سیاسی بے روزگار، ذہنی مریض اور رہبر خطاوار

سیاسی بے روزگار، ذہنی مریض اور رہبر خطاوار
عبد الحنان راجہ
ہمارے ہاں کچھ جائز باتیں بھی کہنے کا یارا نہیں، مگر زبان و بیاں کی بے لگام اور مادر پدر آزادی جتنی ہمارے ہاں ہے، اتنی کہیں نہیں۔ ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ ہمارے عوام کے آئیڈیل ممالک دبئی، قطر، چین، برطانیہ، امریکہ، فرانس سعودیہ وغیرہ میں اس سے آدھے ہتک آمیز جملے کی بھی اجازت ! ممکن ہے؟، جو ’ عزت مآب ‘ مولانا فضل الرحمان اور پھر محترمہ نورین صاحبہ نے کہے۔ افسوس ہم اس ملک میں رہ اور اس کا کھا کر اسی مادر وطن اور اس کی خاطر لہو دینے والوں پر طعن و تشنین کے تیر برسا کر اپنی انا کی تسکین پاتے ہیں۔ وطن کے خلاف ہر بات سنتے، کہتے اور اسے برداشت کرتے کرتے اس حد تک آ چکے کہ زبان درازی شہدا کے مقدس خون تک ! مولانا پر تنقید مقصد ہے اور نہ بات کو طول دینا مقصود۔ مدعا آداب کے دائرے میں رہ کر توجہ دلانا۔ مولانا کے طرز تخاطب اور سمجھ داری کے دوست، دشمن سبھی قائل۔ کہ تنقید میں بھی انہوں نے شائستگی، احتیاط اور گفتگو کے اسلوب کو کبھی بالائے طاق نہیں رکھا۔ انکا طرز تخاطب قابل داد رہا۔ مگر قصور میں ان سے قصور ہوا مگر وہ اسے ماننے کو تیار نہیں !!!
مولانا کے اس وصف سے انکار نہیں کہ موجودہ بندوبست کے علاوہ ماضی قریب سے ماضی بعید تک وہ ہر حکومت سے اپنی سیاسی حیثیت سے کہیں زیادہ نچوڑتے حتی کہ مشرف دور میں باوجود اپوزیشن میں ہونے کے، اقتدار کے ایوانوں میں ان کا طوطی بولتا۔ ناقدین اس پر تنقید کر سکتے ہیں مگر سیاست کوئی مسجد کی امامت تو پے نہیں کہ اس سے کشید نہ کیا جائے، بہرحال میں اسے مولانا کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی ہی قرار دیتا ہوں کہ باوجود محدود مینڈیٹ کے انہوں نے خود کو ہر دور میں حکومت کی کمزوری بنائے رکھا۔ پی ٹی آئی کو کم از کم مولانا کی اس سیاسی حکمت سے سبق سیکھنا چاہئے۔ یہ حقیقت کہ مولانا نے تلخیوں، الزامات اور لاتعداد مسائل کے باوجود سیاست میں عملیت پسندی کی بنیاد رکھی۔ تلخ سوالوں کا جواب مسکراتے چہرے یا کسی پھلجڑی سے دیکر تنائو کے ماحول کو ختم کرنے کے فن سے آشنا حضرت کبھی سیاسی اختلافات پر ڈٹے نہیں اور ہمیشہ اس سے راہ بنائی۔ انہوں نے کبھی اپنے مخالفین کے لیے بھی تضحیکانہ گفتگو کی اور نہ مستقل سیاسی دشمنیاں پالیں۔ وہ گرم و سرد چشیدہ سیاست دان کہ حکومت میں رہ کر بھی اپوزیشن اور اپوزیشن لیڈر ہو کر بھی حکومت کے مزے لیے۔ یہ ان کی سیاسی بصیرت ہی تو تھی کہ ہر حکومت ان سے مشاورت کرتی اور ہر وزیر اعظم اسمبلی میں انہیں اپنے قرب میں بٹھانے کو ’ سہولت ‘ محسوس کرتا۔ کچھ مولانا پر خاندان کو نوازنے کا الزام لگاتے ہیں، درست ۔ مگر جب یہ بندر بانٹ ہماری رواج سیاست میں معیوب نہیں تو مولانا سے درگزر ہی بہتر۔
