Column

آزاد کشمیر کے انتخابات، عوامی مینڈیٹ اور جمہوریت کا امتحان

آزاد کشمیر کے انتخابات، عوامی مینڈیٹ اور جمہوریت کا امتحان
غلام مصطفیٰ جمالی
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات ہمیشہ سے پاکستان کی قومی سیاست میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ انتخابات صرف ایک خطے میں حکومت سازی کا عمل نہیں ہوتے بلکہ ملک میں جمہوری روایات، انتخابی شفافیت اور سیاسی برداشت کا بھی پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔ حالیہ انتخابات کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی ماحول اس وقت گرم ہو گیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بعض حلقوں کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کیے اور چوہدری یاسین کے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو عوامی مینڈیٹ قرار دیا۔ اس صورتحال نے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں انتخابی عمل کی شفافیت اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
جمہوریت کی بنیاد عوام کے ووٹ پر قائم ہوتی ہے۔ جب شہری پولنگ اسٹیشن تک جا کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں تو وہ دراصل اپنے مستقبل، اپنے نمائندوں اور اپنے سیاسی نظام پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر انتخابی نتائج کے بعد بڑی سیاسی جماعتیں دھاندلی، بے ضابطگی یا نتائج میں ردوبدل کے الزامات لگائیں تو اس سے صرف ایک جماعت یا ایک حلقہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورے جمہوری نظام پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں انتخابی تنازعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ان کے حل کے لیے آزاد اور غیر جانبدار اداروں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کیا گیا، جعلی مہریں لگائی گئیں اور اس حوالے سے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے تاکہ اصل عوامی مینڈیٹ سامنے آ سکے۔ یہ ایک سیاسی مقف ہے جس کی حقیقت کا تعین صرف متعلقہ انتخابی ادارے، الیکشن ٹریبونلز اور عدالتیں ہی شواہد کی بنیاد پر کر سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر الزامات درست ثابت نہ ہوں تو انہیں بھی واضح طور پر مسترد کیا جانا چاہیے تاکہ عوام میں پھیلنے والی بے یقینی ختم ہو۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ انتخابی نتائج پر اعتراضات کوئی نئی روایت نہیں۔ تقریباً ہر عام انتخاب کے بعد کسی نہ کسی جماعت نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کبھی پولنگ کے دوران بے ضابطگیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، کبھی نتائج کی ترسیل پر اعتراض سامنے آتے ہیں اور کبھی ووٹوں کی گنتی پر اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ اس مسلسل صورتحال نے انتخابی اصلاحات کی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ اگر ہر انتخاب کے بعد تنازعات جنم لیتے رہیں تو عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے اور جمہوری ادارے بھی دبا کا شکار ہو جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت اسے دیگر صوبوں سے مختلف بناتی ہے۔ اس خطے کے انتخابات پر نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ اسی لیے وہاں ہونے والے ہر انتخاب کا شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر کسی حلقے میں واقعی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کا فوری اور غیر جانبدارانہ ازالہ ہونا چاہیے، کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
یہاں ایک اہم پہلو سیاسی جماعتوں کا طرزِ عمل بھی ہے۔ جمہوریت میں کامیابی اور ناکامی دونوں کو برداشت کرنا سیاسی بلوغت کی علامت ہوتی ہے۔ اگر کسی جماعت کے پاس شکایات ہیں تو اسے آئینی راستہ اختیار کرنا چاہیے، جبکہ کامیاب جماعت کو بھی تحقیقات سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ شفاف تحقیقات سے اگر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو انتخابی نتائج مزید مضبوط ہو جاتے ہیں، اور اگر بے ضابطگی ثابت ہو جائے تو اصلاح کا راستہ بھی کھل جاتا ہے۔
پاکستان اس وقت شدید معاشی دبائو، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بحران اور سکیورٹی کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں طویل سیاسی محاذ آرائی نہ صرف حکومتی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں، کاروباری طبقے اور عام شہریوں کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات آئینی دائرے میں رہتے ہوئے حل کریں اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔
انتخابی اداروں کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اگر وہ شکایات کا بروقت نوٹس لیں، شواہد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور قانون کے مطابق فیصلے کریں تو نہ صرف موجودہ تنازع ختم ہو سکتا ہے بلکہ آئندہ انتخابات کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم ہو سکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، انتخابی اصلاحات، نتائج کی شفاف ترسیل اور موثر نگرانی جیسے اقدامات مستقبل میں ایسے تنازعات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سیاسی قیادت کو بھی اپنی زبان اور رویے میں احتیاط اختیار کرنی چاہیے۔ عوام اپنے رہنمائوں سے تحمل، بردباری اور آئینی راستے کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر سیاسی اختلافات کو اشتعال انگیز بیانات یا سڑکوں پر تصادم کی طرف لے جایا جائے تو نقصان پورے نظام کو ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اختلافات کو اداروں کے ذریعے حل کیا جائے تو یہی عمل جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر یہ سبق دیا ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ ووٹ کے احترام، شفاف انتخابی عمل اور عوامی اعتماد کے تحفظ کا نام ہے۔ اگر ہر شہری کو یقین ہو کہ اس کا ووٹ ایمانداری سے شمار ہوا ہے تو جمہوری نظام مضبوط ہوگا، سیاسی استحکام بڑھے گا اور ریاستی اداروں پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
آج پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو الزام تراشی سے زیادہ اصلاحات پر توجہ دے، محاذ آرائی سے زیادہ مکالمے کو فروغ دے اور سیاسی مفادات سے بڑھ کر قومی مفاد کو اہمیت دے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد سامنے آنے والا تنازع بھی اسی سوچ کا متقاضی ہے کہ تمام فریق قانون، آئین اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے اپنے موقف کو متعلقہ اداروں کے سامنے رکھیں۔ مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں فیصلے جذبات سے نہیں بلکہ شواہد، قانون اور انصاف کی بنیاد پر کیے جائیں۔ یہی راستہ عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور پاکستان کے جمہوری مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button