آقا میری کیا غلطی تھی ؟

آقا میری کیا غلطی تھی ؟
تجمّل حسین ہاشمی
ایران پوری دنیا کے سامنے کھڑا ہے، گزشتہ سالوں سے حالات سب کے سامنے ہیں۔ یقینا آپ ایران کے رضا شاہ پہلوی کو بھی جانتے ہوں گے، 26اپریل 1926ء کو ایران کے تخت پر بیٹھا تھا، ایک روشن خیال جیسے صدر مشرف مرحوم تھے لیکن ایرانی قوم نے اسے مسترد کر دیا۔ عوام سڑکوں پر آ گئے تھے، اس نے فوج ، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے عوام کے احتجاج کو روکنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن شاہ ایران کی تمام کوشش کے بعد عوامی احتجاج میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ رضا شاہ کو ملک سے فرار ہونا پڑا اور وہ مصر چلا گیا، آخری زندگی بھی وہی گزاری۔ ہماری پڑوسن حسینہ واجد بھی اپنے ملک سے بھاگ نکلی ہے، کیوں کہ عوام کے سمندر کے آگے کوئی نہیں رک سکتا۔ چند روز پہلے کاکروچ جنتا پارٹی مودی کو بھی بھگا دیتی، لیکن مودی تھوڑی عقلمندی کر گیا۔ ہمارے ہاں بھی وزیر داخلہ نے نظام کی ناکامی کو تسلیم کیا اور نوجوانوں کے حوالے سے الرٹ جاری کیا۔ اس پر آخر میں تجزیہ کروں گا۔
مصر میں شاہ ایران کا استاد رہتا تھا جس کے ساتھ بیٹھ کر وہ اپنے اچھے دنوں کی باتیں شیر کر کے خوش ہوتا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے استاد سے پوچھا کہ آقا آپ میری غلطی بتا سکتے ہو، جس کی وجہ سے مجھے زوال پذیر ہونا پڑا۔ استاد نے تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی اور کہا ’’ عوام ‘‘۔ رضا شاہ نے پوچھا کہ مجھے سمجھ نہیں آئی۔ استاد نے کہا جب عوام کسی لیڈر کو پسند کرتے ہیں تو وہ خوش نصیبی کی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے، اور جب عوام کسی حکمران کے خلاف ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بے عزت، تباہ ہونے سے نہیں روک سکتی۔ ہمارے ہاں ایسے لیڈروں کی مثالیں موجود ہیں۔ آقا نے اسے کہا ’’ آپ نے اقتدار کے نشے میں وہی غلطی کی جو اکثر آمر کرتے ہیں۔ آپ نے عوام کی مخالفت کو ڈنڈے سے روکنے کی کوشش کی اور آپ ناکام ہو گئے۔ عوام کی نفرت کے سیلاب کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ رضا شاہ نے اداس ہو کر دوبارہ پوچھا ’’ مجھے کیا کرنا چاہئے تھا ‘‘۔ آقا نے ذرا سوچ کر جواب دیا ’’ آپ کو عوام کی مان لینی چاہے تھی، آپ دربدر نہ ہوتے۔ استاد نے اس کے بعد تاریخی الفاظ کہے، جو شاہ ایران نے وصیت کی تھی کہ میری قبر کے کتبے پر تحریر کر دئیے جائیں۔ شاہ ایران کے استاد نے کہا ’’ دنیا کے نوے فیصد حکمران دشمنوں کے بجائے اپنی ضد اور اپنی انا کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں‘‘ ۔
اب آپ خود بتائیں کہ ہماری حکومت اور ہمارے لیڈر اس وقت کہاں کھڑے ہیں، فیصلہ سازوں نے جو فیصلے کئے ہیں کیا پاکستانی عوام ان فیصلوں کو دل سے تسلیم کرتے ہیں ؟ یہ اہم فکری بات ہے جس کو پس پشت ڈالا گیا کہ عوام کیا چاہتے ہیں، حکومتوں کو گھر بھیجنے کا سلسلہ نہ رک سکا، عوام کا استحصال نہ روک سکا، پڑوس میں نئی نسل سڑکوں پر اپنے حقوق کیلئے کھڑی ہے، ہمارے وزیر داخلہ نے صاف کہہ دیا ہے کہ یہ نظام نہیں چل سکتا ، جناب محسن نقوی صاحب بخوبی آگاہ ہیں کہ نظام کو زخمی کرنے والے کون ہیں۔ کیا محسن نقوی صاحب نے ایک بار پھر عوام کو ٹھنڈا کیا ہے، کیا پھر بڑی سطح پر تبدیلی کی آوازیں ہیں، صوبوں کے معاملہ پر سیاسی جماعتوں کو کیا پریشانی ہے، کون طاقتور ہیں جو غریبوں کے سکون، روزگار اور ان کی تعلیم کے دشمن ہیں۔ جناب اعلیٰ کھل کر بتائیں کہ وہ کون سے خاندان ہیں جنہوں نے 24کروڑ غریبوں کا استحصال کیا ہے، اور یہ سلسلہ ابھی تک کیوں جاری ہے۔ محسن نقوی صاحب آپ نے بہادری کا ثبوت دیا ہے، لیکن ایک کام اور کرتے جائیں، عوام کو بتائیں کہ بلوچستان کے اربوں روپے کون کھا رہا ہے۔ چھ ،چھ بار کون حکومت کرتے رہے، کون لسانیت کو پروان چڑھتے رہے۔ اب محسن نقوی کے استعفے کی باتیں سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں۔ بھلا وزیر داخلہ نے کون سی غلط بات کی ہے، اسٹیبلشمنٹ کئی دہائیوں سے عوام کو ٹھنڈا کرتی رہی ہے، ہر تین سال بعد اقتدار کی تبدیلی نے عوامی امیدوں کو ٹھنڈا رکھا، لیکن ان 77سالوں میں کچھ نہیں بدلا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف اپنے نعروں، وعدوں کی لاج کے لیے کب رضاکارانہ طور پر حکومت سے الگ ہوتے ہیں، عوام ایک بار پھر دیکھ رہے ہیں جمہوریت والے عوامی حق میں کیا فیصلہ کرتے ہیں، شاید اس بار مزید باری نہیں ملے گی، کیوں کہ جو کندھے سہارا دیتے تھے، انہوں نے اس بار فائنل کر لیا ہے کہ یہ معاشی بحران حل کر کے ہی دم لیں گے، خان کی حکومت نا اہل تھی، باقی دونوں کو تو 15سال سے زیادہ وقت میسر رہا۔ ان سالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں۔





