Column

امام حسینؓ ۔۔۔۔۔ آیتِ قربانی کی مجسم تفسیر

امام حسینؓ ۔۔۔۔۔ آیتِ قربانی کی مجسم تفسیر

شہر خواب ۔۔۔

صفدر علی حیدری۔۔۔

زمانے بیت گئے، سلطنتیں اُٹھیں اور زمیں بوس ہو گئیں، نظریے آئے اور گئے، مگر ایک آواز آج بھی اسی طرح گونجتی ہے جیسے چودہ سو سال پہلے گونجی تھی، آوازِ حسینؓ۔

یہ وہ آواز ہے جو کسی مکان، کسی قوم یا کسی مسلک کی نہیں، بلکہ خود انسانیت کی داخلی صدا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی ہے ، جو سچائی کو سودے بازی کا سامان نہیں بننے دیتی ، جو اس ابدی سوال کو دہراتی ہے کہ کیا انسان صرف زندہ رہنے کے لیے جیتا ہے، یا کسی مقصد کے لیے؟۔

کربلا اس سوال کا وہ جواب ہے جو کسی کتاب کے صفحوں پر نہیں، بلکہ تاریخ کے دھڑکتے دل پر لکھا گیا۔ اور وہ قلم آپؓ کا سر مبارک تھا اور روشنائی آپؓ کا پاکیزہ خون تھا، جس نے ایک آیت کو تفسیر، ایک واقعہ کو ابدیت اور ایک انسان کو انسانیت کا ابدی ضمیر بنا دیا۔

آج ہم اس مرقعِ کربلا کے سامنے کھڑے ہیں، صرف پڑھنے والے نہیں، بلکہ اس کا حصہ بننے والے۔ کیونکہ ہر دور اپنا ایک کربلا خود تخلیق کرتا ہے، اور ہر انسان کو اس کا سامنا کرنا ہے۔

قرآن مجید کی بعض آیات صرف تلاوت کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ تاریخ کے سینے پر اتر کر کردار بن جاتی ہیں۔ وہ لفظوں سے نکل کر انسانوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں، اور پھر وقت ان کی عملی تفسیر بن جاتا ہے۔

ترجمہ: ’’ تم نیکی کے بلند ترین مقام تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دو‘‘۔

یہ محض ایک اخلاقی اصول نہیں، بلکہ ایمان کی آخری کسوٹی ہے۔ انسان صدیوں سے اس آیت کو پڑھتا رہا، اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل بھی کرتا رہا، کبھی مال دے کر، کبھی وقت دے کر، کبھی خواہشات دبا کر، مگر اس آیت کی مکمل تفسیر ابھی باقی تھی۔

سچ ہے ’’ زمانہ قرآن کی تفسیر کرتا ہے ‘‘ تاریخ کو اس آیت کی مکمل تعبیر دیکھنی تھی، اور وہ تعبیر کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں ظاہر ہوئی ۔ اور اس کا عنوان تھا حسینؓ ابنِ علیؓ۔

انسانی تاریخ قربانیوں سے لبریز ہے۔ ہر نبیٌ اور ہر برگزیدہ انسان نے کسی نہ کسی صورت میں ایثار کی مثال قائم کی: جناب ابراہیمٌ بت شکن نے اپنے لختِ جگر کو قربان کرنے کا حکم قبول کیا، جناب ایوبٌ نے بیماری اور مصیبت میں صبر کا کوہِ گراں بن کر دکھایا، جناب یوسفٌ نے قید و تنہائی کو حق کی حفاظت کے بدلے قبول کیا۔ مگر کربلا ان تمام داستانوں کا ایک ایسا جامع استعارہ ہے جہاں ہر قربانی ایک ہی لمحے میں سمٹ آتی ہے۔

یہاں ابراہیمٌ کا ایثار بھی ہے اور اسماعیلٌ کی رضا بھی، ایوبٌ کا صبر بھی ہے اور موسیٌٰ کی جرأت بھی۔

