
شیر شاہ پل کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی رحمان بابا ایکسپریس پر ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا جب کہ حادثے میں اب تک 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔
کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب تمام 15 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین کی رفتار تیز تھی جس کی وجہ سے تمام بوگیاں الٹ گئیں۔
ایک مسافر نے بتایا کہ رحمان بابا ایکسپریس کا حادثہ صبح سوا 5 بجے پیش آیا، روہڑی کے قریب بوگی نمبر 9 کے نٹ بولٹ درست کیے گئے تھے۔
دوسری جانب ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بوگی سے ایک اور لاش نکال لی گئی ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 30 سے زائد ہے، تمام لاشوں اور زخمیوں کو نشتر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ٹرین حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے تاہم حادثے کے بعد سے ڈیڑھ سالہ بچی لاپتا ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
ڈی ایس ریلوے کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، 3 سے 4 گھنٹے میں ڈاؤن ٹریک بحال کردیا جائے گا، حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کام کر رہی ہے، شواہد جمع کیے جارہے ہیں۔
ڈی ایس ریلوے کے مطابق متاثرہ ٹرین کے مسافروں کو ریلوے اسٹیشن پہنچانے کے لیے دوسری کوچ فراہم کی گئی ہے۔
وزیراعظم کا نوٹس
دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد سے اظہارِ افسوس کیا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہرممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔







