اسرائیل کا مستقبل

اسرائیل کا مستقبل
محمد مبشر انوار
گزشتہ صدی میں یہودیوں کی خواہش پر انہیں خطہ عرب میں بسانے سے کیا مشکلات پیدا ہوئی ہیں، ان کے متعلق گمان یہی ہے کہ یہودیوں کو عرب میں بسانے والے ان سے نہ صرف بخوبی آگاہ تھے بلکہ ان کا منشا بھی یہی تھا کہ یہ خطہ اس آگ میں مسلسل جلتا رہے جبکہ یہودیوں کے پشت پناہ ،یہودیوں کی ہر بے جا خواہش پر ان کی مدد جاری رکھیں ۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ حقیقت ہمارے سامنے ہے کہ یہودیوں کی کسی بھی ناانصافی پر کسی بھی یورپی ملک کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اسرائیل کے ہاتھ تو کیا روکیں اس کی سرزنش ہی کر پائیں ،البتہ کبھی کبھار دنیا داری کے تقاضے نبھانے کے زبانی جمع خرچ ضرور دیکھنے میں نظر آتا ہے لیکن وہ سنجیدگی جو بالعموم مغربی ممالک یا طاقتور ممالک کسی مسلم ریاست کے خلاف فوری دکھاتے ہیں،اس کا مشاہدہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسرائیل خواہ انسانی حقوق کی پامالیاں کرے یا نہتے فلسطینیوں کی زندگی اجیرن کرے،بچوں ،بوڑھوں ،مریضوں یا خواتین پر ظلم و ستم کرے،فلسطینیوں پر جارحیت کا ارتکاب کرے یا ان کی نسل کشی کرے،یہ مہذب اقوام انتہائی ڈھٹائی سے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے ،کمسن فلسطینی بچوں کو،انتہائی بے شرمی کے ساتھ ’’ دہشت گرد‘‘ قرار دے دیتے ہیں،جبکہ جدید ترین اسلحہ سے لیس،انسانیت سے عاری،پرتشددکارروائیوں کے باوجود،مغربی اقوام یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں ،پھر بھی اسرائیل کی پشت پناہی نہیں چھوڑتے بلکہ اس کے شانہ بشانہ لڑنے سے بھی نہیں کتراتے۔ یہی صورتحال گذشتہ برس بھی ہوئی جب اسرائیل نے بلاجواز ایران کے کئی ایک رہنماؤں کو شہید کیا ،سائنسدانوں کو نشانہ بنایا اور ایران کے اہم فوجی جرنیل کو ٹارگٹ کلنگ میں شہید کیا،شام میں ایرانی قونصلیٹ پر حملہ کرکے اپنی خودساختہ طاقت کا مظاہرہ کیا،اور دوسری طرف امن عالم کے ٹھیکیداروں یا خودساختہ عالمی قوانین کے محافظوں نے اس پر متاثرہ ایران کو صبر اور برداشت کرنے کی تلقین کی اور معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی صرف یقین دہانی کروائی۔ حد تو یہ کہ اسرائیل نے اپنے جاسوسی کا اتنا متاثر کن جال ایران کے اندر پھیلا رکھا تھا کہ ایران کے دورے پر فلسطینی قیادت کو بھی نشانہ بنا کر،عالمی قوانین کا بھی تمسخر اڑایا،اس کے باوجود،عالمی طاقتیں اسرائیل کے ساتھ کھڑی نظر آئی اور اس جرم کو بھی اسرائیل کا حق قرار دے کر اپنا وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈالے رکھا جبکہ ایران ،جو پہلے ہی اقتصادی پابندیوں کا شکار تھا،اس کے ہاتھ یوں مزید باندھ دئیے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو امریکہ اس کارروائی کو اسرائیل پر جارحیت تصور کرتے ہوئے،براہ راست میدان میںاتر آئے گا۔ گو کہ یکم اپریل 2024ء کو ایران نے اپنے قونصل خانے پر حملے کا جواب اسرائیل پر ڈرون اور میزائل برسا کر ،اپنی خودمختاری کا ثبوت تو فراہم کیا مگر جس طرح کا یہ جوابی حملہ ہوا تھا،اسے کسی بھی طور ایک کامیاب یا بھرپور حملہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ اس کے پس پردہ حقائق ایسے تھے جس میں ایران نے ایک مخصوص وقت کے اندر جوابی کارروائی کرنا تھی،جس کے متعلق اسرائیل کو قبل او وقت معلوم تھا اور اس کے حفاظتی اقدامات بھی تیار تھے لہذا جو جواب دیا گیا،اسے سوائے اشک شوئی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا تھا تاہم اس جوابی کارروائی نے بہرطور ایران کی خودمختاری و آزاد ریاست کا تاثر برقرار رکھا۔بعد ازاں اسرائیلی خواہشات کی تکمیل میں گذشتہ برس بھی ،امریکہ نے دو دنوں کی بمباری ایران پر کی جس کا جواز صرف اتنا تھا کہ ایران ایٹمی صلاحیت کے حصول کے قریب ترین تھا جبکہ امریکہ بزعم خود کسی بھی دوسری ریاست بالعموم جبکہ مسلم ریاست بالخصوص کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اس سے امریکہ کو امن عالم کا خدشہ رہتا ہے۔
امریکہ اپنے تئیں تب بھی ایران کی جوہری صلاحیت کو روک ہی نہیں بلکہ ختم کر چکا تھا لہذا ایران کو سمجھا بجھا کر اس وقت بھی جوابی کارروائی سے روک دیا گیا لیکن یہ ایران کی دانشمندی تھی یا مناسب وقت کا انتظار تھا کہ ایران اپنے دفاع سے کسی بھی صورت غافل نہیں تھا جس کا اندازہ نہ امریکہ کو تھا اور نہ ہی اسرائیل کو۔ امسال 28فروری کو امریکہ اسرائیل کے ساتھ ایک مرتبہ پھر گزشتہ تجربہ کی بنیاد پرایران پر چڑھ دوڑا لیکن اس مرتبہ حالات کلیتا مختلف دکھائی دئیے اور ایران نے نہ صرف امریکی حملوں کو روکا بلکہ اسرائیل ،جسے اپنے دفاعی نظام پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا،کا دفاعی نظام بری طرح ناکام بنا کر،اسرائیل کو بھوسے کی طرح اڑا کر رکھ دیا گو کہ اسرائیل نے اپنی عوام کی حفاظت کے لئے،زیر زمین بنکر بنا رکھے ہیں لیکن ایرانی ڈرونز اور میزائل کی طاقت کا انہیں بخوبی اندازہ نہیں تھا اور ایرانی میزائلوں نے ان بنکرز کو بھی شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔ رہی بات امریکہ کی ،تو امریکہ یہ گمان کررہا تھا کہ خلیج میں اس کے فوجی اڈوں پر اتنے جدید ترین ہتھیار موجود ہیں کہ جن کی مددسے وہ ایران کو با آسانی شکست دے سکتا ہے لیکن ایران نے کمال دانشمندی اورمہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے،اپنے حق دفاع میں،ان خلیجی مسلم ریاستوں کو قبل از وقت متنبہ کر رکھا تھا کہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں وگرنہ ایران کے پاس عالمی قوانین کے مطابق یہ حق موجود ہے کہ ایران پر جس جگہ سے حملہ ہو،وہ اس کے خلاف بروئے کار آسکتا ہے۔ ایران پر جو حملے،خلیجی ممالک کی سرزمین سے ہوئے،ایران نے انتہائی ناپ تول کر ،ان خلیجی ممالک میں صرف ان امریکی فوجی اڈوں کو تاک تاک کر ہی نشانہ بنایا جہاں سے ایران پر حملے ہوئے،ان میں سب سے زیادہ حملے، بحرین،متحدہ عرب امارات اور کسی حد تک کویت میں کئے گئے یا پھر اس کا نشانہ عراق میں موجود امریکی اڈے بنے اور بعد ازاں یہاں موجود اسرائیلی خفیہ اڈہ بنا،جو ایک چرواہے کو اتفاقا آشکار ہو گیاتھا۔