یوں کربلا محض ایک واقعہ نہیں رہتا، بلکہ ایک مکمل ’’ قرآنی تفسیر‘‘ بن جاتا ہے۔

قربانی کا اصل مفہوم یہی ہے کہ انسان وہ چیز اللہ کی راہ میں دے جس سے اس کا دل وابستہ ہو۔ کیوں کہ جس شے کی قیمت دل میں نہ ہو، اس کا دینا قربانی نہیں ہوتا۔

اور امام حسینؓ کی زندگی اسی حقیقت کا مکمل ظہور ہے۔ انہوں نے مدینہ چھوڑا، وہ شہر جہاں بچپن کی یادیں تھیں، ناناؐ کا روضہ تھا، اور اہلِ بیت کی خوشبو تھی۔ پھر مکہ چھوڑا، وہ شہر جسے اللہ نے امن کا مرکز بنایا۔ یہ سب کچھ چھوڑنا آسان نہ تھا، مگر جب دین کی بقا کا سوال آیا تو حسینؓ نے راحت نہیں دیکھی، حق دیکھا۔ لوگوں نے سمجھایا کہ آپؓ کی جان کو خطرہ ہے۔ آپؓ نے بتایا اسلام کی بقا خطرے میں ہے، پھر آپؓ کے افکار، ’’ فلسفہ انکار ‘‘ بن کر آواز بنے ’’ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا‘‘۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں قربانی سفر بن گئی، اور سفر کربلا کے تپتے ریگ زار میں جا ٹھہرا۔

کربلا میں امتحان کی شدت بڑھتی گئی۔ ایک ایک کر کے وفا کے چراغ بجھتے گئے۔

حضرت عباسؓ وفا کی علامت بن کر پانی لینی نکلے، مگر واپسی میں بازو کٹ گئے۔ وہ صرف بازو نہیں تھے، وہ امیدیں، سہارا اور وفا کا استعارہ تھے جو زمین پر گر گئے۔ حضرت علی اکبرؓ جب میدان میں گئے تو گویا رسولؐ کی شباہت دنیا سے رخصت ہوئی ۔ حسینؓ نے اپنے دل کے ٹکڑے کو رخصت کیا، مگر حق پر سمجھوتہ نہ کیا۔ اور پھر حضرت علی اصغر چھ مہینے کا معصوم بچہ، جو نہ جنگ جانتا تھا نہ دشمنی۔ اس کی زبان پر تشنگی مرقوم تھی۔ سوال پیاس تھا مگر جواب ۔۔۔ تیر، اور انسانیت کا سر ہمیشہ کے لیے جھک گیا ۔

قربانی اپنی آخری حدوں کو چھو گئی۔

عصرِ عاشور آئی تو میدان خاموش تھا، مگر حقیقت میں تاریخ بول رہی تھی۔

ظاہری طور پر تنہائی تھی، مگر باطنی طور پر ایک عظیم فتح لکھ دی جا چکی تھی۔

دنیا طاقت کو کامیابی سمجھتی ہے، مگر آسمان اخلاص کو کامیابی مانتا ہے۔

دنیا تعداد کو معیار بناتی ہے، مگر خدا نیت کو فیصلہ کرتا ہے۔

دنیا تخت و تاج کو عظمت سمجھتی ہے، مگر حقیقت میں عظمت قربانی کے خون سے لکھی جاتی ہے۔ اور حسینؓ کی بارگاہ میں گویا یہ نذرانہ پیش ہوا: سب کچھ دے دیا، اب صرف سر باقی ہے، اور وہ بھی تیری رضا کے لیے حاضر ہے۔

جب سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دیا گیا تو کربلا صرف ایک میدان نہ رہا، بلکہ ابدیت کا عنوان بن گیا۔

انسان اپنی فطرت میں ایک بے چین مخلوق ہے۔ وہ ہمیشہ پوچھتا ہے: میں کیوں ہوں؟ میرا انجام کیا ہے؟ سچ کیا ہے؟ اور اس سچ کی قیمت کیا ہے؟۔

