
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چین کے انتہائی خفیہ اور نایاب حکومتی باغ و کمپاؤنڈ ’ژونگ نان ہائی‘ کا دورہ کروا کر دنیا کو واضح سیاسی پیغام دیا ہے، یہ مقام چین کی کمیونسٹ قیادت کا طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں عام طور پر غیر ملکی رہنماؤں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیجنگ میں ملاقات کے دوران دونوں رہنما کمپاؤنڈ کے تاریخی باغات میں گھومے، قدیم درختوں اور پھولوں کا مشاہدہ کیا اور دوپہر کا کھانا بھی یہیں ساتھ کھایا۔
رپورٹس کے مطابق شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ میں نے ٹرمپ کو یہ خصوصی دعوت اس لیے دی کیونکہ ٹرمپ نے مجھے 2017ء میں اپنی رہائش گاہ ’مار اے لاگو‘ میں مدعو کیا تھا
واضح رہے کہ ژونگ نان ہائی ایک صدیوں پرانا شاہی باغ تھا جو بعد میں چینی قیادت کی رہائش اور حکومتی مرکز بن گیا۔
یہاں ماؤ زے تنگ، چو این لائی، ڈینگ شیاؤ پنگ اور دیگر اہم چینی رہنما رہتے اور کام کرتے رہے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کو کمپاؤنڈ کے 490 سال پرانے درخت بھی دکھائے اور بتایا کہ یہاں بعض درخت 1000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جگہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یہ ماحول بہت پسند آیا ہے







