جنگ ہارے گی، امن جیتے گا

جنگ ہارے گی، امن جیتے گا
اس وقت دنیا ایسے دوراہے پر ہے، جہاں ایک غلط فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی برادری کو سنگین بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں، سخت بیانات اور طاقت کے مظاہروں نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا دنیا ایک اور طویل اور تباہ کن جنگ کی متحمل ہوسکتی ہے؟ ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی معاشی بحران، مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی، توانائی کے مسائل اور انسانی المیوں سے دوچار ہے، کسی نئی جنگ کا آغاز درحقیقت پوری انسانیت کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب جنگ کے بجائے امن کو موقع دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ ایران کے مطابق مذاکرات کاروں کی جانب سے دس روزہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر ایران سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو امریکا سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔ یہ بیانات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگرچہ میدان میں طاقت کا اظہار جاری ہے، لیکن دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ یہی وہ روزن ہے جس سے امن کی روشنی اندر آسکتی ہے، بشرطیکہ فریقین سیاسی بصیرت، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنگیں کبھی مستقل حل فراہم نہیں کرتیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے لے کر ویت نام، افغانستان، عراق اور شام تک دنیا نے دیکھا کہ جنگوں نے صرف تباہی، بے گھر افراد، معاشی بدحالی اور نفسیاتی بحران پیدا کیے۔ بالآخر ہر جنگ کے بعد فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑا۔ اگر انجام مذاکرات ہی ہیں تو پھر آغاز بھی مذاکرات سے کیوں نہ کیا جائے؟ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، لیکن ان اختلافات کے باوجود مختلف ادوار میں سفارت کاری نے کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2015ء کا جوہری معاہدہ اس بات کا ثبوت تھا کہ شدید اختلافات رکھنے والے ممالک بھی بات چیت کے ذریعے مشترکہ راستہ نکال سکتے ہیں۔ اگر ماضی میں یہ ممکن تھا تو آج بھی ناممکن نہیں۔ ضرورت صرف سیاسی عزم، اعتماد سازی اور ایسے ماحول کی ہے جہاں دھمکیوں کے بجائے دلائل کو ترجیح دی جائے۔ اس تمام صورت حال میں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سفارت کاری اور مکالمے میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ دیگر علاقائی تنازعات میں بھی مسلسل یہ مقف اختیار کیا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر بھی مثبت انداز میں دیکھا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستانی قیادت نے مختلف عالمی رہنماں سے رابطے کیے، کشیدگی کم کرنے پر زور دیا اور یہ پیغام دیا کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان ہر ممکن تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ پاکستان کا دورہ بھی دونوں برادر ممالک کے قریبی تعلقات اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور موجودہ صورت حال پر بھی تبادلۂ خیال ہونا اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ہمسایہ ملک ہی نہیں بلکہ امن کے لیے ایک سنجیدہ سفارتی مرکز کے طور پر بھی اپنی ذمے داریاں نبھا رہا ہے۔ پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ماضی میں اس نے مسلم دنیا اور خطے میں کئی مواقع پر مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ یہی تجربہ آج بھی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات اور امریکا کے ساتھ سفارتی روابط اسے ایک ایسا منفرد مقام دیتے ہیں جہاں وہ اعتماد سازی میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگر دونوں فریق سنجیدگی سے مذاکرات کی طرف قدم بڑھائیں تو پاکستان ثالثی، رابطہ کاری اور ماحول ساز سفارت کاری کے ذریعے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔آج عالمی معیشت پہلے ہی بے یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، سمندری راستوں پر خطرات اور سپلائی چَین متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ اگر یہ راستہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کے ممالک، بالخصوص ترقی پذیر ریاستیں، شدید معاشی دبا کا شکار ہوں گی۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی مہنگائی، درآمدی اخراجات اور مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، ان پر اس کے اثرات کئی گنا زیادہ ہوں گے۔ جنگ کا ایک اور افسوس ناک پہلو انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ ہر فوجی، ہر شہری، ہر بچہ اور ہر خاندان امن کا حق رکھتا ہے۔ بم اور میزائل صرف فوجی تنصیبات کو نہیں بلکہ انسانی خوابوں کو بھی تباہ کرتے ہیں۔ اسپتال، اسکول، بازار اور گھر بھی جنگ کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوجاتے ہیں اور آنے والی نسلیں خوف، نفسیاتی دبا اور غربت کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ اس لیے جنگ کا فیصلہ کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کی اصل قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔ یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی تصدیق کی ہے اور امریکا نے بھی مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امن کی امید ابھی باقی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، علاقائی طاقتیں اور بااثر ممالک فوری فعال کردار ادا کریں تاکہ جنگ بندی کو عملی شکل دی جاسکے اور مذاکرات کا باقاعدہ عمل شروع ہو۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی متوازن، فعال اور ذمے دار سفارت کاری کو مزید مثر بنائے۔ دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے، اعتماد سازی، کشیدگی میں کمی کے لیے تجاویز اور مذاکراتی عمل کی حمایت پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو مزید مضبوط بنائے گی۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور آج بھی دنیا کو ایسے ہی متوازن اور ذمے دار مقف کی ضرورت ہے۔ آخرکار حقیقت یہی ہے کہ جنگیں کبھی فاتح پیدا نہیں کرتیں، بلکہ صرف نقصان اٹھانے والے چھوڑ جاتی ہیں۔ اصل کامیابی اس رہنما کی ہوتی ہے جو اپنے عوام کو جنگ سے نہیں بلکہ امن سے محفوظ مستقبل دے۔ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ دانش مندانہ قیادت، سفارت کاری، برداشت اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ اگر امن کو ایک حقیقی موقع دیا جائے، اگر مذاکرات کو ہتھیاروں پر ترجیح دی جائے اور اگر عالمی برادری اپنی ذمے داری پوری کرے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہوسکتی ہے بلکہ پورا خطہ ایک بڑے سانحے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہ وقت تاریخ کا ایک اور فیصلہ کن موڑ ہے۔ انتخاب صرف دو راستوں میں سے ایک کا ہے، ایک راستہ جنگ، تباہی، مہنگائی اور انسانی المیے کی طرف جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ امن، استحکام، تعاون اور خوشحالی کی جانب۔ دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا دوسرا راستہ اختیار کرے، کیونکہ آنے والی نسلوں کو بارود نہیں بلکہ بہتر مستقبل ورثے میں ملنا چاہیے۔
ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی پر غور
پاکستان اس وقت توانائی کے بحران، مہنگے درآمدی ایندھن، فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں اگر حکومت ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد اور مقامی سپلائی پر عائد 25فیصد سیلز ٹیکس کم کرکے 18فیصد کرنے پر غور کر رہی ہے تو یہ ایک مثبت، بروقت اور دور اندیش فیصلہ ہوگا۔ اس اقدام سے نہ صرف صارفین کو ریلیف ملے گا بلکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ، ایندھن کی بچت اور قومی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ دنیا بھر میں ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ان گاڑیوں پر ٹیکس میں رعایت، سبسڈی اور دیگر مراعات دے رہے ہیں تاکہ عوام ماحول دوست ٹیکنالوجی کو اپنائیں۔ اس کے برعکس اگر ان گاڑیوں پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے تو ان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس سے عام صارف کی رسائی محدود ہوجاتی ہے اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کا فروغ بھی متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دبا پڑتا ہے۔ ہائبرڈ گاڑیاں روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ایندھن استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف صارفین کے اخراجات کم ہوتے ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی تیل کی درآمد میں کمی آسکتی ہے۔ یہ بچت معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہو۔ ماحولیاتی آلودگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بڑے شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث سانس، دل اور دیگر بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہائبرڈ گاڑیاں کم کاربن خارج کرتی ہیں، اس لیے ان کا فروغ صاف ماحول اور بہتر صحت کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ پاکستان نے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیی جو اہداف مقرر کیے ہیں، ان کے حصول میں بھی یہ پالیسی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف سیلز ٹیکس میں کمی تک محدود نہ رہے بلکہ ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی تیاری کی بھی حوصلہ افزائی کرے۔ اگر مقامی صنعت کو سہولتیں فراہم کی جائیں، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے اور چارجنگ انفرا اسٹرکچر بہتر بنایا جائے تو پاکستان اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کر سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وفاقی کابینہ اس تجویز کی جلد منظوری دے گی۔ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی صرف صارفین کے لیے ریلیف نہیں بلکہ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہوگی جو ماحول، معیشت، توانائی کے تحفظ اور مستقبل کی نسلوں کے لیے یکساں طور پر سودمند ثابت ہوگی۔