یہ وہ وجودی سوالات ہیں جن کا جواب فلسفہ الفاظ میں دیتا ہے، مگر کربلا نے انہیں خون کی زبان میں لکھ دیا۔حسینؓ نی اپنے قیام سے پہلے یہ سب کچھ جان لیا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ راستہ خونی ہے، منزل تنہائی ہے، اور مددگار بھی کم ہیں۔ مگر پھر بھی انہوں نے قدم پیچھے نہ ہٹائے۔

یہی تو وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی تمام جہتوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، نہ کوئی عذر، نہ کوئی بہانہ، فقط ایک خالص انتخاب۔

یہ انتخاب کسی سیاسی حربے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ وجودی ضرورت تھی۔ حسینؓ نے محسوس کیا کہ اگر وہ خاموش رہے تو سچائی کے تصور کو ہی مٹا دیا جائے گا۔ اور اگر سچائی مٹ گئی تو پھر انسان کس بنیاد پر انسان کہلائے گا؟یہی وہ گہری بے چینی ہے جو ہر دور کے باشعور انسان کو جکڑ لیتی ہے، کہ کیا میں اس نظام کا حصہ ہوں جو حق کو دباتا ہے، یا میں اس حق کا محافظ ہوں چاہے قیمت میری جان ہی کیوں نہ ہو؟۔

کربلا نے یہ سوال ہر انسان کے سامنے رکھ دیا۔

اور حسینؓ کا خون اس سوال کا ابدی جواب ہے کہ: انسان اسی وقت زندہ ہے جب وہ کسی خارجی طاقت کی بجائے اپنے اندرونی حق کے تابع ہو۔

یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں، بلکہ ایک انسانی کیفیت ہے جو ہر دور میں پیدا ہوتی ہے، جب کوئی انسان باطل کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اپنی ذات کے سوا کوئی ڈھال نہیں پاتا۔

آج بادشاہوں کے نام مٹ چکے ہیں، سلطنتیں دفن ہو چکی ہیں، مگر حسینؓ کا نام زندہ ہے۔

یہی وہ راز ہے جسے تاریخ سمجھ نہیں سکی اور عقیدت نے سمجھ لیا: کہ جو اللہ کے لیے دے دیا جائے، وہ فنا نہیں ہوتا، وہ ابدی ہو جاتا ہے۔

کربلا کا پیغام صرف ماضی نہیں، حال اور مستقبل بھی ہے:

یہ کہ حق کبھی عدد سے نہیں ہارتا۔

یہ کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور ہو، انجام اس کا زوال ہے۔

یہ کہ اصولوں پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔

یہ کہ عورت اگر حق پر ہو تو قید بھی اس کا وقار چھین نہیں سکتی، جیسا کہ حضرت زینبؓ نے ثابت کیا۔

آج جب ’’ لبیک یا حسینؓ‘‘ کی صدا بلند ہوتی ہے تو وہ صرف ایک نعرہ نہیں رہتا۔ وہ ظلم کے خلاف اعلانِ بغاوت بن جاتا ہے، وہ صبر کی پہچان بن جاتا ہے، وہ قربانی کا استعارہ بن جاتا ہے، اور وہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی آواز بن جاتا ہے۔

آخر میں یہی حقیقت باقی رہ جاتی ہے: ’’ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‘‘۔

اور کربلا اس آیت کی وہ تفسیر ہے جو خون سے لکھی گئی، مگر مٹائی نہ جا سکی۔

سلام ہو حسینؓ پر، سلام ہو حسینؓ پر، جس نے قرآن کو صرف پڑھا نہیں، جیا۔

جس نے آیت کو لفظ نہیں رہنے دیا، تاریخ بنا دیا۔

جس نے قربانی کو مفہوم نہیں رہنے دیا، ابدیت بنا دیا۔

کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی ایک نئی پیدائش ہے۔ یہاں انسان کو یہ سکھایا گیا کہ سچائی کی قیمت کبھی آرام سے ادا نہیں ہوتی۔ حق ہمیشہ قربانی مانگتا ہے، اور قربانی ہمیشہ دل کے سب سے قیمتی حصے سے لی جاتی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب رسم نہیں رہتا، بلکہ شعور بن جاتا ہے، اور شعور انسان کو اس کی ذات سے نکال کر کائنات کے بڑے مقصد سے جوڑ دیتا ہے۔

