مائی وے یا ہائی وے

مائی وے یا ہائی وے
محمد مبشر انوار
تحریک انصاف کا27ستمبر کا اعلان کردہ لانگ مارچ 4اکتوبر تک موخر ہو چکا ہے اور امید تھی کہ معاملات کسی بہتری کی جانب جائیں گے، مگر اطلاعات کے مطابق ایسی کوئی خوش آئند بات دکھائی نہیں دے رہی، بلکہ پس پردہ معاملات مزید گھمبیر ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزراء کا لہجہ مسلسل تلخ ہو رہا ہے تو کہیں نحیف سی آواز مذاکرات کی بھی سنائی دے جاتی ہے کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے لیکن عملا اس پر کو پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ موخر کرنے کی وجہ یہی بتائی گئی تھی کہ وہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا ایک موقع حکومت کو دینا چاہتے ہیں لیکن درحقیقت جو انتظامات حکومت کی جانب سے کئے گئے تھے، ان سے واضح تھا کہ اگر لانگ مارچ طے کردہ وقت کے مطابق اسلام آباد آتا ہے تو حکومت اس سے انتہائی سختی سے نپٹے گی، جس میں شہریوں کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی جانی و مالی و نقصان تو ہوتا جبکہ یہ بھی توقع تھی کہ فوری طور پر صوبائی حکومت کا تیا پانچہ بھی ہو جاتا، لہذا تحریک انصاف نے ایک اچھا سیاسی دائو کھیلا۔ اس سیاسی دائو سے کارکنوں کی جان و مال کو وقتی طور پر تحفظ یقینی بنایا گیا، وفاقی حکومت کو ایک سرپرائز بھی دیا جو انتظامات وفاقی حکومت نے کر رکھے تھے، ان کو برقرار رکھنے کے لئے وفاقی حکومت کو اچھا خاصہ مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ تحریک انصاف کے حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ لانگ مارچ کے غبارے سے ہوا نکلی ہے یا نہیں نکلی، اس کا اندازہ چند روز میں ہو جائے گا لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت احتجاج کا اتنا بڑا ہوا کھڑا کرتی ہے اور عین وقت پر اسے موخر کرتی ہے تو اسے اس کا نقصان ہوتا ہے مگر تحریک انصاف عجب سیاسی جماعت پاکستان افق سیاست پر ابھری ہے کہ اس کے قائدین جیسے ہی اعلان کرتے ہیں، کارکن دوبارہ لبیک کہتے ہوئے ان کے ہمرکاب نظر آتے ہیں لہذا یہ کہنا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ ان کی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے، بظاہر غیر حقیقی دکھائی دیتا ہے۔ لانگ مارچ کا فیصلہ بھی درحقیقت خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا ہے، جبکہ عمران خان کی جانب سے سٹریٹ موومنٹ کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، لیکن نجانے کیوں سہیل آفریدی سٹریٹ موومنٹ کی بجائے لانگ مارچ پر تلے ہیں ؟۔ بہرحال اس لانگ مارچ کے دوبارہ شروع ہونے میں بھی زیادہ وقت باقی نہیں رہا اور اگلے چند دن میں توقع یہی ہے کہ سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کو لے کر نکلیں گے، بشرطیکہ وہ اپنی نشست پر برقرار رہے۔ اس حوالے سے اپنی گزشتہ تحریر میں تفصیل کے ساتھ بتا چکا ہوں کہ وہ کون سے تین ممکنہ حل وفاقی حکومت کے پاس موجود ہیں ،جن سے سہیل آفریدی سے جان چھڑائی جا سکتی ہے، یعنی گورنر راج کا امکان، عدالتوں سے ان مقدمات میں سہیل آفریدی کی نااہلی جن میں ان کو اب نامزد کیا جا چکا ہے، یا پھر عدم اعتماد یا وفاقی آئینی عدالت میں شیر افضل مروت کی دائر کی گئی رٹ، جس میں سہیل آفریدی کا نامزدگی بطور وزیر اعلی ایک سزا یافتہ قیدی کی مرہون منت قرار دے کر، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ جہاں تک بات ہے سہیل آفریدی کی نااہلی بذریعہ عدالت، وہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت عدالتوں کا رویہ تحریک انصاف کی جانب کیسا ہے اور کس طرح تحریک انصاف کے کارکنوں و قائدین کے خلاف عدالتیں بروئے کار آرہی ہیں، نو مئی کے مقدمات میں نامزد کردہ وہ ملزمان، جنہوں نے پریس کانفرنسز کر کے اپنی وابستگی تحریک انصاف سے الگ کرلی، وہ تمام دودھ کے دھلے ہو گئے اور جن کی وابستگی آج بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہے، وہ ہنوز اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں، تو سہیل آفریدی کیسے ان سے الگ ہو سکتے ہیں؟، اگر سہیل آفریدی لانگ مارچ اور احتجاج پر مصر رہے تو ممکنہ طور پر عدالتی کارروائی کے نتیجہ میں انہیں نااہل قرار د ے کر، ان سے جان چھڑوائی جا سکتی ہے۔ بالفرض، جس کا امکان انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے، سہیل آفریدی کو مقدمات میں سزا نہیں دی جاتی تو دوسری صورت شیر افضل مروت کی رٹ پٹیشن کے نتیجہ میں سامنے آ سکتی ہے، لیکن دونوں صورتوں میں ان کی نااہلی عدالتوں سے ہی ہو گی، البتہ مقدمہ کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ رہی بات عدم اعتماد ووٹ کی، تو اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کا امکان انتہائی کم ہے، لیکن اگر ایسی کوئی تحریک صوبائی اسمبلی میں آتی بھی ہے تو تب بھی تحریک انصاف کو کوئی فکر اس لئے نہیں کہ بہرحال وزیر اعلیٰ تحریک انصاف کا ہی ہو گا البتہ وزیر اعلی کے لئے مشکل یہ ہو گی کہ وہ کوئی کھیل کھیلنے کے قابل ہو گا بھی یا نہیں، کیا وہ مقتدرہ کی خواہشات کے مطابق چلے گا یا وزارت اعلیٰ کا تاج پہنانے والے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اس سے اسی طرح کا جارحانہ رویہ روا رکھنے کی توقع کریں گے یا اس کو یہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کریں گے؟، اس صورت میں اس ساری مشق کا کیا فائدہ ہو گا؟۔
