
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے خیبر پختونخوا میں آئین کے تحت اقدامات کیے، صوبائی کابینہ میں اب کوئی دہشتگرد ہمدرد نہیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا ملک میں ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو دہشتگردوں سے ہمدردی کرے، ملک میں ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو ایسی پالیسی اپنائے جو دہشتگردوں کو اپنی کارروائیاں اور سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع فراہم کرے، ہم پی ٹی آئی کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور مشترکہ پالیسی کے بارے میں مذاکرات کر رہے تھے، دہشتگردی کےخلاف ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں کیسے ہوسکتی ہیں؟
ان کا کہنا تھا آئین سازوں نے ان دفعات کو آئین میں ایسے ہی حالات سے نمٹنے کے لیے شامل کیا تھا، 1973ء کے آئین کے تحت قانونی طور پر درست اقدامات کیے گئے، صوبے میں حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا، صوبے میں امن و امان کی صورتحال بھی مکمل طور پر خراب ہو گئی تھی، اطلاعات ہیں کہ جن علاقوں میں دہشتگرد سرگرم ہیں، وہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بحفاطت گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مارچ ان اضلاع سے ان دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ کاری کے بعد گزرا، مارچ کو ان علاقوں سے بحفاظت گزرنے کی اجازت ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟
انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے ذریعے اب تک خیبر پختونخوا حکومت کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جاچکے، سوال یہ ہےکہ یہ بہت بڑی رقم ہے، اسے دہشتگردی کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ قائم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کیا گیا؟ یہ رقم خیبر پختونخوا میں سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کے لیے کیوں استعمال نہیں ہوئی؟ فارنزک لیبارٹری قائم کرنے یا پولیس کے لیے جدید آلات خریدنے کی غرض سے یہ وسائل کیوں استعمال نہیں کیے گئے؟
ان کا کہنا تھا خیبر پختونخوا میں لوگ ہر ممکن طریقے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس دہشت گردی سے ان کی زندگی اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، طالبان کے پیش کردہ اسلام کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا اگر کے پی کے عوام پی ٹی آئی حکومت کے دہشت گردی کے حامی مؤقف کی حمایت کرتے تو لاکھوں افراد سڑکوں پر ہوتے، ہم نے اس حوالے سے بڑھکیں بھی سنیں، کے پی ترجمانوں نے کہا تھا کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہوئی تو لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئیں گے، گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے، لیکن یہ ایک درجن افراد کو بھی باہر نہیں لاسکے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے وفاق کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، عوام کو امید پیدا ہوئی ہے کہ اب ان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں، انہیں یقین ہے کہ اب انہیں تحفظ اور سلامتی فراہم کی جائے گی، ان کے جان و مال اور روزگار محفوظ ہوں گے، عوام کو یقین ہے کہ اب سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے اس گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ صوبائی کابینہ اور تشکیل دی گئی کابینہ کے ارکان کی قابلیت اور تجربے کا تقابل کریں تو واضح فرق نظر آئے گا، نئی ٹیم کا ہر فرد اپنے اپنے شعبے میں نمایاں صلاحیتوں کا حامل ہے، ہر فرد وسیع تجربہ رکھتا ہے، اور عوامی خدمت کے میدان میں کام کر چکا ہے، یہ ایک مشاورتی کونسل ہے جس میں قبائلی توازن برقرار رکھا گیا ہے، اس مشاورتی کونسل میں صنفی نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا نئی کابینہ میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے کا عزم اور حوصلہ موجود ہے، اس کابینہ میں دہشت گردی کا کوئی ہمدرد نہیں ملے گا، پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ اور اس کابینہ کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے، پی ٹی آئی کی کےپی حکومت سیاست، دہشتگردی، جرائم کے اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ 6 برسوں میں دہشتگردی کے واقعات میں تقریباً 11 گنا اضافہ ہوا، 2025 میں دہشتگردی کے 3774 واقعات پیش آئے، ستمبر 2026 تک رواں سال میں 2857 واقعات پیش آچکے ہیں، گزشتہ 5 برسوں کے دوران دہشتگردی کے 6924 مقدمات درج کیے گئے، گزشتہ 6 برسوں میں جانی نقصانات میں بھی تقریباً 10 گنا اضافہ ہوا، 2021 میں دہشت گردی کے نتیجے میں 267 افراد جاں بحق ہوئے تھے، 2026 میں یہ تعداد 2775 ہوگئی، 2025 میں 3512 افراد کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ صف اول میں لڑنے والی خیبر پختونخوا پولیس کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، پولیس کو نشانہ بنانے کے واقعات میں 168 فیصد اضافہ ہوا، دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں، پی ٹی آئی نے پولیس کو ضروری وسائل فراہم نہیں کیے، اسے بااختیار نہیں بنایا، بڑے دہشتگرد حملوں کی تعداد 1364 رہی، پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد 1532 رہی، گزشتہ دو برسوں میں پولیس کی 18 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا







