مکالمہ ہی پائیدار امن کی ضمانت

مکالمہ ہی پائیدار امن کی ضمانت
دنیا ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، سفارت کاری اور امن کے درمیان انتخاب کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں بے چینی کی فضا پیدا کردی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے دفتر خارجہ کا یہ موقف کہ تمام فریق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت کے ذریعے اختلافات حل کریں، نہایت بروقت اور ذمے دارانہ ہے۔ یہ موقف صرف پاکستان کے قومی مفاد کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ ایک ایسے اصول کی بھی یاد دہانی کراتا ہے جسے انسانی تاریخ بارہا درست ثابت کر چکی ہے کہ جنگیں مسائل کو حل نہیں کرتیں، بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دو ریاستیں یا طاقتیں میدانِ جنگ میں اتریں، سب سے زیادہ نقصان عام انسانوں نے اٹھایا۔ جنگ کا آغاز اگرچہ سیاسی فیصلوں سے ہوتا ہے، مگر اس کی قیمت معصوم بچے، خواتین، بزرگ، مزدور اور عام شہری ادا کرتے ہیں۔ تباہ شدہ شہر، ویران بستیاں، لاکھوں بے گھر افراد، بکھرے ہوئے خاندان اور تباہ حال معیشتیں ہر جنگ کا لازمی نتیجہ رہی ہیں۔ اس لیے کسی بھی نئے تصادم کی حمایت کرنے کے بجائے دنیا کو اس کے ممکنہ نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ایسے مواقع آئے جب دونوں ممالک کے درمیان تنا خطرناک حد تک بڑھا، مگر سفارتی کوششوں نے بڑے تصادم کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، ان کا پائیدار حل میز پر بیٹھ کر بات کرنے میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے، نہ کہ میدانِ جنگ میں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات، خانہ جنگیوں اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ اگر اس خطے میں مزید کشیدگی جنم لیتی ہے تو اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی، تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی امن سب متاثر ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت اور مختلف خطوں میں سیاسی دبا اس کے ممکنہ نتائج میں شامل ہیں۔ ایسے حالات میں دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ اشتعال انگیزی کے بجائے تحمل، تدبر اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ علاقائی اور عالمی تنازعات کا حل بات چیت، باہمی احترام اور سفارت کاری میں ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی، جنگوں اور علاقائی کشیدگی کے نقصانات بھگت چکا ہے، اسی لیے اس کی جانب سے امن کی اپیل محض سفارتی بیان نہیں بلکہ عملی تجربات پر مبنی ایک سنجیدہ موقف ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کا یہ کہنا کہ تمام فریقین اپنے وعدوں اور ذمے داریوں کی پاسداری کریں، دراصل بین الاقوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم اشارہ ہے۔ جب معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا احترام کیا جاتا ہے تو تنازعات کے امکانات خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور کی روح بھی یہی ہے کہ ریاستیں اپنے اختلافات کو پُرامن ذرائع سے حل کریں۔ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصول اس لیے وضع کیے گئے ہیں تاکہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جاسکے۔ اگر دنیا کے طاقتور ممالک خود ان اصولوں سے انحراف کریں گے تو عالمی نظام کمزور ہوگا اور دیگر خطوں میں بھی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف محاذوں تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کے اثرات سائبر سیکیورٹی، معیشت، تجارت، خوراک، توانائی اور انسانی زندگی کے ہر شعبے تک پھیل جاتے ہیں۔ آج کی دنیا باہمی طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کو کسی بھی نئی محاذ آرائی کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ امن کا مطلب کمزوری نہیں ہوتا بلکہ دُور اندیشی، تدبر اور ذمے داری کا مظہر ہوتا ہے۔ اصل قیادت وہی ہے جو اپنے عوام کو جنگ کے شعلوں سے بچائے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات میں دھکیلے۔ طاقت کا اصل استعمال دشمنی بڑھانے میں نہیں بلکہ اعتماد سازی، رابطے اور مفاہمت کے فروغ میں ہونا چاہیے۔ میڈیا، دانشوروں، مذہبی رہنماں اور سول سوسائٹی کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ نفرت اور اشتعال انگیزی کے بجائے برداشت، رواداری اور امن کا پیغام عام کریں۔ جب عوامی رائے امن کے حق میں مضبوط ہو گی تو حکومتوں پر بھی مثبت اور ذمے دارانہ فیصلے کرنے کا دبائو بڑھے گا۔ آج دنیا کو ہتھیاروں کی دوڑ سے زیادہ اعتماد کی ضرورت ہے، محاذ آرائی سے زیادہ مذاکرات کی ضرورت ہے اور دھمکیوں سے زیادہ باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی برادری واقعی ایک محفوظ اور مستحکم دنیا چاہتی ہے تو اسے جنگ کے راستے سے ہٹ کر سفارت کاری اور مکالمے کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ امریکا اور ایران سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے لیے یہی مناسب وقت ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں اور بات چیت کا دروازہ کھلا رکھیں۔ اختلافات ہر دور میں رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، مگر مہذب قومیں وہی ہوتی ہیں جو انہیں میز پر بیٹھ کر حل کرتی ہیں، نہ کہ میدانِ جنگ میں۔ انسانیت کی بقا، خطے کے استحکام اور عالمی امن کا تقاضا یہی ہے کہ ہتھیار خاموش ہوں، سفارت کاری بولے اور مذاکرات آگے بڑھیں۔ کیونکہ جنگ کسی کی حقیقی فتح نہیں ہوتی، جبکہ امن ایسی کامیابی ہے جس سے سب کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو ایک زیادہ محفوظ، مستحکم اور پُرامن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
خوابوں کی قیمت، قیمتی جانیں
یورپ پہنچنے کی خواہش میں غیر قانونی راستوں، خصوصاً ’’ ڈنکی‘‘ کے خطرناک سفر کا انتخاب، پاکستانی معاشرے کے لیے ایک سنگین انسانی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جون 2023 ء سے اب تک مختلف کشتی حادثات میں 335پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ سیکڑوں خاندانوں کے اجڑنے، بچوں کے یتیم ہونے اور والدین کے سہارے چھن جانے کی دردناک داستان ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اتنی ہولناک ہلاکتوں کے باوجود غیر قانونی ذرائع سے یورپ جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بہتر روزگار، روشن مستقبل اور معاشی مشکلات سے نجات کی خواہش یقیناً ہر نوجوان کا حق ہے، لیکن خوابوں کی تعبیر کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈال دینا کسی صورت دانش مندی نہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورک نوجوانوں کی بے بسی، بے روزگاری اور امیدوں سے کھیلتے ہیں۔ وہ سنہرے مستقبل کے خواب دکھا کر لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں، مگر انجام اکثر سمندر کی بے رحم موجوں میں گم ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ غیر قانونی ہجرت کا رجحان صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے ختم نہیں ہوگا۔ اس مسئلے کی جڑیں معاشی بے یقینی، بے روزگاری، مہارتوں کی کمی اور بیرونِ ملک بہتر مواقع کی خواہش سے جڑی ہوئی ہیں۔ جب تک نوجوانوں کو اپنے ملک میں باعزت روزگار، بہتر تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گے، اس خطرناک رجحان کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ دوسری جانب حکومت کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور موثر کارروائی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ایسے گروہ صرف قانون شکنی ہی نہیں کرتے بلکہ انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ ان کے خلاف سخت قانونی اقدامات، فوری سزائیں اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان اور ان کے اہلِ خانہ غیر قانونی ہجرت کے مہلک نتائج سے پوری طرح آگاہ ہوسکیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جائے، فنی تربیت کے اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے مثر نظام قائم کیا جائے۔ اگر ریاست اور معاشرہ مل کر امید اور مواقع فراہم کریں تو خطرناک راستوں کا انتخاب خود بخود کم ہوسکتا ہے۔ 335جانوں کا ضیاع ایک ایسا سانحہ ہے جسے محض اعداد و شمار سمجھ کر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہر کشتی حادثہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی زندگی کسی بھی خواب سے زیادہ قیمتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، میڈیا، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں جن سے نوجوانوں کو محفوظ، قانونی اور باوقار مستقبل کا راستہ ملے۔ یہی ان بے گناہ جانوں کے ساتھ حقیقی انصاف ہوگا۔