اب سب سے اہم معاملہ، جس کے لئے مسلسل راہ ہموار کی جارہی ہے، یعنی گورنر راج کی، گورنر کے پی مسلسل اپنے بیانات میں اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صدر و وزیر اعظم گورنر راج کا اعلان کرتے ہیں تو وہ صوبے کی قیادت سنبھال لیں گے تو دوسری طرف وہ خود اپنے پائوں پر کلہاڑی بھی مار رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی تیاری ہی نہیں، مزید یہ کہ تحریک انصاف 4اکتوبر کو بھی لانگ مارچ کرنے کے قابل نہیں ہے، تو اس صورت میں گورنر راج لگانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ البتہ اس حوالے سے وفاقی وزراء بالخصوص وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت برائے داخلہ کی جانب سے صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے خلاف زہر اگلا جارہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے میں بالعموم اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی بالخصوص کرنے میں ناکام ہے۔ وزیر اطلاعات نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ درحقیقت وہ برسوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف دراصل طالبان پاکستان کی بی ٹیم ہے، جبکہ حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ جس کو تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے ایک ٹاک شو میں دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اعدادوشمار کے مطابق عمران خان کے دور میں دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی ہوئی تھی، جبکہ پی ڈی ایم کی حکومت میں اس کا گراف بہت بڑھ چکا ہے ، جس کی تصدیق ایک عالمی ادارے کے اعدادوشمار سے بھی ہورہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ شوکت یوسفزئی نے یہ بھی کہا کہ سرحدوں کی حفاظت تو سیکیورٹی فورسز کے اداروں کے پاس ہے اور جیسے کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی میں افغان شہری ملوث ہیں تو سوال تو یہ ہے کہ افغان شہری کس طرح پاکستان کی سرحد عبور کرتے ہیں؟، کیا یہ سیکیورٹی فورسز کی ناکامی نہیں کہ وہ اپنے فرائض ٹھیک طریقے سے انجام نہیں دے پا رہے اور افغان دہشت گرد، ان کے سرحدوں پر موجود ہونے کے باوجود پاکستان میں کیسے داخل ہو جاتے ہیں؟۔ علاوہ ازیں کے پی حکومت اور پولیس کی جانب سے یہ اعتراض بھی مسلسل کیا جاتا ہے کہ کے پی پولیس اپنی جانوں پر کھیل کر ان دہشت گردوں کو گرفتار کرتی ہے، لیکن سیکیورٹی فورسز کے افراد، ان کو اپنے اثاثے بتا کر، ان دہشت گردوں کو چھڑوا کر لے جاتے ہیں، اس پس منظر میں صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے کیسے اور کیونکر ان دہشت گردوں سے نپٹ سکتے ہیں؟۔ بہرحال وفاقی وزراء کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف دی جانی رقوم کے حوالے سے بھی الزامات لگائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اس رقم سے صوبے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی بجائے، ذاتی جیبیں بھر رہی ہے اور سیکیورٹی کے انتظامات نہیں کر رہی، مطلب یہ کہ اس وقت قومی سطح پر اس تاثر کو ابھارنے کی بھرپور کوشش جاری ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف بروئے کار آنے میں بری طرح ناکام ہے، لہذا اس دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو برطرف کرنا عین ملکی مفاد میں ہے، جبکہ امن و امان کی جو صورتحال دوسرے صوبوں میں ہے، اس پر کسی کو کوئی فکر نہیں خواہ پوری پوری ریل گاڑی اغوا ہو جائے۔ بہرحال خبریں یہ بھی ہیں کہ لانگ مارچ کے حوالے سے ’’ حکمران‘‘ بذریعہ وفاقی حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں یہ مطالبات کر رہے ہیں کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کیا جائے، پولیس ایکٹ میں ترمیم واپس لی جائی، پولیس کو تمام اختیارات واپس دئیے جائیں، ریاستی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کی جائے او رہر پالیسی پر آمنا و صدقنا کہا جائے، جسے باالفاظ دیگر’’ مائی وے یا ہائی وے‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے، تحریک انصاف اس پر اتفاق کرتی ہے یا نہیں اس کا اندازہ سہیل آفریدی کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے جو ابھی تک لانگ مارچ کے لئے بضد ہیں۔





