
تحفظ
محمد مبشر انوار
امریکی معیشت کا بیشتر دارومدار ہتھیاروں کی صنعت سے ہے اور اس سے آمدنی کا ذریعہ ایک طرف دنیا میں مسلسل جنگوں سے ممکن ہے تو دوسری طرف کمزور مگر مضبوط و مستحکم ممالک کو خوف میں رکھ کر ان کو زمانہ امن میں بھی ہتھیاروں کی فروخت سے ممکن ہے۔ اس کا اظہار ہم کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کی متمول ریاستوں کے ساتھ ہوتا دیکھ رہے ہیں البتہ ماضی کے صدور کی نسبت صدر ٹرمپ کا طریقہ کار انتہائی سیدھا اور جارحانہ دکھائی دیتا ہے، جس میں کوئی رکھ رکھائو یا پس پردہ مذاکرات دکھائی نہیں دیتے بلکہ وہ ہر بات انتہائی صاف، منہ پھٹ طریقے سے اپنے سامنے بیٹھی شخصیت پر دے مارتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ وہ کسی سفارتی انداز کے قائل نہیں بلکہ دوٹوک جارحانہ بلکہ زیادہ مناسب الفاظ میں کہیں تو منہ پھٹ اور بدتمیزی کے انداز میں دوسرے فریق کو اس کی حیثیت جتلا دیتے ہیں، ویسے تو امریکہ نے سرد جنگ کے دور میں بھی اور اس کے علاوہ بھی ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی مخالف کرہ ارض پر موجود رہے، جس کو جواز بنا کر وہ دیگر ممالک کو اپنے ساتھ شامل کر سکیں اور ان کو خوف دلا کر اپنے ہتھیاروں کو بیچ کر اپنی معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھے۔ یہی صورتحال مشرق وسطیٰ میں دیکھی جا سکتی ہے کہ ایک طرف تو انتہائی غیر منصفانہ طریقے سے پہلے یہاں ایک ناجائز ریاست کو خطہ عرب کے سینے میں پیوست کر دیا، جو مسلسل خطہ عرب کے مسلمانوں کو خون نہ صرف چوس رہی ہے بلکہ ان کا خون بھی بہا رہی ہے، ان کے سینے پر مونگ دل رہی ہے اور مسلم ممالک کی اتنی ہمت نہیں کہ اس کے خلاف بروئے کار آ سکیں کہ جیسے ہی کوئی مسلم ریاست اس ناجائز ریاست کے خلاف بروئے کار آنے کی کوشش کرتی ہے، امریکہ اس ناجائز ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا ہو کر، ایسی مسلم ریاست کے خلاف سربکف ہو جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ کسی بھی مسلم ریاست، بالخصوص مشرق وسطیٰ کی ریاستوں میں، میں اتنی استعداد نہیں کہ وہ ازخود اسرائیل کی ان چیرہ دستیوں کا مقابلہ کر سکیں بلکہ ماضی کی تلخ جنگوں کے بعد ان ریاستوں کو ایک طرف اسرائیل کا ہوا دکھایا گیا تو دوسری طرف انہیں ایران سے خوفزدہ کیا گیا، جس میں بنیادی عنصر مسلک کا تو تھا ہی لیکن عرب و عجم کا تڑکہ بھی لگایا گیا اور خلیج کی ان ریاستوں کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ امریکہ کی دست نگر بن کر رہیں وگرنہ ان کو دو اطراف سے خطرہ رہے گا مگر امریکہ نے کبھی بھی ان مشرق وسطی کی ریاستوں کو دفاع کے معاملے میں خودکفالت کی طرف نہیں جانے دیا بلکہ عراق جنگ مقصد ہی یہی نظر آتا ہے کہ یہاں اپنی موجودگی کو طویل عرصے تک ممکن بنایا جاسکے۔ دوسری طرف ایسا نہیں کہ ایران کو، اپنے پروردہ شاہ ایران کے بعد سے کلیتا آزاد کر دیا گیا ہو بلکہ مسلسل ایران کو زیر دست رکھنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور ہمیشہ ناجائز طور پر ایران کے حقوق کو سلب کیا جاتا رہا ہے، اس کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لئے، اس پر بے جا اقتصادی پابندیاں لگائی گئی ہیں، اس سب کے باوجود ایران نے کبھی امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا تاآنکہ یہ موجودہ جنگ ایران پر مسلط کر دی گئی، اس کے باوجود ایران ابھی تک خم ٹھونک کر میدان میں کھڑا ہی نہیں بلکہ امریکہ کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچا رہا ہے۔
