پاکستان میں بڑھتی مہنگائی: عوام کی مشکلات اور حکومتی ذمہ داریاں

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی: عوام کی مشکلات اور حکومتی ذمہ داریاں
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان کی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف معاشی استحکام کی کوششیں جاری ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی زندگی مہنگائی کے مسلسل بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے۔ بازاروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، بجلی، گیس اور پٹرول کے نرخ عوام کی قوتِ خرید کو کمزور کر رہے ہیں، جبکہ تنخواہوں اور آمدنی میں وہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آتا جو مہنگائی کی رفتار کا مقابلہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک سماجی، نفسیاتی اور انسانی بحران کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ہر صبح جب ایک مزدور اپنے گھر سے روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے یا ایک سرکاری ملازم اپنی محدود تنخواہ کے ساتھ مہینے کا بجٹ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ مہنگائی کے اصل معنی کیا ہیں۔ دکاندار نئی قیمت بتاتا ہے، سبزی فروش گزشتہ ہفتے سے زیادہ نرخ مانگتا ہے، دودھ، آٹا، گھی، چینی، چاول، دالیں، گوشت، ادویات اور بچوں کی ضروریات سب پہلے سے زیادہ مہنگی ہو چکی ہیں۔ ایسے میں ایک عام شہری کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک مسلسل جدوجہد بن چکا ہے۔
مہنگائی کی کئی وجوہات ہیں اور ان کا تعلق صرف داخلی معاملات سے نہیں بلکہ عالمی معاشی حالات سے بھی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو، درآمدی اشیاء کی لاگت، روپے کی قدر میں کمی، بڑھتے ہوئے قرضے، مالیاتی خسارہ، توانائی کے شعبے کے مسائل اور پیداواری لاگت میں اضافہ سب مل کر قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم ان عوامل کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، کمزور نگرانی اور بعض اوقات ناقص منصوبہ بندی بھی مہنگائی کو مزید شدت دیتی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے۔ ایک امیر شخص شاید قیمتوں میں اضافے کو کسی حد تک برداشت کر لے، مگر محدود آمدنی والا خاندان ہر روز ایک نئے امتحان سے گزرتا ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کا خواب ترک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، کئی مریض علاج موخر کر دیتے ہیں، بعض گھرانوں میں غذائیت کی کمی پیدا ہو جاتی ہے اور کچھ لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال صرف معاشی نہیں بلکہ انسانی المیہ بھی ہے۔
تنخواہ دار طبقہ خاص طور پر شدید دبا میں ہے۔ سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کی آمدنی محدود ہے، جبکہ ان کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مکان کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی فیس، سفری اخراجات اور روزمرہ خریداری سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے خاندان مہینے کے آخری دنوں میں شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دیہی علاقوں کے حالات بھی کم پریشان کن نہیں۔ کسانوں کو کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور بجلی مہنگی ملتی ہے، جس سے فی ایکڑ پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ جب کاشتکار کے اخراجات بڑھتے ہیں تو اس کا اثر منڈی میں آنے والی اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ اگر کسان کو مناسب سہولیات، سستی زرعی اشیاء اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے تو نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ غذائی اشیاء کی قیمتوں کو بھی کسی حد تک متوازن رکھا جا سکتا ہے۔
مہنگائی صنعتی شعبے کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب بجلی، گیس اور خام مال مہنگا ہو جاتا ہے تو کارخانوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، فروخت کم ہوتی ہے اور بعض صنعتیں پیداوار محدود کرنے یا مزدوروں کی تعداد کم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یوں مہنگائی بے روزگاری کو جنم دیتی ہے اور بے روزگاری مزید معاشی مشکلات پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس سے نکلنے کے لیے مربوط اور دیرپا معاشی حکمتِ عملی ضروری ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ایک اہم پہلو ذہنی دبائو بھی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکے، ایک ماں گھر کا بجٹ سنبھالنے میں ناکام ہو جائے یا نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار حاصل نہ کر سکے تو مایوسی اور بے چینی بڑھتی ہے۔ معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے، جرائم میں اضافہ ہو سکتا ہے اور لوگوں کا مستقبل پر اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں معاشی استحکام کو صرف ترقی کا نہیں بلکہ سماجی امن کا بھی بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
حکومتوں کی کامیابی کا اندازہ صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ عام شہری کی زندگی میں کتنا آسانی پیدا ہوئی۔ اگر بازار میں ضروری اشیاء مناسب قیمت پر دستیاب ہوں، روزگار کے مواقع بڑھیں، کاروبار کو فروغ ملے اور عوام کی قوتِ خرید بہتر ہو تو یہی حقیقی معاشی ترقی کہلائے گی۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی سازی میں طویل المدتی سوچ اپنائی جائے، پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔
معاشی استحکام کا خواب صرف اعداد و شمار بہتر ہونے سے پورا نہیں ہوتا بلکہ اس وقت حقیقت بنتا ہے جب اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی میں بھی محسوس ہوں۔ اگر ملکی معیشت کی ترقی کی خبریں تو سامنے آئیں مگر عام شہری کی دسترخوان پر روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج اور رہائش کے مسائل بدستور موجود رہیں تو ایسی ترقی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشی منصوبہ بندی کا مرکز صرف مالیاتی اہداف نہ ہوں بلکہ عوامی فلاح کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔
مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت کو صرف وقتی اقدامات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ وقتی سبسڈیز یا ریلیف پیکجز وقتی سہارا تو دے سکتے ہیں، لیکن پائیدار حل اس وقت ممکن ہے جب ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، زراعت اور صنعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں اور کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کے نظام کو اس انداز سے ترتیب دینا ضروری ہے کہ بوجھ غیر ضروری طور پر عام صارف پر منتقل نہ ہو بلکہ معاشی انصاف کو فروغ ملے۔
ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری بھی مہنگائی کو بڑھانے والے اہم عوامل ہیں۔ جب کچھ عناصر مصنوعی قلت پیدا کر کے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھاتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ موثر نگرانی کریں، قانون پر سختی سے عمل درآمد کرائیں اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں۔ منڈیوں میں شفافیت اور مسابقت کو فروغ دینا بھی قیمتوں کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
نجی شعبے کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ صنعت کار، تاجر اور کاروباری طبقہ اگر قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب منافع اور معیاری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنائیں تو معاشی استحکام میں ان کا کردار نمایاں ہو سکتا ہے۔ کاروبار صرف منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ایماندارانہ تجارت اور صارفین کے حقوق کا احترام ایک مضبوط معیشت کی بنیاد بنتا ہے۔
اس کے ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ غیر ضروری اخراجات سے بچنا، مقامی مصنوعات کو ترجیح دینا، ٹیکس قوانین کی پاسداری کرنا، بجلی، گیس اور پانی کا محتاط استعمال اور افواہوں کی بنیاد پر غیر ضروری خریداری سے گریز کرنا ایسے اقدامات ہیں جو اجتماعی طور پر معاشی دبا کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ معاشی نظم و ضبط صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے ایک بھرپور صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ اگر ان وسائل کو درست منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی، بہتر تعلیم، فنی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بروئے کار لایا جائے تو نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ قومی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ برآمدات میں اضافہ، درآمدات پر غیر ضروری انحصار میں کمی اور مقامی صنعتوں کی سرپرستی ایسے اقدامات ہیں جو مہنگائی کے دبا کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
تعلیم اور ہنرمندی پر سرمایہ کاری بھی معاشی استحکام کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان نہ صرف اپنے لیے بہتر روزگار حاصل کر سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دی جائے اور انہیں کاروبار شروع کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو بے روزگاری میں کمی آئے گی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
اسی طرح سماجی تحفظ کے موثر نظام کی بھی ضرورت ہے تاکہ کمزور اور مستحق طبقے کو مشکل حالات میں سہارا مل سکے۔ شفاف اور مستحقین تک پہنچنے والے فلاحی پروگرام مہنگائی کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں، تاہم ان کا مقصد مستقل انحصار پیدا کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو خود کفیل بنانے میں مدد دینا ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کے مسئلے کا کوئی ایک جادوئی حل موجود نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ معاشی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے تسلسل، دانشمندانہ پالیسی سازی، ادارہ جاتی اصلاحات، سیاسی استحکام اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب معاشی فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں، قانون کی بالادستی یقینی ہو، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور عوام کو یقین ہو کہ ان کی مشکلات کو سنجیدگی سے سمجھا جا رہا ہے، تب ہی مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پاکستان نے اپنی تاریخ میں کئی مشکل معاشی ادوار دیکھے ہیں اور ہر بار قومی عزم اور اجتماعی کوششوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مایوسی کے بجائے حقیقت پسندی، محنت اور اجتماعی ذمہ داری کا راستہ اختیار کریں۔ حکومت موثر معاشی اصلاحات نافذ کرے، نجی شعبہ اپنی سماجی ذمہ داری ادا کرے، متعلقہ ادارے قانون پر سختی سے عمل کرائیں اور عوام بھی قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ اسی مشترکہ سوچ اور عملی اقدامات کے ذریعے مہنگائی کے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے اور ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے جہاں معاشی ترقی کے ثمرات صرف اعداد و شمار تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر شہری کی زندگی میں بہتری، آسودگی اور امید کی صورت میں نمایاں ہوں۔





