Column

ایران کے پاس آخری موقع؟ ٹرمپ کی دھمکی، عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل

ایران کے پاس آخری موقع؟ ٹرمپ کی دھمکی، عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل
غلام مصطفیٰ جمالی
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کا مرکزی موضوع بن چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ’’ ایران کے پاس آخری موقع ہے، ورنہ ایرانی قیادت کو ختم کر دیا جائے گا‘‘، نہ صرف سفارتی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے بلکہ اس نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ کیا بین الاقوامی تنازعات کا حل طاقت کے ذریعے نکالا جائے گا یا سفارت کاری کے ذریعے۔ ایسے بیانات محض سیاسی نعرے نہیں ہوتے بلکہ ان کے اثرات عالمی امن، معیشت، توانائی، تجارت اور خطے کے مستقبل تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد قریباً ختم ہو گیا۔ اس کے بعد پابندیاں، جوہری پروگرام، خلیج میں فوجی موجودگی، علاقائی تنازعات اور پراکسی کشیدگی دونوں ممالک کے تعلقات کا مستقل حصہ بن گئے۔ ہر امریکی حکومت نے ایران کے حوالے سے مختلف حکمت عملی اپنائی، مگر مکمل اعتماد کی فضا کبھی قائم نہ ہو سکی۔ ٹرمپ کے دور میں ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں اور جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ غزہ کی صورتحال، شام میں عدم استحکام، لبنان کی داخلی کشیدگی، یمن کا بحران اور خلیج میں طاقت کا توازن ایسے عوامل ہیں جنہوں نے پورے خطے کو حساس بنا رکھا ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کی نوبت آتی ہے تو اس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
امریکی قیادت کا موقف یہ ہے کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام اس کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ یہی بنیادی اختلاف دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکے ہوئے ہے۔ جب دونوں فریق ایک دوسرے کی نیت پر ہی اعتماد نہ کریں تو مذاکرات کی کامیابی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں طاقت کا استعمال کوئی نئی بات نہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے حاصل کی گئی کامیابیاں اکثر عارضی ثابت ہوئی ہیں۔ عراق، افغانستان اور لیبیا میں فوجی کارروائیوں نے اگرچہ وقتی سیاسی تبدیلیاں ضرور پیدا کیں، لیکن ان ممالک کو طویل عدم استحکام، دہشت گردی، معاشی تباہی اور انسانی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ماہرین مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سفارت کاری اور مذاکرات ہی دیرپا امن کا راستہ ہیں۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو سب سے پہلے عالمی توانائی کی منڈیاں متاثر ہوں گی۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کو تیل اور گیس فراہم کرنے والا اہم خطہ ہے۔ کسی بھی بڑے تصادم سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑے گا۔ مہنگائی میں اضافہ، صنعتی لاگت میں اضافہ، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بالآخر عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی ایسی صورتحال نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکا اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات موجود ہیں۔ اس لیے پاکستان کو کسی بھی ممکنہ تنازع میں انتہائی متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔ پاکستان کی اولین ترجیح علاقائی امن، اقتصادی استحکام اور سفارتی توازن ہونی چاہیے۔ یہی حکمت عملی ملک کے قومی مفاد کے لیے موزوں ہو سکتی ہے۔
عالمی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ، کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اگر عالمی ادارے کشیدگی کم کرانے میں موثر کردار ادا نہ کر سکیں تو ان کی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کو بھی چاہیے کہ وہ طاقت کے بجائے مذاکرات، ثالثی اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دیں تاکہ خطہ کسی نئی جنگ کی طرف نہ بڑھے۔
ایران کی داخلی سیاست بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کرے گی۔ بیرونی دبائو کے ماحول میں اکثر ممالک کے اندر قومی یکجہتی بڑھ جاتی ہے، جبکہ بعض اوقات معاشی مشکلات عوامی بے چینی میں بھی اضافہ کر دیتی ہیں۔ دوسری طرف امریکا میں بھی خارجہ پالیسی ہمیشہ داخلی سیاست سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کے سیاسی فیصلے صرف بین الاقوامی عوامل پر نہیں بلکہ داخلی سیاسی حالات پر بھی منحصر ہوتے ہیں۔
اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بحری راستوں پر خطرات بڑھنے سے بین الاقوامی تجارت کی لاگت میں اضافہ ہوگا، انشورنس کے اخراجات بڑھیں گے اور عالمی سپلائی چین مزید دبائو کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات ایشیا، یورپ اور افریقہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام انسان کو ہوتا ہے۔ جنگیں سیاسی رہنما شروع کرتے ہیں، لیکن ان کی قیمت عام شہری اپنی جان، روزگار، تعلیم، صحت اور مستقبل کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں، معیشتیں کمزور ہوتی ہیں اور ترقی کے سفر کو برسوں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ امریکا اور ایران دونوں تحمل کا مظاہرہ کریں۔ سخت بیانات وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں، لیکن مستقل امن صرف اعتماد، مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔ دنیا کو اس وقت نئے محاذوں کی نہیں بلکہ تعاون، اقتصادی استحکام اور اجتماعی ترقی کی ضرورت ہے۔
اگر عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، اقوام متحدہ موثر کردار ادا کرے اور خطے کے ممالک امن کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تو موجودہ کشیدگی کو بڑے بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر ایک نئی جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت، امن اور انسانی مستقبل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کی زبان کے بجائے سفارت کاری، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔ عالمی سیاست میں مستقل امن اسی وقت ممکن ہے جب اختلافات کو دھمکیوں سے نہیں بلکہ مذاکرات اور انصاف کے اصولوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہی راستہ انسانیت، خطے اور پوری دنیا کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button