بہرحال ایران کے جوابی وار نے امریکہ کے اوسان خطا کر دئیے کہ ایک طرف ایران خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہی نشانہ نہیں بنا رہا تھا بلکہ سمندروں میں لائے گئے امریکی بحری بیڑے بھی ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کے نشانے پر تھے اور وہ امریکی بحری بیڑے، جن پر نہ صرف امریکہ کو بہت زیادہ ناز تھا بلکہ وہ سمندروں میں خوف و ہیبت سمجھے جاتے تھے،ایران کے اولین ہلے میں ہی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے اور پوری جنگ میں آبنائے ہرمز یا ایرانی حدود کے اندر آنے سے گریزاں رہے۔ اس جنگ کے پس پردہ،اسرائیل نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح خلیجی ممالک بھی اس جنگ کا حصہ بن جائیں لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام رہا البتہ اسرائیل نے اس جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ،اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو جاری رکھا اور جب سب نظریں ایران پر مرکوز تھی،لبنان کا محاذ کھول لیا۔ اسرائیل نے لبنانی محاذ پر ،شدید جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے،اس کا جنوبی علاقہ ہتھیا لیااور وہاں قریبا دس لاکھ افراد کو بے گھر کیا اور چار ہزار شہریوں کو شہید کیا،جوابی کارروائی میں لبنانی فوج بوجوہ،اپنی ریاست کا کماحقہ دفاع نہیں کر پائی لیکن حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمت ضرور دکھائی۔ دوسری طرف امریکہ و ایران کے درمیان چالیس روزہ جنگ کے بعد،معاملات تھم گئے اور مذاکرات کی گردان شروع ہوئی،جس کے متعلق ایران اول روز سے ہی تمام محاذوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا رہا ،جس میں لبنان سمیت غزہ بھی شامل تھا مگر امریکہ پر اسرائیلی اثر اس قدر زیادہ ہے کہ امریکہ اس دوران اسرائیل کو لبنان میں جارحیت سے بھی نہیں روک پایا حتی کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہو چکے مگر اسرائیل اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آیا بہرحال اب کارروائیوں کی شدت میں کمی آ چکی ہے اور اسرائیلی میڈیا یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اب اسرائیل پر امریکی دباؤ کام کر گیا ہے کہ نیتن یاہو نے نہ صرف حملے روکنے کا کہا ہے بلکہ اب جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء پر بھی بات ہورہی ہے، جس پر تاحال اسرائیلی مزاحمت جاری ہے۔ فروری سے شروع ہونی والی یہ جنگ، ایران کو عالمی سطح پر ایک فاتح کی حیثیت دلوا چکی ہے تو امریکہ و اسرائیل کو شرمناک شکست کا داغ ماتھے پر سجا چکی ہے،حال ہی میں اسرائیلی اخبار کے ایک سروے نے اس کی تصدیق بھی کی ہے کہ جس میں اسرائیلی شہریوں سے اسرائیل کے مستقبل سے متعلق سوال پوچھا گیا کہ ان کی نظر میں اسرائیل کا مستقبل کیا ہے،جس پر بانوے فیصدی ،اسرائیل کے مستقبل سے ناامید دکھائی دئیے ،ان کے نزدیک مشکلوں سے بنی اسرائیلی ریاست کا وجود اب انتہائی مخدوش ہو چکا ہے،جس کا ذمہ دار نیتن یاہو اور اس کی غلط پالیسیاں ہیں۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ کل تک جب نیتن یاہو کی من مرضی اور خواہشات کے مطابق معاملات چل رہے تھے،اسرائیلی انتہا پسندوں کو اس سے کوئی مسئلہ دکھائی نہیں دیتا تھا،البتہ ناکامی سب کچھ چھین لیتی ہے،یہی صورتحال اس وقت نیتن یاہو اور اسرائیلی شہریوں کی ہے۔







