اعلانات کی سنگینی کا کیا علم ہو سکتا ہے۔ ان کو کیا علم کہ یہ کس بلا کا نام ہے، موجودہ صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کاری والا چپٹر بھی کلوز ہی نظر آتا ہے، معاشی حالات سب کے سامنے ہیں اور سیکیورٹی صورتحال پر کیا کہیں۔ ہر کوئی ملک کا حکمران رہنا چاہتا ہے، لیکن ان کے فیصلوں میں خیر خواہی نظر نہیں آ رہی۔ قوم کے رہنما جو عوامی ووٹ سے چاروں صوبوں کی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، ان کا آج تک پروٹوکول سے دل نہیں بھرا، اب اپنے رشتہ داروں بچوں کے لیے قانون سازی پر تلے ہوئے ہیں۔ وعدے ، نعرے سب جھوٹ ثابت ہیں۔ اب رہنما اپنے بچوں کے لیے تا حیات سفارتی پاسپورٹ چاہتے ہیں، پاسپورٹ ان کے بچوں کو بھی میسر ہو ہی جائیں گے، اب ان کو اور ان کے بچوں کو سبز پاسپورٹ نہیں بلکہ الگ سرخ اور نیلا رنگ چاہئے، یہ 25کروڑ سے الگ اور دنیا بھر میں نظر آنا چاہتے ہیں۔ سبز رنگ سے اب جان چھڑوانا چاہتے ہیں، تاکہ دنیا بھر میں ان 1100ایم این ایز، ایم پی ایز اور ان کے بچوں کو کوئی مسئلہ نہ ہو، کیوں کہ دنیا بھر میں سبز پاسپورٹ پاکستانیوں کو پہچان ہے، ان کو سبز رنگ نہیں چاہئے۔ ان کی سوچ ، ان کا پروٹوکول سلامت رہے، باقی 25کروڑ ووٹرز سے انہیں کیا لینا دینا، کئی زندہ مثالیں موجود ہیں، جن میں کئی لوگ اسمبلیوں میں آئے تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا لیکن چند ہی سال میں مہنگی گاڑیوں پر نظر آئے۔ عام آدمی اپنی زندگی میں شاید ایسے جمپ کا کبھی نہیں سوچ سکتا۔ ویسے مسلم لیگ ن جب جب حکومت میں آئی ان کے دور حکومت میں طاقتوروں کو نوازنے کی پالیسی رہی ہے۔ جس اسٹیبلشمنٹ کو الزام دیتے رہے انہیں کا سہارا لیتے رہے۔ ویسے نوازنے کی پالیسی پر پکے کاربند ہیں اور رہیں گے، یہی ان کی سربراہی کا راز ہے، ان کی بھی یہی سوچ ہو گی کہ کون سا اپنا مال ہے، ان دنوں ایک نیا ٹرینڈ چل نکلا ہے کہ غریب آدمی کو اسمبلیوں میں ہونا چاہئے تو پھر تبدیلی آسکتی ہے، مجھے تو اس ٹرینڈ میں کچھ خاص نظر نہیں آتا، خان نے بھی تبدیلی کے دعوے کئے تھے، وقت آنے پر سارے دعوے زمین بوس ہو گئے، اور امپورٹڈ باشندوں کو اہم وزارتیں دیں، آج وہ سب فصلی بٹیرے بھاگ گئے۔ نفرت ، تقسیم اور طاقت کے عدم توازن نے معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ شرافت بظاہر جرم نظر آتی اور گندے لوگ، قبضہ مافیا اور عورتوں کے بیوپاری قابل احترام ہیں۔ حکومت خود تقسیم تفریق کی ذمہ دار ہے۔ اب رہنما نہیں اس کے بچوں تک کو حکومتی پاسپورٹ میسر ہو گا، لیکن غریب کے بچے بنیادی تعلیم، صحت سے محرم ہیں۔ سیاسی رہنما بڑے ظالم ہیں، میکاولی کہتا ہے: سیاست میں اخلاقیات نہیں ہوتی، بس مفادات کی جنگ ہے۔ عوام کو ذاتی مفاد کے لیے سیاسی لوگوں سے بہتر کوئی استعمال نہیں کر سکتا، اور غریب دھمال کے لیے دستیاب ہے۔
ایک اور خبر یاد آ گئی کہ کئی ممالک نے پاکستانیوں کو ان آرائیول ویزے کی اجازت دے دی، یا پھر ایئر پورٹ پر ہی ان آرائیول ویزا مل جائے گا، ایسی خبروں پر عوام نے خوب دھمال ڈالی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے، ایسے اعلانات سے غریب کو کوئی فائدہ نہیں، سرخ اور نیلے پاسپورٹ پر چار دن تنقیدی خبریں چلیں گی، اس کے بعد خاموشی ہی خاموشی ہو گی، جیسے معاشی صورتحال میں بہتری کے دعوے رہ گئے ہیں، وزیر اعظم صاحب کے وعدے قسمیں کہاں ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب جو وزیر اعظم صاحب کی بھتیجی ہیں ایسی قانون سازی کرنے پر تلی ہیں، جس کی مثال جابر بادشاہوں کے درباروں میں ملتی ہے، اور وزیر اعظم صاحب قانون سازی سے طاقتوروں کی خوشنودی میں لگے ہیں، لیکن سینئر صحافی زاہد گشگوری کی رپورٹ کے مطابق پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا ہے کہ مختلف ممالک ان فری ویزا معاہدوں پر پیش رفت سے قبل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان فعال سرکاری ( آفیشل) پاسپورٹس کی تعداد میں کمی کرے تاکہ سرکاری پاسپورٹ کی حیثیت، وقار اور اہمیت برقرار رہے، پاسپورٹ آفس نے بتایا کہ اگر سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ان ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں جن کے ساتھ ویزا سے استثنیٰ کے انتظامات یا معاہدوں پر بات چیت جاری ہے۔ اس بریفنگ کے بعد ایسی قانون سازی ملک کے ساتھ نا انصافی ہو گی اور حکومت کو ایسے فیصلوں سے دور رہنا چاہئے۔
ان 1100رہنمائوں کی طبیعت ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہے، ان کی سوچ، ان کا نظریہ ایک جیسا ہی نظر آتا ہے۔ ملکی معاشی بقا اور سلامتی کے لیے ان کی ذاتی وفاداری نہ ہونے کے برابر ہے، جب سلامتی کی بات آتی ہے تو سیکیورٹی فورسز قربان ہوں، جب سیلاب آئیں تو عوام غوتے کھائیں، اور خود ہی ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ایسے نظام کیسے چلے گا، اس طرز پر کس ملک نے ترقی کی ہے۔ کوئی ایک مثال نہیں ملے گی جس طرز پر حکومت کام کر رہی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے نہیں چلے گا۔





