
کراچی کی سٹی کورٹ نے ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں این سی سی آئی اے نے ملزم سے مقدمے کے سلسلے میں تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے اقرار الحسن سے استفسار کیا کہ کیا ان پر تشدد کیا گیا ہے؟ اس پر اقرار الحسن نے جواب دیا کہ انہیں مارا پیٹا نہیں گیا۔
عدالت نے ملزم سے یہ بھی پوچھا کہ کیا ان کا کوئی وکیل ہے؟ جس پر اقرار الحسن نے بتایا کہ انہوں نے ابھی تک کوئی وکیل نہیں کیا۔
این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے مقدمے کے حوالے سے تفتیش کرنی ہے، تاہم عدالت نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرنے کے بجائے اقرار الحسن کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایجنسی کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔
اقرار الحسن کے خلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ نمبر 101/2026 درج ہے۔
نجی ٹی وی کے انکر پرسن وسیم بادامی نے بھی اپنے سوشل میڈیا ایکس اکاؤنٹ پر اقرار الحسن کو عدالت میں پیش کیے جانے حوالے سے لکھا کہ، ’این سی سی آئی کراچی نے اقرار الحسن کو کراچی کی مقامی عدالت میں پیش کر کے چار روزہ ریمانڈ حاصل کر کیا ہے اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
واضح رہے کہ اقرار الحسن کو گزشتہ شب لاہور میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن کی اہلیہ فرح اقرار نے بتایا تھا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً 3 بجے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔
فرح اقرار کا کہنا تھا کہ گھر آنے والے افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد نے گھر کا نچلا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کے بعد اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے جانے کے علاوہ موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی قبضے میں لے لی تھی
فرح اقرار نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ گھر آنے والے افراد کے ساتھ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر این سی سی آئی اے درج تھا۔
اقرار الحسن کی پہلی اہلیہ قرۃ العین اقرار نے بھی ویڈیو پیغام میں ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ان کی بازیابی میں مدد کی اپیل کی تھی