کربلا نے انسان کو یہ بھی سکھایا کہ شکست وہ نہیں جو جسم کو گرا دے، بلکہ شکست وہ ہے جو ضمیر کو جھکا دے۔ اور حسینؓنے اس اصول کو اپنے خون سے لکھ کر قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ کربلا ہر زمانے میں نیا معنی رکھتی ہے۔ ہر دور کا انسان اس میں اپنے سوالوں کا جواب، اپنے دکھوں کی تعبیر اور اپنے ضمیر کی آواز تلاش کرتا ہے۔

اور یہی اس آیت کی اصل تفسیر ہے، کہ نیکی تک رسائی صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی محبوب ترین چیز کو حق کے سپرد کر دے۔

اور یوں کربلا ایک واقعہ نہیں رہا، وہ ایک ضمیر بن گیا۔

ایسا ضمیر جو ہر اس دل میں دھڑکتا ہے جو ظلم کے سامنے خاموش نہیں بیٹھتا، جو ہر اس روح میں جلتا ہے جو سچائی کے لیے قیمت ادا کرنے کو تیار ہے، جو ہر اس انسان کو جھنجھوڑتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ کسی معنی کے لیے سانس لینے کا نام ہے۔

چودہ سو سال گزر گئے، مگر حسینؓ کا خون آج بھی خشک نہیں ہوا، کیونکہ یہ خون رگوں میں نہیں، شعور میں دوڑتا ہے۔ یہ خون زمین پر نہیں، تاریخ کے اوراق پر بہا تھا، مگر آج وہ ہر اس تحریر میں شامل ہے جو ظلم کے خلاف اٹھتی ہے، ہر اس آواز میں گونجتا ہے جو مظلوم کی طرف اٹھتی ہے، ہر اس آنسو میں شامل ہے جو کسی بے گناہ کے حق میں بہتا ہے۔ کربلا نے ہمیں ایک ابدی وصیت دی ہے: کہ انسان وہ نہیں جو بڑے بڑے محل بنائے، بلکہ وہ ہے جو اونچے اونچے اصول قائم کرے۔ کہ انسان وہ نہیں جو لمبی عمر پائے، بلکہ وہ ہے جو ایک لمحہ بھی سچائی پر قائم رہے۔ کہ انسان وہ نہیں جو دوسروں کو جھکائے، بلکہ وہ ہے جو حق کے سامنے خود جھک جائے۔

آج اگر ہم کسی بھی معاشرے میں ظلم کے خلاف آواز اٹھتی سنتے ہیں، اگر کوئی مظلوم حق مانگتا ہے، اگر کوئی انسان اپنی جان کی پروا کیے بغیر سچ بول دیتا ہے، تو وہ دراصل حسینؓ کی میراث کو زندہ کر رہا ہے۔

اور جب تک زمین پر کوئی مظلوم ہے، کوئی سچائی دبی ہے، کوئی ظلم اپنے پورے زور پر ہے، تب تک کربلا زندہ ہے۔ تب تک حسینؓکا نام زندہ ہے۔ تب تک یہ آواز گونجتی رہے گی: ’’ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‘‘۔

یہ ہے کربلا، ایک آیت کی مجسم تفسیر، ایک تاریخ کا ابدی ضمیر، اور ایک انسان کی وہ پکار جو آج تک زمانے کے کانوں میں گونج رہی ہے اور قیامت تک گونجتی رہے گی۔

ہمیشہ زندہ رہے حسینؓ کا نام، ہمیشہ بلند رہے حق کا پیغام، اور ہمیشہ روشن رہے قربانی کا یہ چراغ ، جو کبھی بجھنے والا نہیں۔

بقول شاعر:

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

جواب دیں

Back to top button