مکہ دفاعی معاہدہ: مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر نئی چال

مکہ دفاعی معاہدہ: مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر نئی چال
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
اگست کی شدید گرمی میں مکہ مکرمہ کی پرنور فضاں میں ایک ایسی سفارتی اور عسکری پیش رفت ہوئی ہے جس نے عالمی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ 7اگست 2026ء کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ایک تاریخی ’’ مشترکہ دفاعی معاہدے ‘‘ پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ مکہ میں طے پایا اور اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ محض حکمرانوں کی روایتی ملاقات نہیں تھی، بلکہ اسلامی دنیا کی تین بڑی طاقتوں کا ایک ایسا اتحاد تھا جس نے خطے کی سیاست کا رخ موڑ دیا ہے۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خلیج میں کام کرنے والا ہر مزدور، ہر دکاندار اور ہر تارکِ وطن ایک نامعلوم خوف کا شکار ہے۔ جب حوثی باغیوں کے ڈرون سعودی تیل کی تنصیبات پر گرتے ہیں تو صرف تیل نہیں جلتا، بلکہ کراچی اور استنبول میں بیٹھے غریب خاندانوں کے چولہے بجھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
مسلم ممالک اب اپنی بقا اور سلامتی کے لیے مغرب اور خصوصاً امریکہ کی کھوکھلی ضمانتوں پر انحصار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51کے تحت اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے، ان تینوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کا بوجھ خود اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ سفارتی سطح پر اسے ایک خالصتاً دفاعی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کی ٹائمنگ اور اس میں شامل ممالک کا وزن عالمی بساط پر ایک بہت بڑا پیغام ہے۔ یہ خشک سیاسی تجزیوں سے بالاتر ایک انسانی مسئلہ بھی ہے، کیونکہ جب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کی سب سے بھاری قیمت عام شہری کو مہنگائی، بے روزگاری اور خوف کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔
اس اتحاد کی بنیادیں تین مختلف لیکن ایک دوسرے کے لیے ناگزیر طاقتوں پر استوار ہیں۔ سعودی عرب کے پاس بے پناہ دولت اور توانائی کی منڈیوں کا کنٹرول ہے۔ ترکیہ کے پاس جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی اور نیٹو کا وسیع تجربہ ہے۔ جبکہ پاکستان کے پاس ایک بی پناہ روایتی عسکری قوت موجود ہے۔ اس انوکھے ملاپ کی سب سے بڑی وجہ 2026ء کے اوائل میں مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی وہ کشیدگی تھی، جس نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ ڈیٹرنس قائم کرنا ہے۔ نیٹو کے آرٹیکل 5کی طرز پر یہ پیغام ہے کہ سعودی عرب یا ترکیہ پر حملہ تین محاذوں پر جنگ تصور ہوگا۔ تاہم رائٹرز کے مطابق مشترکہ بیان میں فوجی ذمہ داریوں کی کوئی تفصیل نہیں اور نہ ہی کوئی مشترکہ فوجی ہیڈکوارٹر ہے۔ یہی دانستہ اسٹریٹجک ابہام سفارتی ہتھیار ہے جو دشمن کو مہم جوئی سے قبل سو بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔ یہ ابہام جان بوجھ کر رکھا گیا ہے تاکہ بوقتِ ضرورت ہر ملک اپنے حالات کے مطابق فیصلہ کر سکے۔
سعودی عرب اس اتحاد میں ایک مالیاتی اور نظریاتی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہونے کے ناطے ریاض کا اثر و رسوخ بے مثال ہے۔ لیکن پچھلے چند برسوں میں سعودی عرب نے اپنی سلامتی کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا کیا ہے۔ جب یمن اور عراق سے آنے والے ڈرون حملوں نے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا، تو ریاض کی سڑکوں پر چلنے والے عام شہریوں نے براہ راست اس عدم تحفظ کو محسوس کیا۔ سعودی حکومت اپنے وژن 2030کی تکمیل کے لیے ہر صورت خطے میں امن چاہتی ہے، اور یہ معاہدہ اسی معاشی و سماجی خواب کو بیرونی حملوں سے بچانے کی ایک مہنگی لیکن ناگزیر انشورنس پالیسی ہے۔
ترکیہ کی شمولیت اس معاہدے کو محض ایک علاقائی بلاک سے نکال کر ایک جدید ٹیکنالوجیکل اتحاد میں بدل دیتی ہے۔ ترک دفاعی صنعت نے حالیہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی اور فضائی دفاع میں جو کمالات دکھائے ہیں، وہ مغربی دنیا کے لیے بھی حیران کن ہیں۔ سعودی عرب ترکیہ کے ڈرونز کا بڑا خریدار ہے۔ انطالیہ سے لے کر ریاض تک یہ بات سمجھی جا رہی ہے کہ اپنا دفاع تبھی ممکن ہے جب ہتھیار بھی اپنے ہوں۔ ترکیہ کے لیے یہ صرف سفارت کاری نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی معاشی لائف لائن ہے جس سے عام شہری کو روزگار ملے گا۔
پاکستان اس تکون کا وہ بازو ہے جو افرادی قوت اور عسکری تجربے سے لیس ہے۔ پاکستان کی شمولیت سے طاقت کا توازن بدلا ہی۔ اگرچہ یہ کوئی ایٹمی چھتری فراہم کرنے کا معاہدہ نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کی بنیادی توجہ بھارت پر مرکوز رہتی ہے اور اس نے خود کہا تھا کہ ایٹمی ہتھیار ’’ ریڈار پر نہیں ‘‘، لیکن پھر بھی اس سے مخالفین کے ذہنوں میں خوف ضرور پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کے ہزاروں فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ایک عام پاکستانی کے لیے اس اتحاد کا مطلب خلیج میں روزگار کے مواقع کا تحفظ اور ملک کے لیے زرمبادلہ کا حصول ہے۔
اسٹریٹجک لحاظ سے امریکی اور عالمی منظر نامے پر اس معاہدے کے اثرات انتہائی گہرے ہیں۔ واشنگٹن بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی واحد چوکیدار کے کردار سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی خود اپنا دفاع کریں تاکہ وہ اپنی تمام تر توجہ چین کے خلاف ایشیا پیسیفک خطے پر مرکوز کر سکے۔ اسی لیے واشنگٹن نے اس معاہدے کی مخالفت نہیں کی۔ بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد جب خلیجی ممالک کی سلامتی خطرے میں پڑی تو امریکہ نے خود سعودی عرب کی جانب سے سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے بنائے جانے والے بحری دفاعی اتحاد کی حمایت کی ہے، جس کی ترکیہ اور پاکستان نے بھی تائید کی ہے۔ یہ امریکہ کی نئی پالیسی ہے کہ وہ براہ راست جنگ میں الجھنے کے بجائے علاقائی اتحادیوں کو مضبوط کرے۔
دوسری جانب عالمی طاقتوں کے توازن کے تناظر میں دیکھا جائے تو روس کے لیے یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔ روس ہمیشہ سے ایران، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ماسکو ایران کو ہتھیار دیتا ہے، ترکیہ کے ساتھ توانائی اور سیاحت کے معاہدے کرتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر اوپیک پلس میں تعاون کرتا ہے۔ لیکن جب خلیجی ممالک نے یوکرین سے دفاعی ٹیکنالوجی کے معاہدے کیے اور اب ماسکو کو دیوار پر لکھا پڑھنا پڑ رہا ہے کہ خلیجی ریاستیں اب عملیت پسندی پر یقین رکھتی ہیں اور کسی ایک طاقت کے رحم و کرم پر نہیں رہنا چاہتیں۔
مکہ دفاعی معاہدہ 21ویں صدی کی سفارت کاری میں ایک بڑا بھونچال ہے۔ اس نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اب واشنگٹن یا ماسکو کے کنٹرول سے باہر نکل چکی ہے۔ اس اتحاد کی اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ یہ ممالک اپنے اختلافات کو کیسے سنبھالتے ہیں۔ لیکن سب سے اہم کردار عام انسان کا ہے، جس کی واحد خواہش ہے کہ یہ اتحاد جنگ روکے نہ کہ ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے۔