بظاہر یہ دکھائی دیتا تھا کہ جس قدر جدید ہتھیار امریکہ کے پاس ہیں، اور جو منصوبہ امریکہ کا تھا اس کے مطابق ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ چند دنوں میں ہی ایران کو زیر کر لیتا لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ ایران پر مسلط کردہ جنگ اب امریکہ کے گلے کا طوق بن چکی ہے، اپنے جدید ترین ہتھیار، جن میں سب سے اہم اور جن پر امریکہ کو بڑا ناز ؍ زعم تھا، سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے جنگی جہاز، ڈرونز، بحری بیڑے کی بے پناہ طاقت اور سب سے بڑھ کر خطے میں اس کے فوجی اڈے، جہاں سے وہ ایران پر ہمہ جہتی وار کر سکتا تھا۔ ایران کا قصور صرف اتنا تھا کہ ایران غزہ میں بے بس اور نہتے مسلمانوں کی مدد ،حمایت سے دستبردار نہیں ہو رہا تھا بلکہ اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر،اس کو بھرپور جواب دینے کے لئے تیار تھا اور ہے،جبکہ اسرائیل کو یہ کسی بھی صورت قابل قبول نہ تھالہذا ایران پر مختلف محاذوں سے دباؤ بڑھانے کی کوششیں کی گئی کہ ایران اپنی حد میں رہے اور غزہ میں اسرائیلی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، جسے ایران کسی بھی صورت قبول کرنے کے لئے نہ کل تیار تھا اور نہ آج تیار ہے۔ اس انکار میں ایران نے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا، خواہ اپنی اعلیٰ قیادت ہو یا اپنے سفارتی مشن پر حملہ ہو، گھر آئے مہمانوں کی جاسوسی کی بنیاد پر شہادت ہو یا اپنے ایٹمی سائنسدانوں کی جانوں کے نذرانے ہوں، ایران نے کسی بھی مرحلے پر کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا دکھائی دیا۔ ایران کے اس روئیے سے اسرائیل و امریکہ کو یہ گمان گزرا کہ اگر ایران پر حملہ کیا جائے تو ایران کو با آسانی زیر کیا جا سکتا ہے، مگر اللہ کریم فرماتا ہے کہ تم اپنے منصوبے بناتے ہو اور اللہ اپنے منصوبے اور بے شک اللہ کے منصوبے ہی کامیاب ہیں۔ ایران کو تر نوالہ سمجھ کر اس پر حملہ تو کر دیا گیا، اس پر جنگ تو مسلط کر دی گئی مگر ایران کے جوابی وار نے امریکہ و اسرائیل کے ہوش اڑا رکھی ہیں، البتہ یہاں ایک اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے اس منصوبے کا دوسرا پہلو زیادہ اہم ہے۔ اس کے مطابق، امریکہ و اسرائیل اس جنگ کو بھی اپنے خرچ پر لڑنے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ پس پردہ منصوبہ یہی تھا کہ مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کو یہ باور کروایا جائے کہ امریکہ دراصل ان کی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور ان خلیجی ریاستوں کو اس جنگ میں امریکہ کے شانہ بشانہ لڑنا چاہئے دوسری طرف ایران نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ایران کی جنگ کسی بھی خلیجی ریاست کے ساتھ نہیں البتہ اگر کسی خلیجی ملک نے امریکہ کو مدد فراہم کی ( زمینی، فضائی حدود میں معاونت کی، تو ایران کو حق حاصل ہو گا کہ وہاں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے) اور ایران اس جنگ میں یہی کر رہا ہے کہ وہ تمام امریکی فوجی اڈے، جہاں سے ایران پر حملے کئے جاتے رہے یا کئے جارہے ہیں، صرف ان کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ اس دوران اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کو الٹتا دیکھ کر فالس فلیگ آپریشن بھی کرتا رہا مگر خلیجی ریاستوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان فالس فلیگ آپریشن پر امریکی و اسرائیلی خواہشات کے برعکس ردعمل دیتے ہوئے، امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں کو منتقل کرنے کے لئے کہا اور اپنی زمین و فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ کویت، بحرین،متحدہ عرب امارات کی زمین اور فوجی اڈے مسلسل استعمال ہوتے رہے اور ایران ان فوجی اڈوں کو جوابی کارروائی میں نشانہ بناتا رہا ہے جبکہ قطر بھی کبھی استعمال ہوا اور کبھی نہیں لیکن قطر پر بھی ایران کی جانب سے بلاجواز حملے بلکہ جوابی کارروائی نہیں کی گئی۔ آخری ملک اردن بچا جہاں امریکہ اپنے تمام جنگی جہاز،ڈرون و دیگر اسلحہ منتقل کر چکا اور اردن کے فوجی اڈوں سے ایران کو نشانہ بنانا شروع کیا تو ایران نے اردن پر بھی کاری وار کئے اور ان فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ یہاں موجود امریکی اسلحہ کو نقصان پہنچایا۔
اس سارے کھیل میں، ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول باقاعدہ سنبھال لیا اور صدیوں سے آبی گزرگاہ، جسے تقریبا عالمی پانیوں کا درجہ حاصل تھا، ایران نے اس پر اپنا حق دعوی کر دیا اور یہاں سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو ایران کی پیشگی اجازت سے مشروط کر دیا ہے تو دوسری طرف عمان کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کرلیا کہ 23کلومیٹر کی اس سمندری گزرگاہ سے 5؍5کلو میٹر کی گزرگاہ ایران اور عمان کے حصہ میں آئے گی مگر دونوں راہداریوں میں سے ٹیکس وصول کیا جائیگا جبکہ عمان نے امریکی شہ پر اپنے حصہ کی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کو مفت گزارنا شروع کر دیا جو ایران سے معاہدے کی خلاف ورزی تھا تو دوسری طرف امریکی نیوی کی موجودگی میں ان جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کروانے کا مطلب یہ تھا کہ ایران کا کنٹرول آبنائے ہرمز پر ختم ہو چکا اور امریکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کر چکا ہے۔ اس مقصد کے لئے بھی امریکہ نے پہلے قطر کے جہاز، پھر سعودی عرب اور آخر میں امارات کے جہازوں کو بغیر ایرانی اجازت کے عبور کروانے کی کوشش کی، مگر تینوں کوششیں ایران نے ناکام بنا دیں لیکن اس سے خلیجی ریاستیں جو تاحال امریکی و اسرائیلی دام میں نہیں پھنسی تھی، کسی حد تک امریکی دائو میں پھنس چکی ہیں اور ان ریاستوں کو خودمختاری کا جھانسہ دے کراس جنگ میں اتارنے کی بھر پور کوشش ہو گی اور اس طرح ان ریاستوں کو اس جنگ میں دھکیل کر، اس جنگ کے اخراجات ان سے وصول کئے جائیں گے۔ دوسری طرف امریکہ نے ایک بار آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے اور اس کو صرف ایرانی جہازوں تک محدود کرتے ہوئے، دیگر تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت تو دی ہے مگر ان سے بیس فیصد ٹیکس وصول کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے، علاوہ ازیں یہ دعوی بھی کر دیا ہے کہ امریکہ چونکہ یہاں ’’ تحفظ‘‘ فراہم کر رہا ہے، لہذا اس کا معاوضہ اسے ملنا چاہئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ان ریاستوں میں موجود اپنے اڈوں کا تحفظ بھی نہیں کر پایا، اپنی نیوی کا یہ حال ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب نہیں آتی، تجارتی جہاز، جن کو ’’ تحفظ‘‘ کی ضمانت دی گئی، وہ بھی عرب ریاستوں کے، کسی یورپی جہاز کا رسک نہیں لیا گیا، مقصد مسلم ریاستوں کو آمنے سامنے لانا، البتہ ’’ تحفظ‘‘ صرف اپنے مفادات کا کیا جارہا ہے یا بقول ٹرمپ اسرائیل کا۔





