ColumnQadir Khan

ایک جنگ، دو بیلٹ باکس

ایک جنگ، دو بیلٹ باکس

پیامبر

قادر خان یوسف زئی

پچھلے ہفتے امریکہ سے ایک پرانے دوست کا فون آیا۔ حال احوال ہوا تو اس نے ہنستے ہنستے ایک بات کہی جو ہنسنے والی نہیں تھی۔ کہنے لگا، یار، اب پٹرول پمپ پر کھڑا ہو کر حساب لگاتا ہوں کہ ٹنکی پوری کروائوں یا آدھی سے کام چلائوں۔ میں بھی ہنس دیا۔ یہ جملہ تو ہمارا ہے۔ ہمارے ہاں تو نسلیں آدھی ٹنکی پر جوان ہوئی ہیں۔ پر جب یہی بات دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں رہنے والا آدمی کہے تو سمجھ لیجیے کہ معاملہ اب صرف پٹرول کا نہیں رہا۔ یہ سیاست کا معاملہ ہے، اور سیاست بھی وہ جو ہزاروں میل دور ایک جنگ سے شروع ہو کر ایک عام آدمی کی جیب تک پہنچی ہے۔

بات سیدھی ہے، اور شاید اسی لیے اکثر نظر سے اوجھل رہ جاتی ہے۔ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر جو حملے کیے، ان کا بل اب میدانِ جنگ میں نہیں، بیلٹ باکس پر ادا ہو رہا ہے۔ ایک نہیں، دو بیلٹ باکس۔ ایک تل ابیب میں، دوسرا واشنگٹن میں۔ دونوں جگہ ووٹر نے ایک ہی سوال کا جواب دیا ہے، چاہے زبان الگ تھی۔ جنگ کی قیمت کون چکائے گا؟

پہلے اسرائیل کی طرف چلتے ہیں۔ ستائیس اکتوبر کے انتخابات میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی27نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت تو بن گئی، مگر سب سے بڑی ہونا اور حکومت بنا لینا دو مختلف چیزیں ہیں۔120 رکنی کنیسٹ میں حکومت کے لیے 61نشستیں چاہییں۔ نیتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں والا بلاک53 پر رک گیا۔ آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن48 نشستیں لے سکی۔ یعنی ترازو کے دونوں پلڑے ہوا میں لٹک رہے ہیں اور کوئی بھی زمین کو نہیں چھو رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگ عموماً حکمرانوں کے لیے ووٹ لاتی ہے۔ قوم جھنڈے کے گرد جمع ہوتی ہے، اختلاف کو غداری کہا جاتا ہے اور جو اقتدار میں ہو وہ محافظ بن جاتا ہے۔ اس بار ایسا نہیں ہوا۔ جس جنگ کو طاقت کا مظاہرہ بنا کر پیش کیا گیا، اس نے نیتن یاہو کو اکثریت نہیں دی۔ اور جب نتائج پسند نہ آئے تو لیکوڈ نے دھاندلی کا شور مچایا، جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا۔ یہ منظر ہم پاکستانیوں کے لیے نیا نہیں۔ ہارنے والے کے پاس دلیل ختم ہو جائے تو آخری سہارا یہی ہوتا ہے۔

اب سمندر پار چلیے۔ تین نومبر کو امریکہ میں مڈٹرم انتخابات ہوئے اور ابتدائی نتائج اور تخمینوں کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان جیتتے دکھائی دے رہے ہیں، سینیٹ پر بھی ان کی نظر ہے۔ یہاں جنگ کا اثر نقشوں پر نہیں، پٹرول پمپ کی اسکرین پر نظر آیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تو تیل کی ترسیل کا وہ راستہ رک گیا جس سے دنیا کی معیشت سانس لیتی ہے۔ امریکہ میں گیس کی قیمت مئی میں چار ڈالر چھپن سینٹ فی گیلن تک گئی۔ الیکشن کے دن بھی، میڈیا کے مطابق، یہ چار ڈالر پندرہ سینٹ پر کھڑی تھی۔ یہ وہ ہندسہ ہے جو امریکی ووٹر روز صبح دفتر جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔

رائٹرز اور اپسوس کے سروے کے مطابق اڑتالیس فیصد ووٹروں نے روزمرہ اخراجات کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ بتایا۔ یعنی تقریباً ہر دوسرا ووٹر یہ سوچ کر پولنگ اسٹیشن گیا کہ گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔ ایران کا ایٹمی پروگرام، خطے میں طاقت کا توازن، اسٹریٹجک گہرائی، یہ سب بڑے لفظ ہیں۔ مگر ووٹر بڑے لفظ نہیں کھاتا۔ وہ روٹی، دودھ اور پٹرول کا بل دیکھتا ہے۔ سب سے معنی خیز گواہی تو خود صدر ٹرمپ نے دے دی، جب انہوں نے ریپبلکن نقصان کا الزام ایران کی جنگ اور ایندھن کی قیمتوں پر ڈالا۔ جس جنگ کا آغاز فخر سے ہوا تھا، اسی کو اب ہار کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ امیگریشن کے خلاف سخت کریک ڈائون کو ریپبلکن مہم کا ترپ کا پتہ سمجھا جا رہا تھا۔ خیال یہ تھا کہ سرحد اور غیر قانونی تارکین کا سوال باقی سب سوالوں کو دبا دے گا۔ مگر لگتا ہے باورچی خانے کا سوال سرحد کے سوال سے زیادہ بلند نکلا۔ آدمی کو یہ تو بعد میں فکر ہوتی ہے کہ پڑوس میں کون آ کر بسا، پہلے یہ فکر ہوتی ہے کہ مہینے کے آخر میں اس کی اپنی جیب میں کیا بچا۔

قدامت پسند تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ امریکہ میں مڈٹرم انتخابات اکثر برسرِ اقتدار صدر کی جماعت کے خلاف جاتے ہیں۔ یہ ایک پرانی روایت ہے، جنگ ہو یا نہ ہو۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی عرصے میں دفاع اور ٹیکنالوجی جیسے شعبے پھلے پھولے، اس لیے پوری معیشت کو ڈوبتا جہاز کہنا درست نہیں۔ اور امیگریشن پر سختی کوئی ہوائی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ محنت کش طبقے کا برسوں پرانا مطالبہ تھا۔ اسرائیل کے بارے میں بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہاں معلق پارلیمان کوئی انہونی نہیں۔2019ء سے 2022ء کے درمیان وہاں پانچ انتخابات ہوئے تھے، جب ایران کے ساتھ ایسی کوئی جنگ نہیں تھی۔ یہ دلائل وزن رکھتے ہیں اور انہیں رد کر دینا آسان نہیں۔ مگر یہاں ایک باریک سا فرق ہے۔ روایت یہ بتاتی ہے کہ حکمران جماعت ہارتی کیوں ہے، یہ نہیں بتاتی کہ ووٹر کس بات پر ناراض تھا۔ چند شعبوں کی ترقی اس گھرانے کو تسلی نہیں دیتی جس کا پٹرول کا بل بڑھ گیا ہو۔ اور اسرائیل کی پرانی تقسیم اپنی جگہ، مگر جنگ کے بعد بھی اکثریت نہ ملنا یہ بتاتا ہے کہ اس بار جھنڈے کے گرد جمع ہونے والا جادو کام نہیں آیا۔ دونوں باتیں ایک ساتھ سچ ہو سکتی ہیں۔ روایت بھی اپنا کام کر رہی تھی اور جنگ بھی۔ فرق بس اتنا ہے کہ اس بار روایت کو جنگ نے ایندھن فراہم کیا۔

مجھے بار بار اپنے اس دوست کی آدھی ٹنکی یاد آتی ہے۔ جنگ کا فیصلہ کرنے والے کمروں میں نقشے ہوتے ہیں، سیٹلائٹ تصویریں ہوتی ہیں، اہداف کی فہرستیں ہوتی ہیں۔ ان کمروں میں وہ آدمی نہیں ہوتا جو پٹرول پمپ پر کھڑا ہو کر حساب لگا رہا ہوتا ہے۔ مگر جمہوریت کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ آدمی آخرکار کمرے میں پہنچ ہی جاتا ہے، بیلٹ پیپر کے راستے۔ تل ابیب میں اس نے کسی کو اکثریت نہیں دی، واشنگٹن میں اس نے حکمران جماعت سے حساب مانگ لیا۔ شاید پاکستانی عوام کی اکثریت بھی چاہتی ہے کہ یہ بھی اقتدار میں رہنے والی تمام سیاسی جماعتوں سے تھوڑا سے سا حساب کتاب کر لیں، لیکن کیا عوام کی اکثریت میں، نوجوانوں جنہیں قوم کا مستقبل کہا جاتا ہے، ان معماروں میں کچھ ایسا لگتا ہے کہ ان میں کچھ بدلنے کے آثار ہوں یا پھر سب ’’ مسٹر فالتو‘‘ کے گرد جمع ہوکر اپنا مستقبل بنانے نکلے ہیں؟

حکمرانوں کے لیے سبق شاید یہ ہے کہ جنگ کا آغاز آپ کی مرضی سے ہوتا ہے، اس کا بل آپ کی مرضی سے نہیں آتا۔ وہ کبھی آبنائے ہرمز سے ہو کر آتا ہے، کبھی پٹرول پمپ کی اسکرین سے، اور آخر میں ووٹ کی پرچی پر آ کر رکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ سبق اگلی جنگ سے پہلے یاد رہے گا، یا ہم سب ایک بار پھر آدھی ٹنکی پر گزارا کرنا سیکھ لیں گے؟۔

جواب دیں

Back to top button