قصور والا قصوری بیان تادم مرگ مولانا کا پیچھا کرتا رہے گا گر چہ ان کی جماعت مولانا پر نقد و جرح کرنے والوں کو خوب آڑے ہاتھوں لے رہی ہے اور مولانا بھی اپنی منطقی صلاحیتوں سے ہر وار بچاتے چلے جا رہے ہیں مگر کبھی کبھی زبان سے نکلی ہلکی بات گلے کی ہڈی بن جاتی ہے۔
اس بات کے کچھ اسباب تو ہوں گے۔ ممکن ہے کہ وہ عمران خان جیسا اسلوب اختیار کر کے اس کمی کو پورا کرنا چاہتے ہوں مگر مولانا تو صاحب بصیرت اور کپتان کے برعکس بولنے سے پہلے تولنے کے قائل اور سیاسی حکمت رکھنے والے مذہبی کم سیاسی راہنما۔ ان سے ایسی بے سر و پا بات کی توقع تو ممکن نہ تھی۔ یہ بھی ممکن ہے گزشتہ پچیس، تیس سالوں میں پہلی بار وہ سیاسی بیروزگار ہوئے قلق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پی پی نے گزشتہ برس ہی ترامیم کے موقع پر انہیں استعمال کر کے اب تنہا چھوڑ دیا تو قصور میں مدتوں اندر پکتا لاوا نامناسب بیان کی صورت میں نکلا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی مولانا پہ اعتبار نہیں کرتی تو JUIبھی کھلاڑیوں کو قبول کرنے سے عاجز۔
مولانا کی خدمت میں دست بستہ عرض کہ حضور آپ بھی تو اسمبلی میں عوامی خدمت کی کٹھن مشقت کا عوضانہ 7 لاکھ اور پھر مفت فضائی ٹکٹ، سرکاری علاج وغیرہ کی سہولیات جو کاغذوں میں درج، باقی ھم کشمیر کمیٹی، اپوزیشن لیڈر اور اپنے سیاسی جوبن کے دور کا حساب کتاب، شاندار پروٹوکول۔ بیرونی دورہ جات، پرتعیش ماحول کا ذکر تو کرتے نہیں کہ وہ ماضی کا حصہ اور ’ یاد ماضی عذاب ہے یا رب‘۔
میری بیان کردہ وجوہات سے اختلاف ممکن ہے مگر ملک اور خطہ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت اور مولانا کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹ جانا چاہیے مولانا بیان پر ڈٹ جانے سے اور حکومت مزید تحقیر و تنقید سے۔ حضرت غصہ تھوکیے، حکومت سے نہیں شہدا کے ورثا سے دل آزارانہ بیان پر معذرت کیجیے کہ یہ معافی آپ کے قد کاٹھ کو اونچا ہی کرے گی کہ شہدا کے ورثا بڑے ظرف والے ہوتے ہیں اور کشادہ دل بھی۔
باقی رہی محترمہ نورین صاحبہ کی بات تو اس پر کلام کسی بھی باشعور کو زیبا نہیں کہ ذہنی مریضوں کی باتوں کے جواب کا مطلب ادب آداب کو جاہلانہ اسلوب میں بدلنا ! انہی بے سر و پا بیانات کے شور شرابے کے دوران حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کا عمل شروع کر کے عوام کی راتوں کی نیندیں جو پہلے ہی بجلی بلوں اور لوڈشیڈنگ نے اڑا رکھی تھیں کو تازیانہ لگایا ہے۔ پہلے ہی ہفتہ واری بنیادوں پر ہونے والے اتار چڑھائو کے اثرات کا رولا تھا کہ رات 12بجے پٹرول مہنگا ہونے پر مرغیاں صبح کے انڈے مہنگا کر دیتیں۔
ساحر لدھیانوی کی زبان میں عوامی جذبات جمہوریت کے نام پر پلنے والوں کی نذر:
آئو کہ آج غور کریں !اس سوال پر
دیکھے تھے ہم نے جو حسیں خواب کیا ہوئے ؟
دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا؟
خوشحالی عوام کے ! اسباب کیا ہوئے۔
کیا مول لگ رہا پے شہیدوں کے خون کا
مرتے تھے جن پہ ہم ، وہ سزا یاب کب ہوئے
مجرم ہوں میں اگر ، تو گناہ گار تم بھی ہو
اے رہبران قوم ! خطاوار تم بھی ہو





